قال الصادقُ علیہ السلام :
لَا تَغْتَرُّوا بِصَلَاتِهِمْ وَ لَا بِصِيَامِهِمْ فَإِنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا لَهِجَ بِالصَّلَاةِ وَ الصَّوْمِ حَتَّى لَوْ تَرَكَهُ اسْتَوْحَشَ وَ لَكِنِ اخْتَبِرُوهُمْ عِنْدَ صِدْقِ الْحَدِيثِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ.
لوگوں کے نماز روزوں سے دھوکہ مت کھاؤ،کیوں کہ کبھی کبھی انسان نماز روزوں کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ اگر کبھی اس سے چھوٹ جائیں تو اسے وحشت ہونے لگتی ہے۔
لوگوں کو قول کی صداقت اور امانت کی ادائگی کے ذریعہ آزماؤ۔
(اصول كافى (ط-الاسلامیه) ج2، ص104، ح2)












