5

طلاب کو چاہئے کہ مقدماتی علوم و فنون اپنے ملک میں پڑھ کر تکمیل کے لئے حوزات علمیہ میں جائیں، آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی کا خصوصی انٹرویو (قسط ۱)

  • News cod : 17867
  • 26 می 2021 - 12:39
طلاب کو چاہئے کہ مقدماتی علوم و فنون اپنے ملک میں پڑھ کر تکمیل کے لئے حوزات علمیہ میں جائیں، آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی کا خصوصی انٹرویو (قسط ۱)
مرکز علم و عمل، نجف اشرف سے دروس خارج کی تکمیل آقای سید جواد تبریزی ، آقای سید محمود شیرازی، آقای شیخ عبدالکریم زنجانی، آقای بزرگ تہرانی، آقای سید عبدالاعلی سبزواری اور مرجع اکبر آقای سید محسن الحکیم اعلی اللہ مقامہ سے ہوئی۔ 1960 میں اجازہ اجتہاد لے کر وطن مالوف واپس آیا

بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی  نے تدریس ، تحقیق، تحریر و تبلیغ کے میدان میں عظیم کارنامے انجام دیئے۔ علم و تقوی کی نورانیت اور اخلاق حسنہ کی بدولت آپ کی پر کشش شخصیت نے اپنوں ہی نہیں غیروں بی گرویدہ بنالیا۔ قبلہ محترم اگرچہ کسی تعارف کے محتاج نہیں لیکن انکی زندگی بھر کے علمی و عملی تجربات اور آپ کے حکیمانہ ارشادات، نئی نسلوں کیلے بھی چراغ راہ ہوں گے۔ اسی سوچ اور جذبے کے ساتھ آپ کا انٹرویو قارئیں کی خدمت میں پیش ہے۔ ادارہ

سوال: ابتدا میں مناسب ہوگا کہ آپ اپنے مولد و موطن اور اپنے خاندان کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں تاکہ آپ کے سوانحی خاکہ کو درست معلومات پر ترتیب دیا جاسکے۔
جواب: باسمہ سبحانہ۔ ہمارا مولد و موطن جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا ہے۔ شریف و نجیب زمیندار ڈھکو فیملی سے تعلق ہے۔ اس میں کئی علمی شخصیات گزری ہیں جیسے الحاج مولانا امام بخش مرحوم اور مولانا الحاج حبیب علی مرحوم۔
سوال: عصری تعلیم آپ نے کب اور کس سکول سے شروع کی اور کس مرحلہ تک اس کی تکمیل کی؟
جواب:جہانیاں شاہ ضلع سرگودھا کے سکول میں ثانوی کلاسوں تک عصری تعلیم حاصل کی۔
سوال: دینی تعلیم کا باقاعدہ آغاز آپ نے کب اور کس مدرسہ سے کیا؟
جواب: دینی تعلیم کا آغاز 1945 ء میں مدرسہ محمدیہ جلال پور ننگیانہ ضلع سرگودھا سے کیا کیونکہ علاقہ بھر میں یہی ایک دینی درسگاہ تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی (۱)

سوال: اس مدرسہ کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
جواب: انتخاب کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب متعدد مدارس موجود ہوں جبکہ پنجاب کے ان اضلاع کی یہی واحد دینی درسگاہ تھی۔
سوال: آپ کے اس مدرسہ کے سربراہ و دیگر اساتذہ کرام کون تھے؟
جواب: اس درسگاہ کے پرنسپل اور سربراہ واحد شخصیت حضرت حجت الاسلام مولانا حسین بخش جاڑا مرحوم تھے۔
سوال: اس وقت آپ کے ساتھ مدرسہ کے دیگر طلبہ کرام کی تعداد کیا تھی؟
جواب: دس، بارہ طلبہ کرام ہوں گے۔
سوال: اپنے مدرسہ کی اس وقت کی زندگی کے ایک دن کا صبح سے شام تک کا حال اس طرح بیان فرمائیں کہ اس زمانہ کے طالبعلم کی زندگی کی مکمل تصویر سامنے آجائے۔
جواب: معاشرہ میں دینی طلبا کو حقیر سمجھا جاتا تھا۔ روزانہ مسور کی دال پکتی تھی اور ناشتہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ الغرض نہایت مفلسی سے گزر اوقات ہوتا تھا۔ اس کے باوجود بھی طلاب صبح و شام محنت کر کے اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھتے تھے جس کے ثمرات آج دنیا میں نظر آرہے ہیں۔
سوال: کیا آپ کے ابتدائی طالب علمی کے زمانہ میں ہر طالب علم کے پاس اپنی یا مدرسہ کی تمام درسی کتب ہوتی تھیں؟
جواب: درسی کتب مدرسہ مہیا کرتا تھا۔
سوال: روزانہ تقریبا کتنے دروس پڑھائے جاتے تھے؟
جواب: تین، چار دروس پڑھائے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی (۲)

سوال: کیا طلبہ کو دروس پڑھنے کے ساتھ ساتھ مدرسہ یا مدرسین کیلئے کوئی کام بھی کرنا ہوتے تھے؟
جواب: مدرسیں پڑھانے اور طلبہ کو پڑھنے کے سواکوئی کام نہیں کرنا پڑتا تھا۔
سوال: آپ کے پسندیدہ مضامین کون سے تھے ؟ اورکون سے مضامین سے طبیعت کو دلچسپی نہ تھی؟
جواب: یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب طلبا کو اختیار ہوتا۔ جو نصاب مقرر تھا صرف و نحو و ادب وغیرہ کی کتابیں جو نصاب میں داخل تھیں وہ ضرور پڑھنی پڑتی تھیں۔
سوال: مدرسہ کی زندگی کی کون سی ایسی چیز تھی جو آپ کو بالکل پسند نہ تھی یا جس سے الجھن ہوتی تھی؟
جواب: الحمدللہ طبیعت ایسی پائی ہے کہ جس حال میں خدا رکھے میں راضی برضائے خدا رہتا ہوں۔
سوال: آپ کے پسندیدہ استاذ یا اساتذہ کون کون تھے اور اس پسندیدگی کی وجوہات کیا تھیں؟
جواب: جامع مسجد کے ساتھ تین چار کمرے مدرسہ کے تھے ان میں رہائش تھی اور طعام کے بارے پہلے بتا چکاہوں۔ روزانہ مسور کی دال پکتی تھی وہ بھی ایسی کہ گھی کا نام بھی نظر نہیں آتا تھا۔ العلم فی الجوع کا عالم تھا۔
سوال: مدرسہ کے مالی منابع عام طور پر کیا ہوتے تھے؟
جواب: ننگیانہ خاندان کے بزرگوں نے ایک مربع زرخیز زمین مدرسہ کے نام وقف کر رکھی تھی۔ اس کی آمدنی کے علاوہ اہل ایمان کے زکواۃ، اخماس، صدقات و خیرات بھی تھے۔ بہر حال مدرسہ کے مالی حالات مستحکم تھے۔
سوال: اساتذہ کرام اور طلاب عزیز کے مالی حالات کیسے تھے؟
جواب: گزر اوقات اچھا ہوجاتا تھا۔
سوال: بیمار ہوجانے پر علاج و معالجہ کے لئے کیا انتظام تھا؟
جواب: مدرسہ کی جانب سے مفت علاج، معالجہ کی سہولت میسر تھی۔
سوال: کیا اس دور میں صرف مجرد حضرات ہی طالبعلم ہوتے تھے یا شادی شدہ لوگ بھی مدارس کے باقاعدہ طلاب میں شامل ہوتے تھے؟
جواب: زیادہ تر مجرد،ہی ہوتے تھے اور خال خال شادی شدہ حضرات بھی طلاب میں شامل ہوتے تھے۔
سوال: آپ کے طالب علمی کے زمانہ میں پاکستان کے اندر اور کتنے شیعہ مدارس علمیہ تھے؟ کہاں کہاں تھے؟ اور ان کے سربراہان کون کون سے علماء کرام تھے؟
جواب: اس وقت (1945) کو پاکستان معرض وجود میں نہ آیا تھا۔ پورے صوبہ پنجاب میں ایک یہی مدرسہ محمدیہ جلال پور ننگیانہ میں تھا جس کے سربراہ مولانا حسین بخش جاڑا تھے۔ ایک مدرسہ بدھ رجبانہ تحصیل شور کورٹ، ایک مدرسہ باب العلوم کے نام سے ملتان میں تھا ۔ بدھ رجبانہ میں استاذ العلما مولانا محمد باقر چکڑالوی اور ملتان میں میں مولانا سید محمد یار شاہ سربراہ تھے۔ ایک مدرسہ لاہور میں تھا بنام جامعہ امامیہ جو نواب صاحبان کے جود و سخا کا نتیجہ تھا۔
سوال: آپ نے کب اور کون سے مدرسہ سے پاکستان میں اپنی تعلیم مکمل کی اور کس درجہ تک تکمیل کی؟
جواب: مدرسہ محمدیہ جلال پور سے ہی تعلیم کی ابتدا کی تھی۔ ۲ سال کیلئے بدھ رجبانہ میں داخل ہوا اور جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو میں بدھ رجبانہ میں استاد العلما کے زیر تعلیم تھا جو آخر عمر میں مکفوف البصر ہوگئے تھے اور فنی کتابوں کی تدریس میں ان کو کوفت ہوتی تھی اور جب جواں سال استاد العلما سید محمد یار شاہ مرحوم جلال پور تشریف لے آئے تو میں نے ان کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ مولوی فاضل کا سرکاری امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرکے تکمیل علم و عمل کیلئے مرکز علم، نجف اشرف چلاگیا۔
سوال: آپ کب اعلی تعلیم کیلئے عراق تشریف لے گئے؟ وہاں کن حوزات علمیہ ، مدارس علمیہ میں آپ نے کن اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی؟
جواب: مرکز علم و عمل، نجف اشرف پہنچنے کے بعد بعض سطحیات کی تعلیم استاذ العلما سید ابوالقاسم رشتی اعلی اللہ مقامہ و آقای محقق افغانی مرحوم سے حاصل کی اور دروس خارج کی تکمیل آقای سید جواد تبریزی ، آقای سید محمود شیرازی، آقای شیخ عبدالکریم زنجانی، آقای بزرگ تہرانی، آقای سید عبدالاعلی سبزواری اور مرجع اکبر آقای سید محسن الحکیم اعلی اللہ مقامہ سے ہوئی۔ 1960 میں اجازہ اجتہاد لے کر وطن مالوف واپس آیا۔ الحمدللہ ضمنا یہ بھی کہہ دوں کہ مقدماتی علوم جس طرح اپنے ملک میں پڑھائے جاتے ہیں دیگر ممالک میں اس طرح نہیں پڑھائے جاتے ہیں لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ طلاب کو چاہئے کہ مقدماتی علوم و فنون اپنے ملک میں پڑھ کر تکمیل کے لئے حوزات علمیہ میں جائیں۔
(جاری ہے)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=17867