34

میں (رسول ص)حسین سے

  • News cod : 49191
  • 05 آگوست 2023 - 13:59
میں (رسول ص)حسین سے
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلواقات بنایا اور اس کی اس شرافت، عزت اور عظمت کو برقرار رکھنے اور ساتھ میں مزید ان میں ترقی، بلندی اور تکامل روحی بخشنے اور معنوی مراحل کو طے کرنے کے لیے اللہ نے انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کو تسلسل کے ساتھ بھیجے گےتمام انبیاء اور مرسلین علیھم السلام ان ہی اھداف کو پای تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل جد و جھد کرتے رہیں

تحریر:سکندر علی ناصری
میں (رسول ص)حسین سے
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلواقات بنایا اور اس کی اس شرافت، عزت اور عظمت کو برقرار رکھنے اور ساتھ میں مزید ان میں ترقی، بلندی اور تکامل روحی بخشنے اور معنوی مراحل کو طے کرنے کے لیے اللہ نے انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کو تسلسل کے ساتھ بھیجے گےتمام انبیاء اور مرسلین علیھم السلام ان ہی اھداف کو پای تکمیل تک پہنچانے کے لیے مسلسل جد و جھد کرتے رہیں۔

اس کھٹن اور سخت راہ میں کوئی نبی سولی پر چڑہ گے کوئی ناقابل بیان شکنجوں میں جام شھادت نوش کیا کسی کوجلا وطنی کی زندگی کرنے پر مجبور کیا کسی نبی کے نازک پاک بدن کو آروں سے چیر کر ڈالا کسی کے سر مبارک کو تن سے جدا کرکے وقت کے ظالم جابر حاکم کے سامنے طشت میں رکھ کر پیش کیا تاکہ ظالم کو خوشی ملے مظلوم ظلم و بربریت کے شکنجوں میں جان دیے بیٹھے کلمہ حق معاشرے میں ناپید ہو حق کا گلا گھونٹ دیا جاسکے ہر طرف باطل کا چرچاہو دین اور کتب آسمانی معاشرے میں ایک مذاق بنکر رہ جائیں اور کلمہ توحید کی استھزاء ہو ان تمام سماجی اور سیاسی مشکلات اور سختیوں کے باوجود انبیاء اور اولیاء الہی کے قدموں میں معمولی بھی لغزش نہیں آئی وہ کلمہ حق بیان کرنے سے زرہ برابر پیچھے نہ ہٹےتمام تر سختیوں کا بےباکی سے سامنا کیا چاہے وہ سب و شتم کا موقع ہو یا الزام تراشی کا مرحلہ، یا بدنام کرنے کی بےجا سعی و تلاش ہو یا ظالم حکمرانوں کی دھونس و دھمکی، ان سب مواقع پر انبیاء اور اولیاء الہی نے صبر کیا ان خوفناک مراحل پر تحمل کا نمونہ پیش کیا برداشت کا درس دیا ان تمام نامساعد حالات میں کلمہ توحید اور حق کی بات کو ہر حال میں پہنچاتے رہے اور نور توحید کی پاسداری کی چراغ اسلام کی حفاظت کی ھدایت کی روشنی کو جہان کے گوشہ و کنار تک پہنچانے کے لیے دن رات کوشش کی اس راہ میں کانٹوں پرچلے شکنجوں کو سہتے رہے جابروں کی مرصع مزین نشستوں سے متاثر نہیں ہوے ہمیشہ انہیں نصیحت کرتے رہے ظالم اور جابر کے درباروں میں نازیبا کلمات سنے، بے رحم ہاتھوں سے تازیانے کھائے پھر بھی دین کو بچاتے رہے خدا کے بندوں کی ھدایت کرتے رہے ظلم اور استبداد کے خلاف صدا احتجاج بلند کیا مردہ ضمیروں کو جگاتے رہیں بےہوش انسانوں کو بیدار کیا خدا متعال کی بے کران نعمات اور اس کی فیوضات یاد دلاتے رہیں

حضرت آدم ابو البشر کا علم ہو یا صاحب شریعت نوح نبی کی گریہ و زاری ،یا کشتی نوح کی طوفان پر حفاظت ہو یا دن رات اللہ کی راہ میں دین اسلام کے لیے اس کی تبلیغ یا کوہ طور پر موسی نبی کے مناجات ہوں یا دریا نیل کا شگاف ہو یا حضرت عیسی نبی کے معجزات یہ سب کچھ اسی نادان انسان کی نجات اور ھدایت کے لیے تھا اللہ تعالی نے انسان کی ضروریات کو منت اور احسان جتائے بغیر اس کو باہم پہنچاتارہا تو یہ ناچیز انسان اپنے کو ہی سب کچھ سمجھنے لگا جو اس کا دل کرے وہ اسے انجام دینے لگا اللہ نے اسے امتحان لینے اور آزمانے کے لیے ثروت،مال ،طاقت اور قوت سب کچھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے لیکن بجایے کہ اللہ کا شکر کریں اس نے خدا کی نافرمانی کی عبادت اور بندگی کے بجایے خدا سے روگردانی کی اللہ کے احکام کو روئی زمیں پر نافذ کرنے کے بجایے اس نے اپنے کو حاکم مطلق سمجھ بیٹھا اللہ کی حکومت اور نظام الہی کو اجراء کرنے کے بجایے اس نے دعوی خدائی کرنے لگا اسی نادان انسان نے کبھی شداد کی صورت میں انسان کو بہکایا کبھی نمرود کی شکل میں اس کو غلامی کی زنجیروں میں جگڑہ دیاکبھی فرعون کی روپ میں معاشرے کو تباہی اور بربادی کی جانب دکھیل دیا اللہ تعالی نے بھی اپنے خالص اور مخلص بندوں کے زریعے چراغ ھدایت کو آگے بڑہاتارہا بشریت کی ضرورت کے مطابق جامع اور کامل دین اور شریعت دیکر سید اولین و اخرین نبیوں کے خاتم سید وسردار سرکار دو عالم کو بھیجے وہ سراپا رحمت تھے وہ زبانی لسانی ازیت اور ازار کو سہتے رہیں نازییا کلمات کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کی کہیں پتھر کھاتے رہے کہیں خون میں نھلائےگے کوئی انہیں جھٹلاتا رہا کوئی انہیں ساحر کہا کوئی ان کے قلب نازنین کو مجروح کیا کوئی شاعر کوئی مجنون کھکر ان کا مذاق اڑہاتا رہا وہ سب سے مھربان رحیم و کریم تھےاعلی اور بلند۔اخلاق کا صاحب و مالک ہستی تھے اللہ تعالی نے ان کے ہر عمل کو حجت قرار دیا ان کے اٹھنے بیٹھنے کو سیرت کہا ان کی زبان کی جنش کو وحی منزل قرار دیا ان کو خواہشات نفسانی سے منزہ اور مبرا قرار دیا اسی پاک نبی نے اپنے نواسہ حسین کو ھدایت کا چراغ کہا کہیں پر ان کو نجات کی کشتی سے تعبیر کی کبھی ان کے لیے آپ ص ناقہ بنے کبھی ان کے لبوں کا بوسہ دیا کبھی آپ ان کے گلو مبارک کو چومتے تھے کبھی آپ نے فرمایا ” حسین مجھ سے ہیں میں حسین سے ہوں”اس فرمان کا پہلا حصہ امام عالی مقام کے حسب و نسب کی تفسیر ہے لیکن رسول اللہ کا حسین سے ہونے کی تفسیر کربلا سے تا قیامت جاری ہے کیونکہ رسول اللہ کی پہچان نبوت اور رسالت سے ہے ان میں توحید ہے دین یے شریعت ہے احکام الہی ہیں ان چیزوں کی بقا کے لیے نبوت اور رسالت کی حفاظت ضروری ہے اگر ان کی حفاظت نہ ہو تو رسول مآب کی پہچان کھو بیٹھےگی اسی بناء پر امام عالی مقام نے نبوت اور رسالت کو رہتی دنیا تک ذندہ ریکھنے کے لیے اپنے وقت کے ظالم جابر آمرون کے خلاف قیام کیا آپ کی حیات طیبہ کے دور میں یذید آمر تھا وہ حلال الہی کو حرام حرام الہی کو حلال بنایا تھا شراب پیتا بھی تھا تو جائز اور حلال سمجھ کر پیتاتھا اسی طرح حرام نام کی کوئی چیز باقی نہیں تھی بلکہ وحی الہی کا مذاق اڑایا کرتاتھا جب ناموس رسالت غل و زنجیر میں جگڑے ہوے دربار میں پہنچیں تو یہ ملعون تخت پر بیٹھ کر کہنے لگا ” یہ تو بنی ھاشم نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک ڈھونگ رچایا تھا ایک کھیل کھیلا تھا ورنہ،نہ کوئی فرشتہ آیا تھا نہ ہی وحی نازل ہوئی تھی ” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ توحید کو مانتا تھا نہ ہی نبوت و رسالت پر اس کو ایمان تھا ایسا فاسق شخص نواسے رسول سے طلب بیعت کرتاہے ایسی نازک اور سخت حالات میں امام عالی مقام نے نانا رسول اللہ کی امت کو بیدار کرنے، سوے ہوئے مسمانوں کو جگانے، بدعتوں کو مٹانے، امت کی اصلاح کے لیے،ظلم و استبداد کے خاتمہ کے لیے،نانا کا روضہ چھوڑا مدینہ النبی سے رخصت ہوئےرجب کے ستاسویں کی رات ہے امام عالی مقام مدینہ سے نکل رہے ہیں رات کا انتخاب بھی معنی خیز ہے جب حضرت موسی ع مدائن کی طرف سفر کیا تو انہوں نے بھی رات کا انتخاب کیا کیوں کہ انہیں فرعون کی طرف سے جان کا خوف تھا اسی طرح امام عالی مقام کو بھی وقت کے فرعون سے خوف لاحق تھا موسی تنہا گے لیکن امام کے ساتھ ناموس رسالت ہیں،بچے بھی، نوجوان بھی ہیں، اور جوان بھی امام کے ساتھ ہیں امام کے اس کاروان میں ہر سن و سال کے افراد شامل ہیں اس کاروان میں آپ کے ننے چھ ماہ کا شیر خوار بچہ بھی ہے اورسب سے مسن آپ کا جگری دوست حبیب بن مظاھر بھی ہیں دوسری محرم الحرام کو یہ قافلہ اپنی منزل مقصود کو پہنچا کربلاء کی سر زمین پر امام عالی نے باوفا اصحاب کے ساتھ قیام کیا یہ قیام قیامت تک کے لیے تھا کربلاء کی صحراء ہے ہر طرف دشمن ہیں نہ کہیں کوئی درخت ہے نہ کہیں پہ سایہ نظر اتاہےگرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے رتیلی زمین ہے گرم ریتی پر رسول اللہ کی نواسیوں نے منزل کی حضرت فاطمہ الزھراء س کی بیٹیوں نے خیمے لگایے ۔

امام کے لشکر میں شامل ہونے والے خوش قسمت خوش نصیب افراد آتے گے جب ساتواں محرم ہوا حسین پر ان کے اصحاب پر فرات کا پانی بند ہوا حضرت فاطمہ زھراء کے گلشن کی کلیاں ایک قطرہ پانی کے لیے ترستی رہیں اور مرجھانے لگیں رسول کے نواسے نواسیاں اس تپتی صحراء میں پیاسے ہیں رسول اللہ کی صاحزادیوں کے گلے سوکھے ہیں سر پر سورج کی بےرحمانہ دھوپ برس رہی ہے قدموں کے نیچھے تپتی ریت جھلساتی ہے سامنے تیس ھزار کا لشکر نواسے رسول کے خون کے پیاسے ہیں کمان میں تیر ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں ہیں ہاتھوں میں ننگی تلواریں چمک رہی ہیں دشمن کا شور و غل برپا ہے اور تلوار کی جھنکاریں صحراء کربلاء کی فضاء کو چیر رہی ہیں چھوٹے معصوم بچے پیاس کی شدت سے بھلک رہے ہیں سامنے دشمن کاھنگامہ ارائی ہے ننے بچے سہمے ہوئے ہیں ہر طرف سے تند و تیز گرمی ہے۔ساتھ پیاس کی بڑہتی ہوئی شدت ہے نویں محرم ہے دشمن جنگ شروع کرنا چاہتے تھے امام عالی مقام نے ایک رات کی مہلت مانگی امام نے اس رات کو مناجات کے لیے خاص کر دی اس رات کو امام عالی مقام کبھی اللہ کے ساتھ راز ونیاز میں مشغول کبھی بہن اور اھل حرم کی خبر لیتے ہیں کبھی آھل حرم کے خیمے میں ہیں کبھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں عاشور کی رات ہے امام عالی مقام اپنے اصحاب کو آزمانا چاہتے ہیں ایک خیمے میں سب جمع ہوگے امام نے چراغ گل کیا اور قیامت تک کے لیے ایک جملہ فرمایا” اے میرے اصحاب! تم لوگوں سے بعیت اٹھالی جہان جانا چاہتے ہوں چلے جائیں”آپ کے اصحاب باوفا تھے وفادار تھے مخلص تھے جان نثار تھے یہی وجہ تھی جب کچھ دیر بعد امام نے چراغ روشن کیا دیکھا سب بیٹھے ہوئے ہیں پھر کیا ہونا تھا ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنی نصرت اور جان نثاری کا اظھار فرمایا اور کہا مولا افسوس ہماری صرف ایک جان ہے اگر ہزار جان ہوتی تو بھی آپ پر نثار کرتے قربان کرتے یہ وہی وقت تھا کہ آپ نےاپنے اصحاب پر افتخار کرتے ہوے فرمایا “کہ جو وفادار اصحاب مجھے ملے ایسے اصحاب نہ میرے نانا کو نہ ہی میرے بابا کو نصیب ہوئے” خیموں سے تلاوت کی آواز بلند ہے اللہ کی بندگی اور عبادت میں مشغول ہیں کوئی میدان مبازہ کی تیاری کر رہاہے کوئی پہرہ دے رہا ہے نہیں معلوم کہ امام عالی مقام پر یہ رات کیسی گزری ہوگی زینب کے دل کا کیا حال ہوا ہوگا بچے بچیوں کو لوریاں سنانے والے کون تھے پھر بھی شب عاشور کو امام ذندہ ہیں اکبر موجود عباس ہیں عون و محمد ہیں لیکن شام غریبان ان بچوں بچیوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا کسی کی کان سے خون جاری ہے کسی کے چہرے پر طمانچے کی نشان ہے کوئی بابا کو کوئی بھائی کو کوئی مولا کوئی سردار کو پکار رہاہے لیکن سب کے سب گودان قتل گاہ میں جام شھادت نوش کرکے آرام کر رہے ہیں مختصرا شب عاشور ہے ہر بی بی اپنی اپنی قربانی سجھا رہی ہے لیکن ان سب میں ایک رباب ہے جو بہت غمگیں ہے پریشان ہے اور افسوس کر رہی ہیں کہ میرا بھی کوئی جوان بیٹا ہوتا تو میں اس کو اپنے مولا و آقا پر قربان کرتی لیکن کیا کروں میرا کوئی جوان بیٹا نہیں میں اپنے مولا سے بہت شرمندہ ہوں بس اسی سوچ میں رباب صحراء کربلا میں ٹرپ رہی تھیں پریشان تھیں رباب کو کیا معلوم تھا کہ اس کا یہ چھوٹا بچہ ساری دنیا میں یذید کو ایسا رسوا اور ذلیل کریگا کہ کوئی اور اسے نہیں کرسکتا یہ شیر خوار بچہ بہت چھوٹا تھا لیکن جو شھادت اسنے پیش کی کوئی دوسرا پیش نہ کرسکا جو قربانی اس چھوٹے بچے نے دی اس نے یذید پلید کے بطلان پر قیامت تک کے لیے خط بطلان کیھنچا اور یذید کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا کر کے چھوڑ دیا وقت آخر ہے سرکار دوعالم ختم مرتبت کانواسہ اس صحراء میں تنہا رہ گے ہیں اس دشت میں حسںین کا کوئی یارو مددگار نہیں رہا سارے اصحاب درجہ شھادت کو نائل ہوچکے بیٹوں نے جام شھادت نوش کیاامام عالی مقام سجدہ آخر کے لیے میدان میں آیے لوگوں پر حجت آپ نے تمام کی شجاعت کا جوھر دیکھایا اصحاب سے جدائی کا صدمہ ہے، ایک طرف آپ کو بیٹوں کی شھادت تکلیف دے رہی ہے، ناموس رسالت کی آپ کو فکر ہے ، تین دن سے بھوک پیاس نے دل کو جلا کے رکھا ہے بدن زخموں سے چور چور ہے فاطمہ کا لال دشت کربلاء میں دشمن کے نرغے میں ہیں امام عالی مقام ان تمام مصائب کے باوجود ایک جبل راسخ کی طرح استقامت ،بردباری، صبر و شجاعت کے ساتھ تن تنہا دشمن سے لڑ رہے ہیں ایک وقت امام عالی مقام پر ایسا بھی آیا زین اسب پر اپنے آپ کو سنبھل نہ سکے آپ کے اسب نے آپ کو کربلاء کی ایک نشیب زمیں پر اتارے بدن آپ کا نحیف ہےجسم سے خون جاری ہے جبین مبارک زخمی ہے زبان خشک ہے لیکن ذکر میں مشغول ہے ظالموں نے ظلم و بربریت کی انتہاء کردی ہر طرف سے آپ پر حملہ کیا خشک گلے اور آپ کی سوکھی زبان پر قضاء و قدر الہی پر راضی اور خوشنود ہونے کے کلمات تھے انہی کے ساتھ آپ نے بارگاہ رب العزت میں سجدہ آخر انجام دیا اور رہتی دنیا تک اپنے نانا کے دین کو بچالیا اور رسول اللہ حسین سے ہونے کی حقیقی تفسیر کا عملی تصویر پیش کی

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=49191

ٹیگز