20

وحدت و اتحاد کے بارے میں امام علی﴿ع﴾ کا نظریہ کیا ہے؟

  • News cod : 50719
  • 29 سپتامبر 2023 - 9:38
وحدت و اتحاد کے بارے میں امام علی﴿ع﴾ کا نظریہ کیا ہے؟
امام علی ﴿ع﴾ مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد کو عطیہ الہی کے عنوان سے دیکھتے تھے، جو مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت کا سبب بنا ہے اور مؤمنین اس وحدت و اتحاد کے سائے میں امن و سلامتی حاصل کرتے ہیں

وحدت و اتحاد مسلمین کے عظیم علمبردار، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابیطالب ﴿ع﴾ ہیں، جنھوں نے مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد کو قائم رکھنے کی راہ میں اپنے حقوق سے چشم پوشی کی اور انتہائی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ھوئے، اپنا سب کھ اسلام کے لئے قربان کیا اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو قائم رکھنے کے لئے نا قابل برداشت مصیبتوں کا سامنا کرتے ھوئے بے مثال صبر و شکیبائی کا مظاہرہ کیا۔[1]

تاریخ اسلام میں کسی اور نے امیرالمؤمنین حضرت علی ﴿ع﴾ کے برابر وحدت و اتحاد مسلمین کے لئے اہتمام نہیں کیا ہے ۔ اس مسئلہ میں بھی حضرت علی ﴿ع﴾ کا مقصد پروردگار عالم کی رضامندی اور قابل قدر اخروی ثواب الہی حاصل کرنا تھا۔[2]
امام علی ﴿ع﴾ مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد کو عطیہ الہی کے عنوان سے دیکھتے تھے، جو مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت کا سبب بنا ہے اور مؤمنین اس وحدت و اتحاد کے سائے میں امن و سلامتی حاصل کرتے ہیں، یہ ایک ایسی نعمت ہے، جس کی قدر و منزلت بے حساب اور اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔[3] چونکہ وحدت اور اتحاد کے لئے مشترکات اور محور کی ضرورت ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی ﴿ع﴾ کی وحدت و یکجہتی کے نظریہ کا محور، دین اسلام ہے، کہ اس کی بناپر تمام مسلمان آپس میں برابر و برادر ہیں۔[4]
اس کے مقابلے میں امام ﴿ع﴾، نا اتفاقی اور تفرقہ کو ہرقسم کی ترجیح و خیرسے عاری جانتے ہیں[5] اور باطنی خباثت اور بد دلی کو اس کا عامل سمجھتے ہیں۔[6]
خلاصہ:
شیعوں کے پہلے امام، حضرت علی ﴿ع﴾ کے عقائد و افکار کا مطالعہ کرنے سے معلوم ھوتا ہے کہ آپ ﴿ع﴾ صرف مسلمانوں کے درمیان وحدت و یکجہتی کے قائل نہیں تھے، بلکہ اسلامی معاشرہ میں زندگی کرنے والے تمام لوگوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کے قائل تھے۔ اپنے ہم مذہب لوگوں سے دینی بھائیوں کے عنوان سے دوستی اور معاشرہ کے دوسرے افراد ۔۔۔ جو تخلیق میں ایک ہی جنس سے ہیں ۔۔۔ سے ایک انسان کی حیثیت سے دوستی، امیرالمؤمنین ﴿ع﴾ کی تعلیمات میں سے ہے۔[7]

[1] : شریف الرضی، محمد بن حسین، نهج البلاغة، صالح، صبحی، خطبه 3، ص 48، هجرت، قم، طبع اول، 1414ق.
[2] ملاحضہ ھو: ایضا، ص ۴٦٦۔
[3] ملاحظہ ھو: ایضا،ص ۲۹۸۔
[4] ۔ملاحظہ ھو: ایضا، ص ١٦۸۔
[5] ملاحظہ ھو: ایضا، ۲۵۵۔
[6] ۔ملاحظہ ھو: ایضا، ص ١٦۸۔
[7] ۔ملاحظہ ھو: ایضا،۴۲۷۔

بشکریہ : http://www.islamquest.net

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=50719

ٹیگز