9

سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ عصرِ حاضر کے عظیم مجاہد

  • News cod : 62234
  • 26 سپتامبر 2025 - 9:21
سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ عصرِ حاضر کے عظیم مجاہد
سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ عصرِ حاضر کے اُن عظیم مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے اپنی بصیرت، شجاعت اور ایمانِ راسخ کے ذریعے نہ صرف لبنان بلکہ پورے عالمِ عرب اور امتِ اسلامیہ کے لیے عزت و وقار کا پرچم بلند کیا۔ وہ حزب اللہ لبنان کے تیسرے دبیرکل تھے اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اس تحریک کو قیادت عطا کرتے رہے

شہید سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ

سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ عصرِ حاضر کے اُن عظیم مجاہدین میں سے تھے جنہوں نے اپنی بصیرت، شجاعت اور ایمانِ راسخ کے ذریعے نہ صرف لبنان بلکہ پورے عالمِ عرب اور امتِ اسلامیہ کے لیے عزت و وقار کا پرچم بلند کیا۔ وہ حزب اللہ لبنان کے تیسرے دبیرکل تھے اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اس تحریک کو قیادت عطا کرتے رہے۔

سید حسن نصراللہ 31 اگست 1960 کو بیروت میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان جنوب لبنان کے علاقے بازوریہ سے تعلق رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے دین اور روحانیت کی طرف مائل تھے، لیکن والدین ابتدا میں اس رجحان کے مخالف تھے۔ 1976 میں وہ نجف اشرف گئے اور آیت اللہ سید محمدباقر صدر کے توسط سے دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ وہاں سید عباس موسوی ان کے استاد اور مربی تھے۔ بعد ازاں عراق میں حالات خراب ہونے کے باعث لبنان واپس آئے اور بعلبک میں مدرسہ امام منتظر ع کے قیام کے ساتھ علمی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا۔ ایک سال قم مقدس میں بھی تعلیم حاصل کی جہاں انہیں آیت اللہ ہاشمی شاهرودی، آیت اللہ کاظم حائری اور آیت اللہ فاضل لنکرانی جیسے مراجع سے استفادہ کا موقع ملا۔

نوجوانی میں آپ جنبش امل کے رکن رہے، لیکن 1982 میں اسرائیلی جارحیت کے پس منظر میں انہوں نے اپنے دیگر انقلابی رفقاء کے ساتھ حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔ سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد 1992 میں محض 32 برس کی عمر میں جرنل سیکٹری منتخب ہوئے اور اس منصب پر اپنی شہادت تک باقی رہے۔ان کی قیادت میں حزب اللہ نے 2000 میں جنوبی لبنان کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرایا۔ 2004میں اسرائیل سے قیدیوں اور شہداء کے اجساد کی واپسی کو ممکن بنایا۔ 2006کی 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کو تاریخی شکست دی۔2017 میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کو شام اور لبنان سے پسپا کیا۔ یہ کامیابیاں سید حسن نصراللہ کو عرب دنیا کا سب سے بااثر اور محبوب رہنما بنا گئیں۔ سید حسن نصراللہ کا امام خمینی رح اور امام خامنہ‌ای سے خصوصی تعلق رہا۔ پہلی بار 1980 کی دہائی میں امام خمینی سے ملاقات کی، جبکہ بعد کے عشروں میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ‌ای کو اپنی روحانی و سیاسی رہنمائی کا سرچشمہ مانتے رہے۔ شہید قاسم سلیمانی اور دیگر مجاہدین کے ساتھ ان کا گہرا رشتہ تھا۔ اسی تعلق نے حزب اللہ کو محور مقاومت کی مرکزی قوت میں بدل دیا۔ ان کے بڑے بیٹے سید محمدہادی نصراللہ 1997 میں محاذِ جنگ پر اسرائیلی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

شہید سید حسن نصراللہ نے اپنی پوری زندگی اسلام، مقاومت اور عزتِ انسانی کے لیے وقف کی۔ وہ نہ صرف لبنان کے بلکہ امت مسلمہ کے ہیرو تھے۔ ان کی شہادت نے اگرچہ ایک عظیم قائد کو ہم سے جدا کیا، لیکن ان کی فکر، جدوجہد اور استقامت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئی۔ حقیقت یہی ہے کہ سیدِ مقاومت ایک شخص نہیں بلکہ ایک تاریخ، ایک مکتب اور ایک نہ ختم ہونے والی تحریک کا نام ہے۔

🔰کپی شدہ ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=62234