0

مسلمانوں کے خلاف کفار کا طرز عمل (قسط1)

  • News cod : 22907
  • 29 سپتامبر 2021 - 16:30
مسلمانوں کے خلاف کفار کا طرز عمل (قسط1)
آج پردہ ہم میں ختم ہو گیا ہے۔ یہ درحقیقت استعمار کی سازش تھی ۔ اس نے ہمارے ذہن میں ڈال دیا ہے کہ ترقی یا فتہ بننا چاہتے ہو تو چادر کو اتاردو ۔ عورتیں سر ننگے ہو جائیں۔ عورت کے سر پر اگر چادرہے تو پھر وہ ڈرامہ بن جائے گئی، پھر تو گویا جانوروں کی طرح اس کو ہم نے بند کر رکھا ہے ۔ لہذا عورتوں کو کھلا چھوڑ دو ۔ جتنا لباس ان کا کم ہو گا ، اتنا ترقی یافتہ بن جائو گے۔ لباس میں جتنی کمی ہو گی اتنے ماڈرن بن جاو گے ۔

مسلمانوں کے خلاف کفار کا طرز عمل (قسط1)

آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی

جب مسلمان لہو و لعب میں مشغول ہو گئے ،کافر بیٹھے ،انہوں نے مشورہ کیا ،سوچ و بچار کیا کہ اسلام کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے ؟اسلام کے مقابلے کے لیے انہوں نے پالیسی بنائی اور یہ پالیسی بنتی رہی ،صلیبی جنگیں ہوتیں رہیں ،مسلمان مارتے بھی رہے اور مار کھاتے بھی رہے

اسلام کو کمزور کرنے کیلئے سازشیں

(۱)قبائلیت ،وطنی تعصب کا رسوخ
سب سے پہلے طاغوت نے قبائلیت ،وطنی تعصب اور امتیازات کو ہوا دینا شروع کر دیا ۔ اسلام نے امتیازات ختم کر دئیے تھے۔ اسلام نے کہا تھا دیکھو تم عورت اور مرد سے پیدا ہوئے ہو اور اصل میں مٹی سے پیدا ہوئے ہو ،تم میں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہے ،اصل امتیاز تقویٰ ہے ۔پرہیزگار بنوگے،اچھے بن جاو گے ،پرہیزگار نہیں بنوگے ، کچھ بھی نہیں ہوگا۔(حجرات۱۳)
انہوں نے کیا کام کیا؟غیروں نے مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے لئے سب سے پہلے امتیازات اور قبائلیت کو بھڑکایا، میرا فلاں قبیلہ کے ساتھ تعلق ہے اس کا فلاں قبیلہ کے ساتھ تعلق ہے ۔میں سوچ رہا ہوں فلاں مغل ہے اور فلاں سید ہے فلاں اس طرح ہے ان چیزوں کو لوگوں میں اس طرح ڈالا کہ وہ اسلام کی وحدت کو بھول گئے۔اسلام نے جو امتیازات ختم کیے تھے ،اور حجۃالوداع کے موقعہ پر رسول اﷲؐ نے فرمایا تھا کہ جاہلیت کے جتنے امور ہیں ان سب کو میں پائوں کے نیچے روند رہا ہوں۔ اب اس کے بعد نہ عرب کو عجم پر فضلیت حاصل ہے، سب کے سب حاضر ہیں۔ سب مسلمان ہیں اور قرآن مجید کی آیت پڑھی
یا ایھا الناس انا خلقنا کم من ذکر وانثی وجعلنا کم شعوبا وقبائل لتعار فو ان اکرمکم عند اﷲ اتقاکم۔(حجرات ۱۳)
ہم نے پہلے شعبے شعبے بنائے،قبائل بنا دئیے ، لتعارفوا تاکہ تمہاری پہچان ہو ۔ان اکرمکم عند اﷲ اتقا کم تم میں معزز وہ ہو گا جو زیادہ متقی اور پر ہیز گار ہے ۔ لہذا غیروں نے امتیازات کو بھڑکایا غیروں نے قبائلیت کو بھڑکایا اور قبائلیت ہم میں اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ ایک قوم پوری دلیر ہے وہ مدد کرنا چاہتی ہے مگر پہلے مدد اپنی قوم کی کرے گی پھر دیکھیں گے کہ اور کسی کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔ ایک قوم میں ایک قبیلے میں اگر کوئی افسر بن جاتا ہے تو پہلے پہلے اس کی کوشش یہ ہو گی کہ اپنے خاندان کو ترقی دے ،اگر اس سے کچھ بچ گیا تو بطور صدقہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ پہلی توجہ انسان کی اپنے قبیلے کی طرف ہے پہلی توجہ انسان کی اپنے امتیازات کی طرف ہے ۔ پہلی توجہ انسان کی آسمان کی طرف ہے۔
(۲)منکرات اور فحشا کا پھیلائو۔
دوسرا کام جو غیروں نے سوچا ، مشرق ومغرب کے استعمار نے سوچا، باقاعدہ اس کے لئے ستر اسی سال کام کیا ۔ عربوں کی ذہنیت سمجھی گئی کہ وہ کیا ہیں ؟ جتنا ہو سکتا ہے مسلمانوں میں برائی پھیلاو ، منکرات پھیلاو ، فحشاپھیلاو ، ناچ گانا ، شراب خوری ،زنا کو جتنا ہو سکے پھیلاو۔
آج پردہ ہم میں ختم ہو گیا ہے۔ یہ درحقیقت استعمار کی سازش تھی ۔ اس نے ہمارے ذہن میں ڈال دیا ہے کہ ترقی یا فتہ بننا چاہتے ہو تو چادر کو اتاردو ۔ عورتیں سر ننگے ہو جائیں۔ عورت کے سر پر اگر چادرہے تو پھر وہ ڈرامہ بن جائے گئی، پھر تو گویا جانوروں کی طرح اس کو ہم نے بند کر رکھا ہے ۔ لہذا عورتوں کو کھلا چھوڑ دو ۔ جتنا لباس ان کا کم ہو گا ، اتنا ترقی یافتہ بن جائو گے۔ لباس میں جتنی کمی ہو گی اتنے ماڈرن بن جاو گے ۔

نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم کا سلسلہ بھی اسی طرح شروع ہوا ، آزادی دی گئی اور وہ آزادی اتنی دی گئی کہ گھر کا ماحول خراب ، گھر کا معاشرہ خراب ، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پورے کا پورا معاشرہ خراب ہے ۔یہ اس لئے کہ اخلاق کی طاقت جتنی زیادہ ہو ۔ کردار جتنا بلند ہو انسان اتنا طاقتور ہوتا ہے جتنا کردار پست ہو اتنا انسان کمزور ہوتا ہے۔
لہذا کوشش کی گئی منکر و فحشا اتنی پھیلا دی جائیں ، مسلمانوں میں شراب اس طرح پھیلا دی جائے جیسے لوگ بوتلیں پیتے ہیں مسلمانوں میں غلط چیزیں اس طرح پھیلا دی جائیں حرام خوری اس طرح پھیلا دی جائے اور غلط چیزیں ملاوٹ وغیرہ اس طرح پھیلا دی جائیں کہ جتنی یہ چیزیں پھیلیں گی اتنی مسلمانوں میں روحانیت ختم ہو گی کردار کمزور ہوگا اخلاق کمزور ہو گا جتنا کمزور ہو جائے گا اتنے مسلمان بچارے کمزور ہوجائیں گے۔نتیجہ یہ ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے مسلمانوں میں اتنی غلط کاری نہیں تھی، جتنی آج مسلمانوں میں ہیں ۔اگرچہ آج علم موجود ہے آج ہمارا طبقہ پڑھا لکھا ہے دونوں قسم کی تعلیم ان کے پاس ہے۔ لیکن آج اگر بُرائی نہ ہو وہ شرم محسوس کرتا ہے کہ میں کس زمانے میں بات کر رہا ہوں ۔آ ج کے زمانے میں،ان چیزوں کے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں تقدس ، پرہیزگاری ،تہجد گزاری بھی ہمیں غلطیوں سے مانع نہیں ہوتیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ برائیاں بڑھیں استعمار نے کہا امتیازات و قبائیلت کو ہوادی جائے ،برائیاں اور زیادہ بڑھا دی جائیں۔ اب جتنی برائیاں بڑھیں گی،اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں میں اتنی ہی کمزوری پیدا ہو گی۔اسلام کمزور ہو گا جب اسلام کمزور ہو گا اس پر عمل نہیں ہوگا مسلمان خود بخود کمزور ہو جائیں گے۔ استعمار نے جن چیزوں کو سوچا تھا ان تمام کو تو بیان نہیں کر سکتا البتہ بعض اہم کی طرف اشارہ ضرور کروں گا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=22907