مجلس خبرگان رہبری کا قائد شہید کی تشییع میں شریک عوام اور انتظامیہ کو خراج تحسی
مجلس خبرگان رہبری نے کہا کہ شہید رہبر انقلاب کی تاریخی تشییع میں عوام کی بھرپور شرکت نے قومی وحدت، ولایت سے وفاداری اور استقامت کے عزم کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا۔
مجلس خبرگان رہبری نے قائد شہید آیت اللہ العظمی امام سید علی حسینی خامنہ ای کی تشییع اور تدفین کی تقریبات میں شریک عوام اور انتظامات میں حصہ لینے والے تمام اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تاریخی اجتماع اسلامی انقلاب، قومی وحدت اور ولایت سے وفاداری کی عظیم علامت بن کر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق مجلس خبرگان رہبری نے اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ کی مشیت سے قائد شہید نے عمر بھر کی مخلصانہ جدوجہد کے بعد انبیا، اولیا اور شہدا کے قافلے میں شمولیت اختیار کی، جبکہ ان کے جسد مطہر کو ایران اور عراق کے لاکھوں سوگواروں نے تاریخی انداز میں رخصت کیا اور انہیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے جوار میں سپرد خاک کیا گیا۔
پیغام میں کہا گیا کہ قائد شہید کی تشییع میں عوام کی بے مثال شرکت نے ایک ایسی تاریخ رقم کی جس نے ایران اور امت اسلامی کے افتخارات میں ایک اور روشن باب کا اضافہ کیا۔ یہ اجتماع صرف ایک جنازے کی تقریب نہیں بلکہ قومی اقتدار، ولایت سے وابستگی، دشمنوں کی سازشوں کے خلاف استقامت اور امت و امامت کے مضبوط تعلق کا عملی مظہر تھا۔
مجلس خبرگان رہبری نے کہا کہ عوام کی یہ پرجوش حاضری امام خمینی کے انقلابی نظریات سے تجدید عہد اور رہبر انقلاب آیت اللہ امام سید مجتبی حسینی خامنہ ای سے شعوری اور مضبوط بیعت کا اظہار بھی تھی۔
پیغام میں کہا گیا کہ تاریخی تشییع کے دوران بلند ہونے والے سرخ پرچم اور انتقام کے نعروں نے عالمی استکبار اور صہیونیت کو واضح پیغام دیا کہ قائد شہید اور دیگر شہدا کا خون ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا اور مقاومت کا پرچم اپنے مقصد کے حصول تک بلند رہے گا۔
مجلس خبرگان رہبری نے ایران کے باشعور عوام، شہدا کے اہل خانہ، ایثارگران، مختلف طبقات اور تمام شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے اس تاریخی جذبے پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزار ہیں۔
پیغام کے اختتام پر تہران، قم، مشہد مقدس اور عراق کے مقدس مقامات پر تشییع کی تقریبات کے انعقاد میں شریک انتظامی، سیکیورٹی، فوجی، امدادی اداروں، عوامی مواکب اور قومی ذرائع ابلاغ کی شبانہ روز خدمات کو بھی سراہا گیا اور قائد شہید کے بلند درجات، ملت ایران کی مزید عزت و سربلندی اور سب کے لیے راہ ولایت پر استقامت کی دعا کی گئی۔











