امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں
” صِلْ مَنْ قَطَعَکَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَکَ، وَ أَحْسِنْ إِلى مَنْ أَساءَ إِلَیْکَ وَ سَلِّمْ عَلى مَنْ سَبَّکَ وَ أَنْصِفْ مَنْ خاصَمَکَ، وَ اعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ کَما أَنَّکَ تُحِبُّ أَنْ یُعْفى عَنْکَ، فَاعْتَبِرْ بِعَفْوِ اللّهِ عَنْکَ أَلا تَرى أَنَّ شَمْسَهُ أَشْرَقَتْ عَلَى الاْبْرارِ وَ الْفُجّارِ وَ أَنَّ مَطَرَهُ یَنْزِلُ عَلَى الصّالِحینَ وَ الْخاطِئینَ”
“جو تم سے قطع رابطہ کرے اس سے رابطہ جوڑو، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو، جو تم سے برائی سے پیش آئے اس سے نیکی سے پیش آو، جو تمہیں گالی دے تم اسے سلام کرو، جو تم سے دشمنی کرے اس سے انصاف سے پیش آو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو جیسا کہ اپنے بخشے جانے کی توقع رکھتے ہو، خدا کی عفو و بخشش سے سبق حاصل کرو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ سورج کی روشنی اچھے اور برے دونوں قسم کے انسانوں پر پڑتی ہے اور خدا کی بارش نیک اور گناہگار سب افراد پر نازل ہوتی ہے”۔
(الوافی:ج؛24، ص:271)












