0

غیبت امام زمان(عج) ( قسط 11 )

  • News cod : 21618
  • 30 آگوست 2021 - 18:35
غیبت امام زمان(عج) ( قسط 11 )
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مسکن اور مکان کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے اور فقط خیال و گمان کی بنیاد پر ہے،خود حضرت امام مہدی(عج) کا پردۂ غیبت میں رہنا اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ غیبت کے زمانے میں زندگی گزارنے کے لئے کوئی خاص جگہ اور مکان معین نہیں ہے ، بلکہ زمانۂ غیبت میں آپ مختلف مکانوں اور شہروں میں ناشناس طور پر زندگی گزارتے ہیں ۔( بحار الانوار, جلد 52 ,صفحہ 153،158 )

سلسلہ بحث مہدویت
تحریر: استاد علی اصغر سیفی (محقق مہدویت)
بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ
غیبت کے زمانے میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مکان اور مسکن کہاں ہے؟کیا جزیرہ خضراء اور برمودا کی مثلث حقیقت رکھتی ہے؟
جواب : ۱۔حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مسکن اور مکان کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے اور فقط خیال و گمان کی بنیاد پر ہے،خود حضرت امام مہدی(عج) کا پردۂ غیبت میں رہنا اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ غیبت کے زمانے میں زندگی گزارنے کے لئے کوئی خاص جگہ اور مکان معین نہیں ہے ، بلکہ زمانۂ غیبت میں آپ مختلف مکانوں اور شہروں میں ناشناس طور پر زندگی گزارتے ہیں ۔( بحار الانوار, جلد 52 ,صفحہ 153،158 )
بعض روایات کی رو سے آپ مدینہ یا اسکے اطراف میں ساکن ہیں ( تفسیر عیاشی, جلد 2 ,صفحہ 152)
۲۔جہاں تک “خضرا نامی جزیرہ”کا تعلق ہے تو ، اس داستان کو علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں نقل کیا ہے ، لیکن شیعہ علما اور دانشوروں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور مذکورہ داستان کے معتبر نہ ہونے پر دلایل پیش کئے ہیں(اس سلسلہ میں تفصیل کے شاثقین حضرات کے لئے بہترین کتاب علامہ ابراہیم امینی کی کتاب “داد گستر جہان ” جو “آفتاب عدالت”کے نام سے اردو میں بھی چھپ چکی ہے)ہم یہاں پر اس داستان کے معتبر نہ ہونے کی وجوہات میں سے کچھ وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
1-اس داستان کے راوی نے دعوی کیا ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) اپنی اولاد کے ساتھ اس سر سبز و شاداب جزیرہ میں بہت ہی آرام اور خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں! اور یہ بات اہل بیت اور ائمہ اطہار کی سیرت کے خلاف ہے ، جو ہمیشہ معاشرہ کے عام لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے اور سختی اور مشکلات میں لوگوں کے ساتھ ہوتے تھے ، اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے ماننے والے اور شیعہ تو اتنی سختی کے ساتھ زندگی گزاریں اور آپ اپنی اولاد اور خاندان کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزاریں؟
2-دوسرا یہ کہ مذکورہ داستان میں بہت ہی متناقض باتیں پائی جاتی ہے ۔
3-تیسرا یہ کہ اس داستان میں”تحریف قرآن” یعنی قرآن میں کمی بیشی ہونے پر تصریح کی گئی ہے جو کسی بھی صورت میں شیعہ عقیدہ سے سازگار نہیں ہے ، اور اسی طرح یہ بات نصّ قرآنی کے خلاف ہے ، لہٰذا قابل اعتبار نہیں ہے ۔
4-مذکورہ داستان کی راوی مجہول الحال ہیں اور اس کی حقیقت معلوم نہیں ہے کہ وہ کون ہے اور کہاں کے رہنے والا ہے و … کیونکہ رجال اور حدیث کی کتابوں میں مذکورہ شخص کے بارے میں ذکر نہیں ہوا ہے۔
5-اور سب سے اہم یہ کہ خود علامہ مجلسی (رہ) مذکورہ داستان کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے اس داستان کو ایک خطی نسخے سے نقل کر رہا ہوں ، لیکن کسی معتبر کتاب میں یہ داستان نقل نہیں ہوا ہے (اس لئے میرے نزدیک بھی یہ داستان قابل اعتبار نہیں ہے )۔
6-جہاں تک مثلث برمودا کا تعلق ہے ، امریکا کے نزدیک سمندر میں تقریباً ۳۶۰ چھوٹے جزیرے پائے جاتے ہیں ، کہ ان میں سے ۲۰ جزیروں پر لوگ زندگی گزار رہے ہیں ، اور ان چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مجموعہ کو “جزیرۃ برمودا “کہتے ہیں ۔
7-جب ہم جزیرۃ خضرا کے قائلین سے پوچھتے ہیں، اگر ایسا کوئی جزیرہ اس روی زمین پر موجود ہے تو ابھی تک کسی نے اس کو کیوں نہیں دیکھا ہے ؟ تو جواب دیتے ہیں کہ خدا قادر ہے لہٰذا ممکن ہے کہ معجزانہ طور پر اس جزیرے کو لوگوں کی نظروں سے غائب رکھے اور کوئی اس کو نہ دیکھ سکے ! ان لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ اگر خداوند متعال معجزہ کے ذریعہ اس جزیرہ کی حفاظت فرما رہا ہے تو پھر آیا ممکن ہے وہی خدا ، اس جزیرہ سے قریب ہونے والی کشتیوں اور جہازوں کو نابود کرکے بے گناہ لوگوں کو قتل کرتا ہے؟جیسا کہ مذکورہ داستان اس بات پر تصریح کی گی ہے ؟کیا اس جزیرہ سے گذرنے والے سب کے سب اللہ تعالی اور امام زمانہ(عج) کے دشمن ہیں؟اور جو بھی وہاں سے گذرے کیا ان سب کو خدا یا امام زمانہ (عج)خدا کے حکم اور معجزہ سے نیست و نابود کردیتے ہیں؟
یہ بات نہ دین اسلام کے اصولوں سے سازگار ہے اور نہ خداوند متعال اور امام زمانہ(ع)کی محبت و عطوفت سے ، بلکہ یہ داستان اسلام کے قوانین اور امام زمانہ علیہ السلام کی شخصیت کو خدشہ دار بنا دیتی ہے ۔
8- ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ جزیرہ خضراء کی داستان حدیث و روایت ہی نہیں ہے کہ مورد توجہ قرار پائے ساتویں یا آٹھویں صدی کے ایک شخص کا خیالی افسانہ ہے اور وہ صحیح احادیث کے خلاف ہے کہ جو کہتی ہیں کہ امام زمان عج کی غیبت میں خاص جگہ نہیں بلکہ آپ سفر میں ہیں اور وہیں رھتے ہیں جہاں مومنین رہتے ہیں یا کہتی ہیں کہ آپ بیشتر مدینہ اور اسکے اطراف میں ساکن ہیں.
مختصر یہ کہ ، جزیرہ برمودا کے نام سے ایک جزایر کامجموعہ پایا جاتا ہے لیکن یہ جزیرہ ، جزیرہ خضرا نہیں ہے ، حقیقت میں جزیرہ خضرا ایک خیالی داستان ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ شیعہ علما اور دانشور حضرات اس داستان کو قبول نہیں کرتے ، یہاں تک کہ خود علامہ مجلسی(رہ) بھی اس داستان کے معتبر نہ ہونے کا صراحت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں (جزیرہ خضراء کے)بارے میں ،شاثقین حضرات علّامہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی کتاب “جزیرہ خضراء افسانہ یا واقعیت ؟ کا مطالعہ کرسکتے ہیں)

(جاری ہے….)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=21618