14

مداد العلماء (۱)

  • News cod : 17001
  • 09 می 2021 - 16:10
مداد العلماء (۱)
نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔

1) آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی

آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی دام ظلہ کے حالات زندگی

بر صغیر کی تقسیم سے قبل اور بعد، مملکت خداداد پاکستان میں خدمت دین مبین کے لئے کئی بزرگان کی اپنے اپنے انداز میں گراں قدر خدمات ہیں۔دینی تعلیم و تربیت کے ناکافی مراکز اور رجال دین کی کمی کی وجہ سے گذشتہ صدی کے نصف اول کے بعد کے دو تین عشروں میں عوامی دینداری کی سطح تشویشناک تھی۔ عقائد کے بگاڑ کا بحران بھی انہی سالوں میں زور پکڑگیا تھا۔ اس دور میں مخلص علما کرام نے نہایت اخلاص و جانفشانی سے دینی فرائض انجام دیئے۔ انہی عظیم شخصیات میں سے ایک جلیل القدر ہستی جناب آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ہیں جنہوں نے نا مساعد حالات و وسائل کی کمی کے باوجود توکل علی اللہ کے سہارے ہدایت وار شاد کی ذمہ داریاں اداکیں۔

تدریس ، تحقیق، تحریر و تبلیغ کے میدان میں عظیم کارنامے انجام دیئے۔ علم و تقوی کی نورانیت اور اخلاق حسنہ کی بدولت آپ کی پر کشش شخصیت نے اپنوں ہی نہیں غیروں بی گرویدہ بنالیا۔ بچپن میں ہی شفقت پدری سے محرومی کا داغ لئے تعلیم کا آغاز کیا۔

پاکستان میں اس دور کی عظیم المرتبت علمی ہستیوں میں حضرت علامہ سید محمد باقر چکڑالوی، حضرت علامہ حسین بخش جاڑا اور حضرت علامہ سید محمد یار شاہ صاحب اعلی اللہ مقامہم کی شاگردی کا شرف حاصل کرنے کے بعد عازم نجف ہوئے۔

نجف اشرف کے علمی و معنوی ماحول سے بھرپور استفادہ کیا۔ باب مدینۃ العلم سے کسب فیض کے بعد وطن واپس تشریف لائے تو کئی چیلنج در پیش تھے۔ اس وقت دینی تعلیم و تربیت کے مراکز یعنی مدارس دینیہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے جن میں چند ایک کے علاوہ باقیوں میں فاضل اساتذہ کا فقدان تھا۔ دختران ملت کی تعلیم و تربیت کے اداروں کا تو شاید تصور تک نہ تھا۔ مساجد میں ضروری دینی معلومات رکھنے والے پیش نمازوں کی بھی سخت کمی تھی۔ عوام تک دین پہنچانے کا سب سے موثر فارم منبر حسینی علمی فقر کا شکار ہی نہیں بلکہ انحرافات کی زد میں تھا۔
غلو و شیخییت کی ایک منظم منصوبہ کے تحت ترویج کی جارہی تھی۔ منبر حسینی کو صحیح عقائد کے خلاف استعمال کیا جارہا تھا۔ غرضیکہ مکتب اہل بیت ؑ کے پیروکار ہر قسم کی دینی مشکلات کے شکار تھے۔ قبلہ نجفی صاحب نے اپنی الٰہی بصیرت اور تشخیص سے ان مسائل کا بروقت ادراک کیا اور پیش تمام چیلنجوں کا مدبرانہ و شجاعانہ انداز میں مقابلہ کرنے کیلئے کمر بستہ ہوئے۔
مولائے کائنات علی بن ابی طالب کے آستانے سے حاصل کردہ علمی سرمائے کے انفاق کیلئے دارالعلوم محمدیہ سرگودھا میں تعلیم و تربیت کا آغاز کیا۔
1960ء میں دینی مدارس کی تنظیم کے سربراہ بنے ساتھ ہی اصلاحی و تبلیغی مجالس کا سلسلہ شروع کیا تو منبر پر قابض و مفاد پرستوں اور ان کے زیر اثر طبقات کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ نے اشرار کے سوء ادب رویوں، گستاخیوں کو صبرو تحمل سے برداشت کیا۔ مخالفتوں، رکاوٹوں کے باوجود راہ حق پر گامزن،سیرت معصومین علیہم السلام کے اس عظیم پیروکار کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی اور لایخافون فی اللہ لومۃ لائم کے مصداق اپنا الٰہی فریضہ حکمت و شجاعت سے انجام دیتے رہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=17001