وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ امام المنتظر ع میں استاد مھدویت حجت الاسلام والمسلمیں علی اصغر سیفی نے شب ولادت درس مھدویت دیتے ہوئے کہا کہ آج ولادت با سعادت امام زمانہ(عج) کی رات ہے اور اسے عید الاعظم کہا گیا ہے تو ہماری عیدی یہی ہے کہ ہم امام سے محبت کریں اور ان کی نگاہوں اور ان کی دعاؤں میں آجائیں جیسا کہ ایک خواب شوشل میڈیا پر نقل ہوا کہ جس میں امام(عج) فرماتے ہیں کہ اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو بھی میرے ذکر کی نشر و اشاعت کرتے رہو تاکہ میرے ظہور کا میدان ہموار ہو یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ چونکہ گناہگار ہوں تو پس میں یہ صلاحیت نہیں رکھتا بلکہ اولین اور اہم فریضہ ہے کہ معرفت امام زمانہ عج کو نشر کریں
قبلہ سیفی نے کہا کہ ایک نکتہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کئی طرح کے شیعہ ہیں ہر دور کے شیعہ اپنے امام کے ساتھ منسوب ہوتے ہیں جیسے شیعہ علوی شیعہ حسنی شیعہ حسینی اور آج ہم زیادہ تر شیعہ علوی یا شیعہ حسینی ہیں حالانکہ ہمیں شیعہ مہدی بننا چاہیے ہر دور کے شیعہ کو اپنے زمانے کے امام سے مربوط ہونا چاہیے اور اس کا دین بھی وہی ہونا چاہیے کہ جو زمانے کا امام بیان کرے اور شیعہ مہدی کوئی الگ شیعہ نہیں ہیں بلکہ شیعہ علوی اور شیعہ حسنی و حسینی کی جدید اور تکامل یافتہ شکل ہے کیونکہ روایات کے مطابق جو گیارہ اماموں پر ایمان رکھے لیکن آخری کو قبول نہ کرے تو اس کا وہ ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
اسی طرح روایت میں ہے “من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیہ”جو بھی مر جائے لیکن اس کو امام زمانہ کی معرفت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا
معرفت یعنی دین کی فہم و اقتدا اپنے امام زمان کی منشاء کے مطابق ہو ہر دور میں دین کی ایک خاص شکل ہوتی ہے دین وہی ہے فرائض کی انجام دہی میں اولویت بندی امام زمان کے فرمان کے مطابق ہو۔ زمانے کا امام عصری تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اس کو بیان کرتا ہے اگر ہم اس کو قبول نہ کریں اس پر عمل نہ کریں تو پھر ہمارا دین قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم وسائل کے اعتبار سے آج کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن فکری طور پر گزشتہ آئمہ علیہم السلام کے ساتھ منسلک ہیں شاید 61 ہجری سے پہلے کے شیعہ ۔ حالانکہ وہ بھی ہونا چاہیے لیکن آج ہمیں تشیع مہدوی کی ضرورت ہے ہم شیعہ علوی و شیعہ حسنی و حسینی کی حد تک محدود ہیں اسی تشیع میں زندگی گزار رہے ہیں آگے نہیں بڑھے حالانکہ ہمیں آگے بڑھ کر زمانہ کے امام کا ناصر بننا چاہیے
انہوں نے مزید کہا کہ آئمہ علیہم السلام کا اکثر گریہ ناصرین کی کمی پر ہوتا تھا اور آج بھی امام زمانہ کی گریہ کی وجہ یہی ہے محبین تو ہر زمانے میں کثیر تعداد میں موجود تھے لیکن ناصر نہیں ہوتے تھے
زیارت آل یاسین کے جملے ہیں
السّلام عليک أيّها العَلَم المنصوب و العِلم المصبوب و الغوث و الرّحمة الواسعة وعداً غير مکذوب
آپ پر سلام ہو اے علم منصوب
آپ پر سلام ہو اے علم مصبوب
آپ پر سلام ہو اے فریاد رس اور رحمت واسعہ
یہاں پر میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ہم امام کی محبت کو درک نہیں کرسکتے اس کائنات میں سب سے زیادہ محبت والدین اپنے بچوں سے کرتے ہیں جب بچہ بیمار ہو تو اس وقت والدین کی حالت غیر ہو جاتی ہے اور وہ اپنے بچے کی بیماری کو برداشت نہیں کرسکتے تو زمانے کا امام اس سے کئی گناہ زیادہ محبت کرتا ہے۔ جیسے جناب رمیلہ کہ جو امیر المومنین کے صحابی تھے ایک بار مریض ہوئے تو جب کچھ حالت بہتر ہوئی تو مسجد میں آئے امام کی اقتداء میں نماز ادا کی اور بعد میں خطبہ بھی سنا تو دوبارا ان کی طبیعت خراب ہوگئی تو جب واپس جانے لگے تو امیر المومنین علیہ السلام کے پیچھے پیچھے جانے لگے اور امام سے عرض کی کہ میں بیمار تھا لیکن پھر بھی مسجد میں آیا تاکہ آپ کے پیچھے نماز کا شرف حاصل کروں تو امام نے کہا کہ میری بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیونکہ تم مریض ہو
مَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَ لاَ مُؤْمِنَةٍ يَمْرَضُ مَرَضاً إِلاَّ مَرِضْنَا لِمَرَضِهِ وَ لاَ يَحْزَنُ حَزَناً إِلاَّ حَزَنَّا لِحُزْنِهِ وَ لاَ دَعَا إِلاَّ أَمَّنَّا عَلَى دُعَائِهِ وَ لاَ يَسْكُتُ إِلاَّ دَعَوْنَا لَهُ
کوئی بھی مومن یا مومنہ مریض نہیں ہوتے مگر ہم ان کے مرض کی وجہ سے مریض ہو جاتے ہیں اور کوئی غمگین نہیں ہوتا مگر ہم بھی غمگین ہو جاتے ہیں اور کوئی دعا نہیں کرتا مگر ہم اس دعا پر آمین کہتے ہیں اور کوئی خاموش نہیں ہوتا مگر ہم ان کے لئے دعا کرتے ہیں
بسا اوقات ہم والدین کی دعاؤں کو اپنے شامل حال دیکھتے ہیں لیکن امام کی دعاؤں سے غافل ہوتے ہیں کیونکہ گناہوں کی وجہ سے پردہ حائل ہوگیا ہے
محدث نوری کی کتاب نجم الثاقب میں ایک واقعہ ملتا ہے شیخ محمد حسن کہ جنہیں آل رحمیی کہتے ہیں ان کی تین مشکلات تھیں ایک تو فقر میں مبتلا تھے دوسرا ان کی شادی نہیں ہورہی تھی اور تیسرا دمہ کے مریض تھے اور ان کے منہ سے مسلسل خون آتا تھا انہیں معلوم ہوا کہ اگر مسجد سہلہ میں چالیس ہفتے عبادت کی جائے تو امام سے ملاقات ہوتی ہے تو انہوں نے سوچا کہ یہ مشکلات امام کے سامنے بیان کروں گا تو انہوں نے مسجد سہلہ کے باہر اپنا خیمہ لگا لیا کیونکہ ان کے منہ سے خون نکلتا تھا تو مسجد کے نجس ہونے کا ڈر تھا اور اس طرح عبادت شروع کردی ایک نکتہ یہاں پر عرض کرتا چلوں کہ انسان جب عبادت کرتا ہے تو امام کی توجہ بڑھ جاتی ہے انسیت بڑھ جاتی ہے اور محبت بھی بڑھ جاتی ہے اور ممکن ہے امام اس سے پھر اپنا درد دل بیان کرنا شروع کر دیتا ہے جیسے مولا علی علیہ السلام کمیل سے درد دل بیان کرتے تھے بہرحال چالیس ہفتے عبادت کرتے رہے لیکن امام سے ملاقات نہ ہوئی تو آخری دن جب آیا تو دل بڑا پریشان ہوا کہ امام سے ملاقات نہیں ہوئی اور موڈ خراب ہوگیا تو سوچا اب یہاں سے نکل کر مسلم بن عقیل کی زیارت کو جاتا ہوں پھر وہاں سے واپس ہوجاوں گا تو آخری چائے بنائی تو اس کو پینے ہی والے تھے کہ دیکھا کہ ایک خوبصورت قیافہ جوان شخص ان کی طرف بڑھ رہا ہے اب یہ خوش نہیں تھے تو خوشی سے اس جوان کا استقبال نہیں کیا اور اس جوان نے خیمہ میں داخل ہو کر ان کا نام لے کر سلام کیا تو بڑے حیران ہوئے کہ یہ مجھے جانتا ہے تو پھر ان سے مختلف قبائل کا نام لے کر پوچھا کہ تم فلاں قبیلہ سے ہو کیونکہ یہ تبلیغ کے سلسلے میں مختلف قبائل میں جایا کرتے تھے تو اس جوان نے کہا میرا تعلق کسی قبیلہ سے نہیں ہے پھر انہوں نے اس جوان کو اپنی بنائی ہوئی چاہے پیش کردی تو اس جوان نے ان سے طبیعت کا پوچھا تو بری مشکل کے ساتھ جواب دیا کہ ٹھیک نہیں ہوں تو اس جوان نے پوچھا کہ کیا ہوا تو اول تو راضی نہ ہوئے بتانے پر لیکن پھر ساری کہانی بتا دی تو اس جوان نے چائے کی پیالی کو اپنے ہونٹ لگائے اور کہا اسے پی لو تو تمہارا مرض ختم ہو جائے گا تو انہوں نے اس چائے کو پی لیا پھر اس جوان نے کہا کہ شادی بھی انشاء اللہ تمہاری مرضی کی جگہ پر ہو جائے گی اور آخر میں کہا کہ تمہاری دنیا اور آخرت کے لئے فقر بہتر ہے پھر کہا کہ چلو مسجد سہلہ میں نماز ادا کرکے پھر مسلم بن عقیل کی زیارت پر جاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ جب اس جوان نے تلاوت شروع کی تو میں نے دیکھا کہ پوری مسجد کا ماحول تبدیل ہوگیا ہے درو دیوار سب ان کے ساتھ تلاوت کررہے ہیں تو میں نے سوچنا شروع کردیا کہ آخر یہ جوان کون ہے کہ جسے میرا نام بھی معلوم ہے اور میری بیماری بھی اس قہوہ پینے سے ختم ہوگئی پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ کئی یہ امام زمانہ تو نہیں ہیں
تو جیسے ہی یہ خیال میرے ذہن میں آیا تو ایک نور کا ھالہ میں وہ جوان مخفی ہوگیا حالانکہ میں ان کی بات کو سن رہا تھا صرف ایک حجاب قائم ہوگیا تھا پھر نماز کے بعد ان کے ساتھ مسلم بن عقیل کی زیارت پر گیا جہاں مجھ پر غشی طاری ہوگئی پھر وہ جوان غائب ہوگیا
اس واقعے سے یہ نکتہ ملتا ہے کہ امام ہماری حالت سے آگاہ ہیں ہمیں سال میں ایک بار عریضہ نہیں لکھنا چاہیے بلکہ ہر روز امام سے درد دل بیان کرنا چاہیے جس بھی زبان میں ہو مشکل نہیں ہے اور ان سے اپنی غلطی و گناہوں کی معافی طلب کرنی چاہیے اور ان کے ظہور کے لئے راہ ہموار کرنی چاہیے
خداوند متعال ہمیں شیعہ مہدی بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین












