28

آن لائن غیر مصدقہ مذہبی مواد نہ ہٹانے کا معاملہ، وزیراعلیٰ ہائیکورٹ طلب

  • News cod : 25086
  • 06 نوامبر 2021 - 14:36
آن لائن غیر مصدقہ مذہبی مواد نہ ہٹانے کا معاملہ، وزیراعلیٰ ہائیکورٹ طلب
دورانِ سماعت جسٹس شجاعت علی خان نے کہا عدالت کو کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں، عدالتی حکم پر عمل چاہیے، کیوں نہ وزیراعلیٰ کو بلالیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو کا اس بارے میں کیا موقف ہے، اگر وہ اس بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے تو درخواست واپس لے لی جائے۔ عدالت نے لا افسر کو کہا کہ وہ چیف منسٹر کو پیر کے روز بلا لیں۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، قرآن پاک اور دیگر مذہبی کتب کے متعلق سوشل میڈیا سے غیر مصدقہ مواد نہ ہٹانے کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے اور ڈی جی ایف آئی اے کے پیش نہ ہونے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو 8 نومبر کو طلب کر لیا۔ جسٹس شجاعت علی خان نے درخواستگزار حسن معاویہ کی درخواست پر سماعت کی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم بابر بخت قریشی، ڈی پی او جھنگ سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔ جسٹس شجاعت علی خان نے ڈی پی او جھنگ سے کہا عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر کیوں نہ آپ کو سزا دے دیں۔ جسٹس شجاعت علی خان نے قران پاک کے ترجمہ کے متعلق عدالتی فیصلہ کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ ہم سب کا معاملہ ہے، پولیس کا جو حال ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ لا افسر نے کہا کہ عدالت میں رپورٹ جمع کروا دیتے ہیں۔

جسٹس شجاعت علی خان نے کہا عدالت کو کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں، عدالتی حکم پر عمل چاہیے، کیوں نہ وزیراعلیٰ کو بلالیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو کا اس بارے میں کیا موقف ہے، اگر وہ اس بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے تو درخواست واپس لے لی جائے۔ عدالت نے لا افسر کو کہا کہ وہ چیف منسٹر کو پیر کے روز بلا لیں۔ درخواستگزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے 5 مارچ 2019 کو اپنے فیصلے میں قرآن پاک اور مذہب کے بارے میں ویب سائٹ، سوشل میڈیا سمیت دیگر پورٹل سے غیر مصدقہ مواد ہٹانے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم کے باوجود غیر تصدیق شدہ مواد نہیں ہٹایا گیا۔ درخواستگزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت اپنے فیصلے کے مطابق قران پاک اور مذہبی کتب کے متعلق غیر تصدیق شدہ مواد ہٹانے کا حکم دے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=25086