64

حضرت خدیجہ خواتین کے لیے ایک کامل نمونہ عمل

  • News cod : 32736
  • 12 آوریل 2022 - 8:10
حضرت خدیجہ خواتین کے لیے ایک کامل نمونہ عمل
حضرت خدیجہ اور رعایت آئین شوہر داری: تربیت اسلامی کاایک پہلو خواتین کو شوہر داری سیکھانا ہے، کیونکہ اگر ہم توجہ کریں تو بہت سے اختلافات شوہر اور بیوی کے درمیان، عورتوں اور جوان لڑکیوں کی بد اخلاقی کی وجہ سے ہیں، کہ جو ازدواجی زندگی سے متعلق آداب معاشرت کی رعایت نہ کرنے، اصول شوہرداری سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے ہےن حضرت خدیجہ ازدواجی زندگی میں ان اصولوں کی رعایت کرتی ،اپنے گھر کے سکون کو محفوظ رکھتی تھی۔

گل چہرہ جوادی

مقدمہ؛
حضرت خدیجہ( س) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی زوجہ شہر مکہ میں پیدا ہوئی۔ آپ کے والد خویلد بن اسد اور مادر گرامی فاطمہ بن اصم تھی۔ آپ کو اسلام سے پہلے ہی اخلاق حسنہ کی وجہ سے طاہرہ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، آپ دوران جاہلیت میں اور بعثت کے بعد خواتین عرب کے لیے برترین نمونہ تھیں اور آج بھی آپ کے فضائل اخلاقی اور کمالات معنوی کو خواتین اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں سکتی ہیں، رسول اکرم ص فرماتے ہیں؛
(افضل النساء اہل الجنہ خدیجہ بن خویلد)
يعني خدیجہ جنت کے افضل ترین جواتین میں سے ایک ہے. (مناقب امیر المومنین )
پس ہم اس عظیم خاتون کی زندگی کچھ گوشوں کی جانب شارہ کیاجاتاہے جو ہمارے معاشرہ میں خواتین کے لئے نمونہ عمل بن ہے۔

حضرت خدیجہ اور رعایت آئین شوہر داری:
تربیت اسلامی کاایک پہلو خواتین کو شوہر داری سیکھانا ہے، کیونکہ اگر ہم توجہ کریں تو بہت سے اختلافات شوہر اور بیوی کے درمیان، عورتوں اور جوان لڑکیوں کی بد اخلاقی کی وجہ سے ہیں، کہ جو ازدواجی زندگی سے متعلق آداب معاشرت کی رعایت نہ کرنے، اصول شوہرداری سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے ہےن حضرت خدیجہ ازدواجی زندگی میں ان اصولوں کی رعایت کرتی ،اپنے گھر کے سکون کو محفوظ رکھتی تھی۔

ہم حضرت خدیجہ کے بعض اصول وکردار کو بیان کریں گے۔

اظہار محبت :
آپ ہر مناسب وقت اور فرصت میں اپنے ہمسر گرامی حضرت رسول اکرم صلی سے اپنی پیار اور محبت کا اظہار کرتی اور رسول اللہ کے لئے اپنی محبت کو اشعار کی صورت میں یوں بیان کیا کرتی تھی۔
فلو انني أمشيت في كل نعمة
ودامت لي الدنيا وملك الاكاسرة
فما سويت عندي جناح معوضة
اذا لم يكن عيني لعينيك ناظرة
(مستدرک سفینة البحار، ج 5،ص، 24)
ترجمه؛ اگر دنیا کی تمام نعمتیں اور بادشاہوں کی تمام تر سلطنت میرے پاس ہو تو میرے لیے کوئی قدروقیمت نہیں رکھتی جب تک آپ کی دیدار نہ کروں.

شوہر کی دلجویی اور دلداری:
ہر انسان اپنے خاندان میں سکون دیکھنا پسند کرتاہے۔ اور مرد جب گھر سے باہر کام کاج کے بعد گھر آتا ہے۔ روحی جسمانی تھکاوٹ کی۔وجہ۔سے چاہتا ہے کہ کوئی اس کی دلجوئی کرے، اس کی باتوں کو سنے،اس کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ اس کی تمام تر تھکاوٹ دور ہوجائے، حضرت خدیجہ س رسول اکرم ص کے لیے ایسے ہی ہمسر داری کیا کرتی تھی جب رسول خدا مشرکین کے آزار و اذیت سے ناراحت ہو کرگھر تشریف لاتے تھے تو آپ ان کی دلجوئی کرتی اور غم واندوہ کودور کرتی ، آپ نے اپنے مال،گفتار و کردار کے ذریعے رسول خدا صلی کی مدد کی اور رسول اللہ ص کو ان کے دکھ درد موقع پر ہمیشہ دلدرای دی۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہب فرماتے ہیں؛
خدیجہ وہ ہے کہ جب سب نے مجھ سے منہ پھیر لیاتو خدیجہ نے میرا ساتھ دیا، مجھ سے مہر و محبت کیا اور جب سب نے مجھے تکذیب کی مگر خدیجہ نے میری تصدیق کی مجھ پہ ایمان لائی۔۔(بحار الانوار، ج 34)

شوہر کے انتخاب میں برترین معیار :
ہر جوان کو اپنی زندگی میں شادی بیاہ کی ضرورت ہے، اور اسلام نے ازدواج کو ایک مقدس عملب اور عبادت قرار دیا ہے تاکہ شادی بیاہ کے ذریعے نسل کی بقا ہوسکیں، جنسی ضروریات کی تامین ہو، معاشرے میں امن و سکون برقرار ہو، اور اجتماعی امنیت حاصل ہو سکیں، جو نکتہ جوان لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے اہم ہے کہ اپنے شریک حیات کے انتخاب میں بہترین اور برترین معیار کومدنظر رکھنا ہے، اور حضرت خدیجہ تمام مسلمان عورتوں کے لیے نمونہ ہیں، آپ نے اپنے مستقبل کے ہمسفر کے انتخاب کے وقت جو معیار اور ملاک کوپیش نظر رکھی وہ رسول اللہ ص سے آپ س کی گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے،
جب حضرت خدیجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے ازدواج کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں تو آپ س فرماتی ہیں؛
کہ میں آپ ص کی خوش اخلاقی، لوگوں کے ساتھ امانت داری، صداقت کی وجہ سے آپ سے شادی کی خواہش رکھتی ہوں۔(کشف النعمہ ج، 2)

شوہر کا احترام کرنا :
حضرت خدیجہ س اپنے مال ودولت کو رسول اللہ پر خرچ کرنے کے باوجود کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام، حرکت یا کوئی ایسی بات نہیں کرتی جو رسول کی بے احترامی کا سبب بنے، جب رسول اللہ ص حضرت ابو طالب کے گھر سے واپس آتے تو آپ کہا کرتی تھیں۔
الي بيتك فبيتي بيتك وانا جاريتك ۔ تشريف لائیے، میرا گھر آپ کا گھر ہے اور میں آپ کی خادمہ ہوں. (سفینہ البحار ج، 16)

صالح اولاد کی تربیت :
بلا شک وتردید بچوں کی تربیت وپرورش میں ماں موثر ترین عامل ہے۔حضرت خدیجہ س نص قرآن کے لحاظ سے ہم سب مسلمانوں کی روحانی ماں ہونے کے ساتھ رسول اللہ ص کے بچوں کے لیے ایک شائستہ ماں بھی تھی، آپ نے نیک اور صالح اولاد کی تربیت کی۔ ان میں سے حضرت زہرا سلام اللہ کو ایک خاص مقام و منزلت حاصل ہے، حضرت زہرا سلام اللہ اپنی والدہ س سے بہت پیارو محبت کرتی تھی آپ اپنی والدہ کی وفات کے وقت 5 سال کی تھی مگربچپن میں آپ نے بہت بے تابی کی، گریہ کیا اور اپنے پدر بزرگوار کے گرد گھومتی تھی اور فرماتی تھی؛
یا أبه اين امي
بابا جان امي کہاں ہے؟ اس وقت جبرئیل نازل ہوا اور کہا یا رسول اللہ خدا کہہ رہا ہے کہ :
فاطمہ کو ہمارا سلام دو اورکہہ دو کہ اپنی والدہ سے وداع کرئے ۔خدیجہ س بہشت کے گھروں میں سے ایک میں مريم اور آسیہ کے ساتھ ہے، (امالی شیخ طوسی )
حضرت خدیجہ ایک ماں کی حیثیت سے دلسوز اور آگاہ مربی تھی.

بچوں سے پیار و محبت :
بچوں سے پیار اور محبت کے ساتھ پیش آنا اور ان کی مادی ضروریات اور معنوی ضروریات کو پورا کرنا بھی اسلامی تربیت کی ایک اصل ہے ہے،ایک دن حضرت خدیجہ مريض تھی اور شاید اسی مرض کے بعد آپ نے وفات پائی، اسما بن عميس روایت کرتی ہیں کہ ایک دن میں خدیجہ کی عیادت کے لیے گئی تو خدیجہ س کو ناراحت اور مخزون پائی ۔میں نے انہیں دلداری دی کہ آپ رسول کی زوجہ ہو، اپنے اموال کو راہ خدا میں خرچ کیاہے ، بہترین خواتین عالم میں محسوب ہوتی ہو، رسول اللہ ص نے چند بار بہشت کی خبر دی ہیں توہھر آپ کیوں پریشان ہیں؟
تو آپ نے کہا َ! اسما میں اپنی بیٹی فاطمہ کے لیے پریشان ہوں وہ چھوٹی ہے اور اس دن کہ وہ شادی کریں گی تو مادری کرنے کے لیے میں نہیں ہوں گی اس لیے پریشان ہوں تو اسما نے حضرت خدیجہ س سے وعدہ کیا کہ میں فاطمہ کے لیے مادري کروں گی اور جب یہ ماجرا رسول اللہ ص کو معلوم ہوا تو اسما کے لیے دست بہ دعا کی۔( شجرہ طوبی ج، 3)

حوالہ جات :
1) مناقب امیر المومنین، ج، 2، ص 186
2)امالی شیخ طوسی ص، 175
3)مستدرک سفینہ البحار ج، 5، ص، 44
4)بحارالانوار ج، 43،ص 131
5)کشف النعمہ ج، 2 ص 132
6) شجرہ طوبی ج، 2 ص، 334
7)سفینہ البحار ج، 16 ص 279

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=32736