دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























مولائے متقین اپنے اس کلام میں ایک ایسے معاشرے کی عمومی صفت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کی روح ابھی تک اسلامی نہیں ہوئی۔ جس معاشرے کی اکثریت قرآنی تعلیمات اور اسلامی طرز معاشرت کو نہ اپنا چکی ہو تو یقینا ایسے معاشرے میں ایسی ہی طرز فکر پروان چڑھتی ہے۔ زندگی کے معیارات اور اصول بھی اپنا خودساختہ اپناتے ہیں۔ انہی خودساختہ اصولوں میں سے ایک کو مذکورہ کلام میں امام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت کا معیار لوگوں کے پاس مال دنیا اور قدرت و نامداری ہے۔ اور مذمت کا معیار بھی فقر و تنگدستی اور گمنامی۔
اگر آج ہمارے معاشرے میں نفرتیں، دشمنیاں، لڑائی جھگڑے، قتل و غارتگری اور دہشت گردی وغیرہ بہت عام ہیں تو ان سب کی ایک بنیادی سبب ہمارے معاشرے میں تحمل کا فقدان ہے۔ اگر والدین اور اولاد میں تحمل نہ ہو تو نفرتیں جنم لیتی ہیں۔