مروان بن حکم سے امام حسین ؑ کی ملاقات ہوئی، تو اُس نے کہا کہ آپ ؑ یزید کی بیعت کر لیجیے، دنیا اور آخرت میں آپ ؑ کی بھلائی اِسی میں ہےیہ سن کر امام ؑ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا:
اِنّٰالِلّٰهِ وَاِنّٰاالَیْهِ رٰاجِعُونَ وَعَلیَ الْاِسْلاٰمِ اَلسَّلاٰمُ اذْ قَدْبُلِیَتِ الأُمَّةُ بِرٰاعٍ مِثْلِ یَزیدَ، وَلَقَدْسَمِعْتُ جَدّی یَقُولُ:أَلْخِلاٰ فَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلیٰ اٰلِ ابی سُفْیٰان
انا ﷲ واناالیہ راجعون (یعنی اب ہمیں اسلام پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور اسلام کو الوداع کہہ دینا چاہیے) اب امت یزید جیسے حاکم کے شکنجے میں آ گئی ہے میں نے اپنے نانا رسول اﷲ ؐسے سنا ہے کہ آپ ؐ فرماتے تھے: خلافت اولادِ ابو سفیان کے لیے حرام ہے۔
(مقتلِ مقرم ص ۱۳۰، لہوف ص ۱۳، مثیرالاحزان ص ۱۰)












