امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں
فِي صِفَةِ الدُّنْيَا: تَغُرُّ، وَ تَضُرُّ، وَ تَمُرُّ؛ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَهَا ثَوَاباً لِأَوْلِيَائِهِ، وَ لَا عِقَاباً لِأَعْدَائِهِ؛ وَ إِنَّ أَهْلَ الدُّنْيَا كَرَكْبٍ، بَيْنَا هُمْ حَلُّوا إِذْ صَاحَ بِهِمْ سَائِقُهُمْ، فَارْتَحَلُوا
آپ نے دنیا کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا ! یہ دھوکہ دیتی ہے. نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے. اللہ نے اسے نہ اپنے اولیاء کے ثواب کے لئے پسند کیا ہے اور نہ دشمنوں کے عذاب کے لئے. اہل دنیا ان سواروں کے مانند ہیں جنہوں نے جیسے ہی قیام کیا ہنکانے والے نے للکار دیاکہ کوچ کا وقت آگیا ہے اور پھر روانہ ہوگئے.
نہج البلاغہ حکمت ۴۱۵












