دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























حضرت امیر المومنینؑ فرماتے ہیں: ’’عاجز ترین انسان وہ جو بھائی (دوست) حاصل کرنے سے عاجز آجائے۔ اور اس سے بھی عاجز وہ جو پائے ہوئے کو کھو دے۔‘‘
مولائے متقین اپنے اس کلام میں ایک ایسے معاشرے کی عمومی صفت کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں جس کی روح ابھی تک اسلامی نہیں ہوئی۔ جس معاشرے کی اکثریت قرآنی تعلیمات اور اسلامی طرز معاشرت کو نہ اپنا چکی ہو تو یقینا ایسے معاشرے میں ایسی ہی طرز فکر پروان چڑھتی ہے۔ زندگی کے معیارات اور اصول بھی اپنا خودساختہ اپناتے ہیں۔ انہی خودساختہ اصولوں میں سے ایک کو مذکورہ کلام میں امام نے بیان فرمایا ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت کا معیار لوگوں کے پاس مال دنیا اور قدرت و نامداری ہے۔ اور مذمت کا معیار بھی فقر و تنگدستی اور گمنامی۔
وَ قَالَ امیر المؤمنین علی علیہ السلام : اعْجَبُوا لِهَذَا الْإِنْسَانِ، يَنْظُرُ بِشَحْمٍ وَ يَتَكَلَّمُ بِلَحْمٍ وَ يَسْمَعُ بِعَظْمٍ وَ يَتَنَفَّسُ مِنْ خَرْمٍ. امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: ’’تعجب کرو انسان پر جو چربی سے دیکھتا ہے، اور گوشت (کے لوتھڑے) سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے، اور سوراخ سے سانس لیتا ہے۔‘‘
اگر آج ہمارے معاشرے میں نفرتیں، دشمنیاں، لڑائی جھگڑے، قتل و غارتگری اور دہشت گردی وغیرہ بہت عام ہیں تو ان سب کی ایک بنیادی سبب ہمارے معاشرے میں تحمل کا فقدان ہے۔ اگر والدین اور اولاد میں تحمل نہ ہو تو نفرتیں جنم لیتی ہیں۔
اور سوچ سمجھ کر بولنا عقل کے کمال کی علامت ہے۔ مولا ایک جگہ فرماتے ہیں: "جب عقل کامل ہوتی ہے تو باتیں کم ہوجاتی ہیں۔