وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله جوادی آملی نے شیراز میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور لیکچرار سے گفتگو کے دوران کہا کہ قرآن کریم میں کچھ ایسے دلائل و براہین ہیں جسے انسان سمجھ سکتا ہے۔ ﴿وَیعَلِّمُکُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ﴾، لیکن کچھ انسان کی سمجھ سے باہر ہیں، جیسا کہ فرماتا ہے: ﴿وَیعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَکُونُوا تَعْلَمُونَ﴾؛ تم انہیں سیکھ نہیں سکتے! اس کے علاوہ قرآن کریم میں کچھ ایسے اخلاقی نکات ذکر کئے گئے ہیں کہ جو دوسرے لوگوں نے بھی بیان کئے ہیں یا تھوڑا غور و فکر سے انسان خود بھی ان کی رعایت کے لازم ہونے کو سمجھ سکتا ہے جیسے عدل کرو، غریب و فقیر کی مدد کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو وغیرہ۔ لیکن اس جہان میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے کہ جس سے کوئی باخبر نہیں کوئی فلسفی اس تک نہیں پہنچ سکتا!
ان کا کہنا تھا کہ فلاسفر اور متکلمین خدا کے وجود کو ثابت کرنے کیلئے مختلف دلائل ذکر کرتے ہیں: جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بھی اثر یا نتیجہ مؤثر کے بغیر ممکن نہیں۔ کوئی نا کوئی اثر ڈالنے والا ضرور ہے۔ اس دنیا پر قائم یہ نظام دلالت کرتا ہے کہ کوئی ناظم ہے جو اسے چلا رہا ہے۔ قرآن کریم میں بھی اس طرح کے بہت سے دلائل موجود ہیں: ﴿أَفَلَا ینْظُرُونَ إِلَی الْإِبِلِ کَیفَ خُلِقَتْ﴾، یہ سب اپنی جگہ لیکن قرآن کریم میں ایک ایسے راستے کو بیان کیا گیا ہے کہ جسے خدا کے علاوہ کسی نے انجام نہیں دیا اور نا ہی کوئی انجام دے سکتا ہے اور وہ یہ کہ خداوندعالم نے ایک جلسہ رکھا جس میں تمام لوگوں کو جو ہم سے پہلے آئے اور چلے گئے، جو ہمارے زمانے میں موجود ہیں یا جو ہمارے بعد قیامت تک آئیں گے، سب کو جمع کیا اور ان سے ایک وعدہ لیا اور انہیں اپنا جلوہ دکھایا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَی أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی﴾؛ کیا مجھے پہچانتے ہو؟ سب نے کہا: جی، ہاں!
آیت اللہ جوادی نے کہا کہ یہ منظر کسی فلسفی کتاب میں موجود نہیں۔ فلسفی قوانین کی بنیاد پر جب آپ کسی گھڑی کو دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ اسے کسی نے اختراع کیا ہے(بنایا ہے)؛ لیکن کس نے؟ یہ نہیں جانتے! اس قالین کو دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ ضرور اسے کسی نے بُنا ہے، لیکن کس نے؟ یہ نہیں جانتے! لیکن انسان، زمین و آسمان، اس سب پر حاکم نظام ایسا نہیں کہ سوال کیا جائے اس کا بنانے والا کون ہے، کیونکہ اس نے پہلے ہی اپنے آپ کو پہچنوایا ہے اور ایسے پہچنوایا ہے کہ انسان کے پاس اب کوئی بہانہ باقی نہیں رہا! ﴿وَأَشْهَدَهُمْ عَلَی أَنْفُسِهِمْ﴾؛ گویا کسی آئینہ کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا ہو، لہٰذا مشرق سے مغرب تک کسی کے پاس کوئی بہانہ باقی نہیں رہتا، ﴿شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یوْمَ الْقِیامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِینَ﴾؛ ہم سب گواہ بنتے ہیں تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے! قیامت کے دن کوئی بہانہ نہیں لا پائے گا کہ ہم کافروں کے درمیان تھے اور حقیقت سے بے خبر تھے یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے: ﴿أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیةً مِنْ بَعْدِهِمْ﴾
ان کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ ہم سب کے اندر موجود ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوگا لیکن کبھی کبھار ہم غفلت کی بنا پر اس کی جانب توجہ نہیں کرتے اور اس سے دور ہو جاتے ہیں!












