وفاق ٹائمز، قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ عزاداری سید الشہداءمکتب تشیع کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے جس پر کسی بھی قسم کی قدغن قابلِ قبول نہیں۔ اربعین نواسہ رسول جگر گوشہ بتول کو بھرپور طریقے سے منانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ایک نئی مثال قائم کرنے کی اپیل بھی کی اور امید کا اظہار کیا کہ حکومت و انتظامیہ عزاداری کے راستے میں رخنہ اندازی سے گریز کرتے ہوئے اب تک ہونے والے عزاداری مخالف تمام تر اقدامات واپس لے گی۔شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سبطین سبزواری کی قیادت میں وفدسے ملاقات میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ بزرگ علماءکے زیر اہتمام منعقدہ علماءو ذاکرین کانفرنس مکتب تشیع کا نمائندہ اقدام ہے جو اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن احتجاج کا بہترین عملی نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشیع ایک ذمہ دار اور باوقار مکتب ہے جس نے وطن عزیز پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نہ صرف متحرک کردار ادا کیا ہے بلکہ ملکی بقاءکے لیے گرانقدر قربانیاں بھی دی ہیں ،جو اظہر من الشمس ہیں۔ اسی لیے مکتب تشیع نے ایک ذمہ دار ہونے کے ناطے اپنے شہری اور مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی پرامن اور پروقار احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے مکتب تشیع کے اس پرامن احتجاج کو حکومت کے لیے الارم سے تعبیر کرتے ہوئے اس اقدام کو نکتہ آغاز قرار دیا اور واضح کیا کہ سرکاری اہلکاروں کے ذریعہ اہل تشیع کے خلاف روا رکھے جانے والے معاندانہ رویہ کو ترک کیا جانا چاہیے اور ملکی شہری ہونے کے ناطے اہل تشیع کو حاصل مذہبی آزادی پر قدغن عائد کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے جو آئین و قانون سے متصادم ہے۔
عزاداری سید الشہداءمکتب تشیع کا بنیادی آئینی حق ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ایک نئی مثال قائم کرنے کی اپیل کی اور امید کا اظہار کیا کہ حکومت و انتظامیہ عزاداری کے راستے میں رخنہ اندازی سے گریز کرتے ہوئے اب تک ہونے والے عزاداری مخالف تمام تر اقدامات واپس لے گی
مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=22827












