از قلم: حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حسین بہشتی
حضرت ابوطالب کا اسم گرامی “عمران” اور ابو طالب آپ کی کنیت ہے۔آپ حضرت عبد المطلب (پیغمبر اکرم کے جد گرامی ) کے فرزند اور حضرت عبداللہ (پیغمبر اکرم کے والد گرامی ) کے بھائی ہیں ۔
آپ کی ولادت پیغمبر اکرم ص کی ولادت سے 35 سال پہلے یعنی 535 م کوہوئی ۔حضرت عبداللہ جوانی میں ہی دنیا سے رحلت فرماگئے جس کے سبب حضرت عبد المطلب نے بچپن سے پیغمبر اکرم ص کی کفالت کا بیڑہ اٹھایا۔ تاریخ ابن ہشام، تاریخ طبری، تاریخ یعقوبی ،مروج الذہب اور طبقات ابن سعد کے مطابق جب حضرت عبد المطلب کی رحلت کا وقت آپہنچا تو آپ نے اپنے پوتے حضرت محمد ص کو اپنے بیٹے جناب ابوطالب کے سپرد کر دیا۔ ابو طالب حضور اکرم ص پر بہت ہی مہربان تھے۔تاریخ کہتی ہے کہ پیغمبر اکرم 8 سال کی عمر میں حضرت ابو طالب کے زیر کفالت آگئے ۔
حضرت ابو طالب ہر مشکل وقت میں پیش قدم اور مشکلات کے حل کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ لوگوں کو پانی پہنچانے کے ذمہ داری آپ کے کندھوں پرتھی۔ اپنے والد بزرگوار کے بعد لوگوں کو کھانا کھانے کی ذمہ داری بھی آپ پر عائد ہوچکی تھی ۔
حضرت ابوطالب کی پیغمبر اکرم سے محبت و ارادت
حضرت عبد المطلب نے پیغمبر اکرم ص کو حضرت ابو طالب کے حوالے کر تے وقت کہا : اے میرے بیٹے ! تم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہو کہ میں محمد ص سے کس قدر عشق رکھتا ہوں ،لہذا میں تمہیں وصیت کرتا ہو ں کہ تم بھی اسی قدر محبت کرو اور اس میں کسی قسم کی کمی اور کوتاہی نہ ہونے پائے !اس وصیت کے جواب میں ابوطالب نے کہا: میرے پیارے بابا! محمد ص کے بارے میں مجھے کچھ نہ بتائیں ؛ کیونکہ وہ میرا بیٹا اور میرے بھائی کے فرزند ارجمند ہیں۔ حضرت ابوطالب ہمیشہ کھانے پینے اور دیگر کاموں کے لحاظ سے پیغمبر اکرم کو پورے خاندان والوں پر مقدم رکھتے تھے ۔
ابن عباس کی روایت کے مطابق حضرت ابوطالب نے اپنے بھائی عباس سے کہا: جب سے اپنے بھتیجے محمد ص کو اپنی کفالت میں لیا ہے، نہ میں اس سے جدا ہوتا ہوں اور نہ اس کے حوالے سے کسی پر اعتماد کرتا ہوں.
حضرت ابو طالب اپنے روزمرہ کے معمولات یوں بیان کرتے ہیں کہ جب کھا نے پینے کے لیے دستر خوان لگتا تھا تو اپنے بیٹوں سے کہتا: ابھی صبر کر و اور میرے بھتیجے محمد ص کو آنے دو! اور سب آپ کے آنے تک انتظار کرتے تھے ۔ جناب ابو طالب کے بعد آپ کی زوجہ جناب فاطمہ بنت اسد بھی اسی طرح حضرت محمدص کا خیال رکھتی تھیں۔ جب فاطمہ بنت اسد دنیا سے چلی گئیں تو پیغمبر اکرم ص بہت پریشان ہوئے اور کہتے تھے : میں اپنے چچا ابوطالب کی نیکیو ں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔جناب فاطمہ بنت اسد کوجب کہیں سے کوئی چیز ملتی تو وہ پیغمبر اکرم کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے تھے، جس کے بہت سارے شواہد تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ سیرہ قاضی دحلاق، تاریخ ابن عساکر سے نقل کرتے ہیں :ایک مرتبہ مکے میں قحطی اور خشک سالی اپنے عروج پر تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا ہم بارش کے لیے لات و عزی(بڑے بت) کے پاس جاتے ہیں۔بعض نے کہا: لات و عزی کو یہاں لیکر آؤ تا کہ بارش کے لیے درخواست کی جائے ۔ ان کے درمیان میں سے ایک عمر رسیدہ شخص اٹھ کے کہنے لگا تم لوگ ابو طالب کے پاس کیوں نہیں جاتے جو ابراہیم خلیل کی یادگار ہیں اور نسل اسماعیل سے ہیں،لوگ یہ بات سن کے ابوطالب کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: آپ خود قحطی اور خشک سالی کے حالات سے آگاہ ہیں لوگ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہیں ،آپ بارش کے لیے دعا فرمائیں تا کہ لوگوں کی پریشانی اور مشکلات دور ہوں !
ابو طالب گھر سے باہر آئے اور ایک نوجوان کو اپنے ساتھ لے آئے جس کا چہرہ چاند کی طرح درخشاں تھا ۔ اس نوجوان کے ساتھ کعبہ کے دیوار کے پاس بیٹھ کر خدا وندعالم سے بارش کی دعا کی ، آپ کا تضرع و گریہ ابھی تمام نہیں ہوا تھا ،آسمان پر ایک بادل چھا گیا اور ابھی آپ واپس نہیں پلٹے تھے کہ زبر دست بارش ہونے لگی۔ اس طرح لوگوں نے خشک سالی سے نجات پائی۔ اس واقعے کے کئی سال بعد جب پیغمبر اکرم نے رسالت کا اعلان کیا تو حضرت ابو طالب نے نوے(90) بیات پر مشتمل ایک کلام پڑھا۔ یہ حقیقت میں حضرت ابوطالب کا پیغمبر اکرم ص کی رسالت پر اپنے ایمان کا اظہار تھا ۔
سیرہ ابن ہشام میں حضرت ابو طالب کی پیغمبر اکرم ص سے محبت و عقیدت کی داستان نقل ہوئی ہے ۔ ابو طالب پیغمبر اکرم ص کو عبد المطلب کے ہاں سے اٹھا کر اپنے گھر لے آئے ، پھر جناب فاطمہ بنت اسد سے کہنے لگے: جان لیجئے ! یہ میرے بھائی کے فرزند ارجمند ہیں، میرے نزدیک میری جان اور مال سے زیادہ عزیز ہیں۔ کوئی بھی اس( محمد ص )پرفوقیت نہ پائے اور اس سے آگے (مقدم) نہ ہو۔ یہ سن کر فاطمہ بنت اسد مسکراتے ہوئے کہنے لگیں : آپ میرے بیٹے (محمد ص) کے بارے میں مجھے سکھا رہے ہیں! یہ میرے لیے اپنی جان اور بچوں سے زیادہ عزیز ہیں ۔یہاں سے اندازہ ہو تا ہے کہ حضرت ابوطالب اور جناب فاطمہ بنت اسد پیغمبر اکرم کو کس قدر چاہتے تھے۔ پیغمبر اکرم بھی ان دونوں عظیم شخصیتوں سے والہانہ محبت رکھتے تھے ۔ جب حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ابوطالب کی رحلت کی خبر پیغمبر اکرم کو دی تو آپ بہت روئے اور حضرت علی علیہ السلام سے غسل و کفن اور دفن کے انتظام کے لیے فرمایا اور خداوند متعال سے طلب مغفرت اور دعا فرمائی اور اس سال کو”عام الحزن ” یعنی: غم کاسال قرار دیا ۔جب ابوطالب کا جنازہ لا یا گیا توآپ نے فرمایا: اے میرے چچا جان! آپ نے یتیم کی سرپرستی کی ، بچے کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور بڑوں کی مدد کی ۔ خداوند عالم میری طرف سے آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔
حضرت ابوطالب علیہ السلام
حضرت ابو طالب ہر مشکل وقت میں پیش قدم اور مشکلات کے حل کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ لوگوں کو پانی پہنچانے کے ذمہ داری آپ کے کندھوں پرتھی
مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=13171












