وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ،سمینار میں علماء کرام کے زندگینامہ پر مشتمل کتاب کواکب سیسکو کی رونمائی بھی کی گئی۔
سمینار کے پہلے خطاب کرتے ہوئے شیخ چمن آبادی صاحب نے مرحوم شیخ مھدی رح کی خدمات، احیاء دین اور معنوی کرامات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے واقعات بیان کیے جس پر سامعین داد دیے بغیر نہ رہ سکے ۔
انہوں نے شیخ صاحب کی اسلام دوستی، جذبہ ایثار، خدمت خلق اور مستجاب الدعوات کے حوالہ سے کئی ایک واقعات بیان کیے اور وہ تمام واقعات صرف انکے اپنے خاندان کے ساتھ پیش آئے تھے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیخ صاحب کی پوری زندگی کے روحانی واقعات کو بیان کرنا سوئی سے پہاڑ کھودنے کے مترادف ہیں۔
اسکے بعد شاعر اہلبیت ع شیخ نادم شگری صاحب نے سریلی آواز میں منقبت کے پھول نچھاور کیے۔
سمینار کے مرکزی خطیب سید سعید موسوی تھے آپ نے احیاء ثقافت اسلامی اور علماء کی ذمہ داری کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔
آپ نے ثقافت اسلامی کے احیاء کی ضرورت، اسکی راہ میں موجود مشکلات اور راہ حل پیش کیے اور علماء کرام سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ :ثقافت اسلامی کے احیاء صرف مقالات اور مضمون لکھنے سے نہیں بلکہ زمان ومکان شناس ہونے اور مناسب وقت پر اقدام کرنے سے ہی احیاء ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ثقافت فطرت سے جدا نہیں ہے۔
خطاب کے دوران شیخ مھدی اعلی اللہ مقامہ کی درخشاں زندگی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ احیاء ثقافت اسلامی کےلیے شیخ مھدی کی ذات نمونہ عمل ہے آپ نے کبھی ضرورت سے زیادہ مال امام عج کا استعمال کیا اور نہ دین پر کبھی اپنے نفس کو مقدم کیا۔تبھی تو مخالفین سمیت پورے اہل علاقہ آپ کی عظمت کا یک زبان قائل تھے۔
سیمینار کے آخر میں شیخ بشیر مقدسی نے شرکاء محفل کا شکریہ ادا کیا۔












