1

نصاب سے اسلامی تعلیمات نکالنے کی سفارشات پر تشویش ہے، نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان

  • News cod : 16273
  • 27 آوریل 2021 - 17:01
نصاب سے اسلامی تعلیمات نکالنے کی سفارشات پر تشویش ہے، نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان
وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر حجۃ الاسلام والمسلمین سید مرید حسین نقوی نے نصاب تعلیم سے اسلامی مفاہیم و تعلیمات نکالنے کی ون مین کمیشن کی سفارشات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طرف سے انہیں مسترد کرنے کو مستحسن اقدام قراردیا ہے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر حجۃ الاسلام والمسلمین سید مرید حسین نقوی نے نصاب تعلیم سے اسلامی مفاہیم و تعلیمات نکالنے کی ون مین کمیشن کی سفارشات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طرف سے انہیںمسترد کرنے کو مستحسن اقدام قراردیا ہے۔انہوںنے افسوس کا اظہار کیا کہ انگریزی میں حضور اکرم کی عظمت پر مشتمل مضمون کو بھی نکالنے کی سفارش کرنا قابل مذمت تھا، جبکہ دیگر شعبہ ہائے حیات کی کسی غیر مسلم شخصیت کے بارے بھی ایسی کسی پابندی کا ذکرتک نہیں۔

میڈیا سیل کی طرف سے جاری اعلامیہ میں علامہ مرید نقوی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق سے کہیں زیادہ ملک کے اسلامی مسالک کے عقائدو مذہبی مقدسات کا خیال رکھے اوراس کے منافی ہر قانون کا راستہ روکے۔مدارس، مساجد کی وقف املاک کے ایکٹ کو بھی فی الفور واپس لے۔نیز رسول اکرم، اہل بیت اطہار، ازواج مطہرات اور اصحاب ذی وقار کے بارے بھی عقیدت و احترام کی ترتیب کے صدیوں سے رائج ضابطوں میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ سڈل کمیشن کی جانبدارانہ سوچ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری نصابی کتب میں مسلم یا غیر مسلم کسی سائنسدان، کھلاڑی ، فنکار کا ذکر تو ہو سکتا ہے لیکن نجات دھندہءبشریت ، وجہئ تخلیق کائنات ،خاتم الانبیاءجیسی ہستی کا نہیں۔حالانکہ کسی اقلیت کو حضور کی عظمت سے انکارہے اور نہ ہی یہ مضمون نفرت انگیز مواد کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔نائب صدر وفاق المدارس نے واضح کیا کہ اسلامی معارف اور تعلیمات کو فقط اسلامیات کے مضمون تک محدود کرنا پاکستان جیسی اسلامی نظریاتی مملکت اور ریاستِ مدینہ کے دعووں کی صریح نفی ہے۔متفق علیہ بزرگان و اسلاف کا تذکرہ اچھے مسلمان اور اچھے شہری بنانے کے لئے ضروری ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=16273