وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کرگل سے تعلق رکھنے والے شیخ محمد آخوندی کو آبائی گاؤں آپاتی میں سپردخاک کردیا گیا۔تشیع جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت, مرکزی امام جمعہ والجماعت کرگل کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی.
رپورٹ ے مطابق مرحوم حجتہ الاسلام والمسلمین الحاج شیخ محمد آخوندی نے مختصر علالت کے بعد جمعرات کے صبح ضلع ہسپتال کرگل میں
اپنی آخری سانسیں لی جس کے بعد لوگوں نے مرحوم کے جسد خاکی کو حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل کے احاطہ میں پہنچایا گیا، جہاں صبح دس بجے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور فاتحہ و قرآن خوانی کا سلسلہ شروع ہوا اور مختصر ذکر مصائب کے ساتھ اور دعائیہ کلمات کے ختم ہوتے ہی قریب ساڑھے گیارہ بجے مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد آخوندی کے جسد خاکی کو احاطہ حوزہ علمیہ اثنا عشریہ سے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہوئے اپنے آبائی گاؤں آپاتی لے جایا گیا.
تفصیلات کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد آخوندی کا تشیع جنازہ گاڑیوں کے ایک لمبے قافلے کے ہمراہ مرحوم کے آبائی گاؤں پہنچا جہاں علاقہ صوت کے متعدد گاؤں اور محلہ جات سے لوگ ماتمی جلوسوں کی شکل میں پہلے سے ہی مرحوم مغفور کے جسد خاکی کے انتظار میں تھے, اس کے بعد جلوس تشیع جنازہ مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین الحاج شیخ محمد آخوندی کے آبائی گاؤں آپاتی سے گزرتے ہوئے امام بارگاہ آپاتی پہنچا جہاں حجت الاسلام والمسلمین شیخ علی علمی اور حجت الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی صدر جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل نے لوگوں سے خطاب کیا اور مرحوم کے دینی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے رحلت کو ملت کرگل اور بالخصوص علاقہ صوت کیلئے ایک نا قابلِ تلافی نقصان قرار دیا, اس کے بعد مرحوم مغفور کے جسد خاکی کو آبائی قبرستان کی طرف لے جایا گیا جہاں مرکزی امام جمعہ والجماعت حجت الاسلام والمسلمین آقائ شیخ محمد حسین مفیدی نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد آخوندی کے ایصال ثواب اور مغفرت کیلئے خصوصی دعائیں کی.
علماء کونسل جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل نے اس موقع پر مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین الحاج شیخ محمد آخوندی کے دینی خدمات کو یاد کرتے ہوئے اپنے بیانات کے ذریعے مرحوم مغفور کو شاندار خراج عقیدت پیش کی اور پرنم آنکھوں کے ساتھ مرحوم کے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا گیا.


حجت الاسلام والمسلمین الحاج شیخ محمد آخوندی نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں آپاتی کے مکتب سے حاصل اور اس کے بعد کچھ عرصہ تک حوزہ علمیہ اثنا عشریہ کرگل میں اس زمانے کے بزرگ علمائے دین سے علوم آل محمد حاصل کئے اور اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے شہر علم نجف اشرف عراق کا رخ کیا, نجف اشرف میں اس زمانے کے معروف اور جید مراجع عظام مرحوم مغفور آیت الله العظمی سید ابوالقاسم الخوئی رضوان الله علیہ , مرحوم مغفور آیت الله العظمی فاضل لنکرانی رضوان الله علیہ کے شاگردی میں 12 سال علوم آل محمد علیہم السلام سے اپنی علمی تشنگی کو بھجائی اس دوران مرحوم مغفور کئی عرصوں تک نجف اشرف میں زیر تعلیم کرگل کے علماء اور طلبہ کیلئے مرحوم مغفور بانی انقلاب جمہوری اسلامی ایران آیت الله العظمی سید روح الله الموسوی خمینی رضوان الله علیہ کے طرف سے دی جانے والی شہریہ کے مُقَسِّم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیئے اور نجف اشرف میں اپنے طرف سے جتنا بن پایا طلاب کرگل کی خدمات کرتے رہیں.


مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین الحاج شیخ محمد آخوندی رحمۃ الله علیہ جب 12 سال بعد اپنے آبائی وطن واپس تشریف لائے اور اپنے آبائی گاؤں آپاتی سے علوم آل محمد علیہم السلام کی ترویج کا سلسلہ شروع کیا اور اس سلسلے میں انجمنِ جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے شعبہ مکاتبِ اثناء عشریہ کے زیر نگرانی ایک مکتب کا آغاز کیا اور بعنوان استاد اس مکتب میں اپنے دینی خدمات انجام دیتے رہے, آپاتی گاؤں کے بزرگ, جوان, بچے سب کے آرزوئیں مرحوم مغفور کے ساتھ تھے اور تمنا کرتے تھے کہ جب کسی مجلس مرحوم نہیں پہنچے تو سب کہتے کہ ہمارے مجلس کے رونق میں کمی ہوئی اور ایسے بھی واقعہ پیش ہوئے کہ مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد آخوندی مصروفیات کے باعث کسی مجلس میں نہیں پہنچ پاتے تو گاؤں والے فاتحہ خوانی اور دوسرے پروگرام وغیرہ کو منسوخ کر دیتے تھے.


مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد آخوندی رحمۃ الله علیہ انجمن جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کہ جس جو پورے ہندوستان اور بیرون ہندوستان میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ہمیشہ اس مرکز کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور ہر ممکن تعاون کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے اور ہر مشکل وقت میں اس جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے ساتھ پائیدار تعلقات بنائے رکھا, مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد آخوندی انجمن جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے بانی مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ محمد مفید رحمۃ الله علیہ سے کافی متاثر تھے اور سابقہ امام جمعہ والجماعت مرحوم مغفور حجت الاسلام والمسلمین شیخ موسی شریفی, حجت الاسلام والمسلمین شیخ احمد محمدی علیہ الرحمۃ, حجت الاسلام والمسلمین شیخ طاہ برو رحمتہ الله علیہ جیسے شخصیات جو مرحوم مغفور کے ہم عمر تھے کے سربراہی میں کام کرنے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے.














