2

اسلوب ِتبلیغ قرآن مجید کی روشنی میں

  • News cod : 26144
  • 05 دسامبر 2021 - 10:49
اسلوب ِتبلیغ قرآن مجید کی روشنی میں
قرآن مجید میں ہر سورے کی ابتدا بسم اللہ سے ہوئی ہے اورقرآن میں بہت سے موارد بیان ہوا ہے کہ انبیاء ؑ اپنے کام کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے ۔ لہذا ہر کام کو بسم اللہ سے شروع کرنا سنت الہٰی اور سنت انبیاءؑ ہے ۔ روایات میں بسم اللہ کے بغیر کسی بھی کام کو انجام دینے سے مذمت کی گئی ہے ۔جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی ہے ؛” کلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَمْ یُبْدَأْ بِبِسْمِ اللّٰہِ فَھُوَ اَبْتَر " یعنی ہر وہ اہم کام جسے اللہ کے نام سے شروع نہ کیا جائے اپنے مطلوبہ انجام تک نہیں پہنچتا۔

سید محمود رضوی ( متعلم جامعہ الکوثر)

استاد رہنما: علامہ انتصار حیدر جعفری
مقدمہ
تمام حمد و ثنا ہے اس اللہ کے لئے جس نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے انبیاء کو مبعوث کیا ۔لاکھوں درود و سلام ہوں اس کے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے آل پر کہ جنہوں نے نور ہدایت سے اس تاریک دنیا کو روشن کیا اور حضرت انسان کو صراط مستقیم کی طرف گامزن کیا جبکہ اس سے پہلے یہ انسان بحر ظلمات میں بھٹکتا پھر رہا تھا۔جیسا کہ یہ واضح ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ساری زحمات اور تکلیفیں برداشت کرکے تبلیغ رسالت کے فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ اور آئمہ اہل البیت علیہم السلام نے بہت ساری مصیبتوں اور مظلومیت کے عالم میں بھی اس دین کی حفاظت کی ۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے “(اے رسول) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں، یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔”
ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے ” کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ”
لہذا ان آیات کے مطابق ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی بساط کے تحت اس دین کی حفاظت اور اس کی ترویج و تبلیغ کے لئے کوشش کریں ۔کسی بھی کام کو انجام دینے کے لئے اس کے خاص اسلوب اور طریقے ہوتے ہیں کہ جن کے مطابق اس کام کو بہتر انداز میں انجام دے کر پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تبلیغ دین کے بھی کچھ طریقے اور کچھ اسلوب ہیں کہ مبلغ جن کو ملحوظ نظر رکھ کر بہتر انداز میں اس فریضے کو انجام دے سکتا ہے۔ درحقیقت پورےقرآن مجیدکا اسلوب ِ بیان ہی اسلوب تبلیغ ہے لیکن اس تحریر میں ہم نے اختصار کی خاطر چند اسالیب تبلیغ کو آیاتِ قرآن کی روشنی میں ذکر کیا ہے ۔
اسلوب ِتبلیغ قرآن مجید کی روشنی میں
قران مجید خود ہادی و مبلغ ہےلہذا تبلیغ کے طور و طریقے خود قرآن سے ہی اخذ کرنے چاہئیں اس لئے قرآن کی آیات کی روشنی میں تبلیغ کے کچھ اسلوب اور طریقےاختصار کے ساتھ ذکر کئے جا رہے ہیں ۔
1۔ اللہ کے پاک نام سے آغاز
کسی بھی عمل کا اثر حقیقی توفیقِ خداوندی اور اللہ تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے ۔ پس ضروری ہے کہ مبلغ اپنے کلام کا آغاز “بسم اللہ الرّحمٰن الرّ حیم ” سے کرے۔اس سے اس کا کلام مستحکم اور مخاطب کیلئے پُر اثر ہوگا۔ جیسا کہ سب سے پہلے جب پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی نازل ہوئی تو بسم اللہ کے ساتھ قران مجید کی پہلی آیت ” بسم اللہ الرّحمٰن الرّ حیم ٭ اقراء باسم ربّک الّذی خلق ” نازل ہوئی۔
قران کی یہ پہلی آیت مجیدہ نہ صرف بسم اللہ کے ساتھ نازل ہوئی بلکہ اللہ کے پاک نام سے پڑ نے کا حکم دیا۔اسی لئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ بسم اللہ سے اعلان کرتے تھے اور جہر کے ساتھ تلاوت کرتے تھے ۔امام جعفر صادق ؑ سے روایت کی گئی ہے آپ ؑ نے فرمایا : کان رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ یجھر ببسم اللہ الرحمن الرحیم و یرفع صوتہ بہا ؛
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بسم اللہ الرحمن الرحیم کو جہر کے ساتھ پڑتے تھے اور بلند آواز سے پڑھتےتھے۔ ”
اسی طرح حضرت سلیمان ؑ نے جب ملکہ سبا کو دعوت دین دینے کے لئے ھُدھُد کے ذریعے خط بھیجا تو شروع میں لکھا ” انہ من سلیمان و انہ بسم للہ الرحمن الرحیم ”
قرآن مجید میں ہر سورے کی ابتدا بسم اللہ سے ہوئی ہے اورقرآن میں بہت سے موارد بیان ہوا ہے کہ انبیاء ؑ اپنے کام کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے ۔ لہذا ہر کام کو بسم اللہ سے شروع کرنا سنت الہٰی اور سنت انبیاءؑ ہے ۔ روایات میں بسم اللہ کے بغیر کسی بھی کام کو انجام دینے سے مذمت کی گئی ہے ۔جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی ہے ؛” کلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَمْ یُبْدَأْ بِبِسْمِ اللّٰہِ فَھُوَ اَبْتَر ”
یعنی ہر وہ اہم کام جسے اللہ کے نام سے شروع نہ کیا جائے اپنے مطلوبہ انجام تک نہیں پہنچتا۔
لہذا مبلغ کا اول فریضہ یہ ہے کہ وہ بسم اللہ سے خطاب کا آغاز کرے۔اس کے بعد انبیاء اور ائمہ اہل بیتؑ کی سنت کے مطابق اللہ کی حمد وثنا کرے اور حکمِ قرآن کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آئمہ اہل البیت ؑ پر درود وسلام بھیجنا بھی مبلغ کے لئے ضروری ہے۔
2۔ قرآن و سنت کے مطابق
چونکہ مبلغ کا ھدف اور مقصد دین کی تبلیغ و ترویج کرنا ہے دین کی اشاعت کے ذریعے رضائے الہٰی حاصل کرنا مقصود ہے لہذا مبلغ پر لازم ہے کہ وہ ذاتی مصلحت کا شکار نہ ہو اور اس کا کلام اور اس کا بیان اپنی خواہشات کی بنا پر نہ ہو بلکہ اس کی ساری باتیں اور سارا خطاب آیات الہٰی و سنت انبیاءؑ اور سنت اہل البیتؑ کے موافق ہو، وحی الہٰی سے ارتباط رکھتاہواورقرآن و سنت محض اور محض لوگوں کے لئے ھادی ہے نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام قرآن کے بارے میں فرماتےہیں ؛
” انَّ سبحانہ انزل کتابا ھادیا بیَّن فیہ الخیر و الشر فخذو نہج الخیر تھتدوا و َ اصدفو عن سَمت الشر تقصد
ترجمہ ؛ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہدایت کرنے والی کتاب نازل فرمائی ہے کہ جس میں اچھائیوں اور بُرائیوں کو ( کھول کر ) بیان کیا ہے ۔ تم بھلائی کا راستہ اختیار کرو تاکہ ہدایت پا سکو اور برائی کی جانب سے رخ موڑ لو تاکہ سیدھی راہ پر چل سکو ۔ ”
حق کے مطابق ہونا ہی صراط مستقیم ہے اس کے علاوہ انحراف کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مبلغ اعظم پیغمبر اکرم ؐ سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ؛
” فاستمسک بالَّذی اُوحیَ اِلیک اِنَّک علی صراط مستقیم ”
ترجمہ: پس آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس سے تمسک کریں، آپ یقینا سیدھے راستے پر ہیں۔
اب جو شخص دورانِتبلیغ قرآن سے تمسک رہتا ہے وہ خواہشات سے کوسوں دور رہتا ہے کیونکہ اس نے مصدر وحی سے تمسک کیا ہے جس کے بارے میں اللہ ارشاد فرماتا ہے “الم ٭ ذلک الکتاب لا ریب فیہ٭ ھدی للمتقین
ترجمہ: یہ کتاب، جس میں کوئی شبہ نہیں، ہدایت ہے تقویٰ والوں کے لیے۔
لہذا مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ تبلیغ کرتے ہوئے قرآن کی طرف خاصا متوجہ رہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ طاہرین ؑ اپنی احادیث میں قرآن سے استناد کرتے تھے ۔قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قول کو حکایت کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ” اُمرتُ اَن اکون من المسلمین ٭ و اَن اَتلوالقرآن ”
ترجمہ : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں اور یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناؤں۔
3۔ حق کے مطابق
جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا کہ مبلغ پر لازم ہے اس کی باتیں حق کی باتیں ہو اسی اہمیت کے پیش نظر امام زین العابدین علیہ السلام نے کلام حق کو پورے دین کا مغز کل قرار دیا ہے ، آپؑ سے جمیع شرائع دین کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا : ” قول الحق والحکم بالعدل والوفابالعھد ”
ترجمہ : یعنی حق بات کہنا ،عدل سے حکم دینا اور وعدے کو پورا کرنا ۔
اور مسلم کے واجبات میں سے ہے کہ وہ حق بات کہے اگر چہ اس سے اسے ضرر پہنچے ۔ امام کاظم علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے
” قُل الحق و اِن کان فیہ ھلاکک ”
ترجمہ : حق بات کہ دو اگر چہ اس میں تمہارے لئے نقصان ہو۔
4۔ کلام کا پاک و جاذب ہونا
ضروری ہے کہ مبلغ کا کلام پاک ہو یعنی الفاظ اور جملات کا چناؤایسا ہو جو معاشرے میں برا شمار نہ ہوتا ہو جس سے غلط تصور نہ لیا جاتا ہو اور دوسری بات یہ کہ اس کے کلام میں جاذبیت ہو ۔کیونکہ اللہ کا راستہ پاکیزگی کا راستہ ہے اور انسان کی فطرت پاکیزگی کو پسند کرتی ہے اس طرح مبلغ کا کلام مخاطب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ ارشاد فرماتا ہے : “وَ ہُدُوۡۤا اِلٰی الطَّیِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ ۚۖ وَ ہُدُوۡۤا اِلَی صِرَاطِ الۡحَمِیۡدِ ”
ترجمہ :ا ور انہیں پاکیزہ گفتار کی طرف ہدایت دی گئی اور انہیں لائق ستائش (خدا) کی راہ دکھائی گئی ہے۔
اچھے کلام سے ہی اللہ راضی ہے اور اللہ کے ہاں قبول ہوتاہے اور بری باتوں کا اللہ کے ہاں کوئی اجر نہیں جیسا کہ اللہ ارشاد فرماتاہے
” مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ جَمِیۡعًا ؕ اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ”
ترجمہ: جو شخص عزت کا خواہاں ہے تو (وہ جان لے کہ) عزت ساری اللہ کے لیے ہے ، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف اوپر چلے جاتے ہیں اور نیک عمل اسے بلند کر دیتا ہے۔
کلام ِ خبیث شجرہ خبیثہ کی طرح ہے کہ جس کی نہ شاخیں ہیں نہ زمین میں نمو ہے یعنی جس کاکوئی ثبات نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
“اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ٭ تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ”
ترجمہ: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال پیش کی ہے کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں؟ ٭ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
“وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ”
ترجمہ : اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا گیا ہو اور اس کے لیے کوئی ثبات نہ ہو ۔
شیخ الجامعہ ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں : کلمہ خبیثہ، کلمہ طیبہ کے مقابلے میں ہے۔ کلمہ حق کے مقابلے میں آنے والا کلمہ،باطل، صحیح عقائد کے مقابلے میں آنے والے عقائد، فاسد ہیں اور ہر مبنی برحقیقت نظام حیات کے مقابلے میں آنے والانظام، فاسد ہ ہے ۔ کلمہ حق کی استواری اور کلمہ باطل کی بے ثباتی سب پر واضح ہے۔ چنانچہ وہ کلمہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بلند کیا اس کی گونج آج تک پوری طاقت کے ساتھ اطراف کائنات میں موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں آنے والے ہزاروں نمرودوں کے نام صرف صفحہ تاریخ پر چند سیاہ حردف میں باقی ہیں۔
5۔ مبلغ کا مقصد ہدایت ہو
مبلغ کے لئے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کی خاطر تبلیغ کر رہا ہوں ۔ورنہ اپنا علم دکھانے یا لوگوں کو خوش کرنے کی اور خود نمائی میں اپنا اصل ھدف کھو بیٹھے گا ۔انبیاءؑ کو مبعوث کرنے کا مقصد ہی لوگوں کو ہدایت سے سرفراز کرنا تھا یعنی ان مبلغین کا کام ہی لوگوں کو ہدایت دے کر معاشرے کی اصلاح کرنا ہے ۔ جیسا کہ اللہ اپنے حبیب سے مخاطب ہو کے فرماتا ہے: ” اِنّا ارسلناک ۔۔۔و داعیا الی اللہ باذنہ ”
ترجمہ: ( اے رسول ) بیشک ہم نے آپ ؐ کو اللہ کے اذن سے دعوت دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔
لہذا ضروری ہے کہ مبلغ کا کلام ھادی ہو ۔لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکالنے ولا ہو اور یہی قرآن کریم کے نزول کا ھدف و مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ لِتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ۙ بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ۙ
ترجمہ : الف لام را،یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے اذن سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں، غالب آنے والے قابل ستائش اللہ کے راستے کی طرف۔
قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے : قَدۡ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ نُوۡرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ
ترجمہ: بتحقیق تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔
6۔ کلام میں حسن ہو
پوران قرآن مبلغ قرآن کے صفات سے بھرا ہوا ہے ان میں سے ایک یہ کہ اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے احسن الکلام کو نازل کیا ہے جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے : ” اللہ نزّل اَحسن الحدیث کتابا ”
ترجمہ : اللہ نے ایسی کتاب کی شکل میں بہترین کلام نازل فرمایا ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے : ”و قل لعبادی یقول الّتی ھی احسن ”
ترجمہ: اے رسول میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہ ایسی بات کہہ دیں جو حسن ہو۔
ایک ایت مجیدہ میں فرماتاہے : “و قولو للنّاس حسنا ” لوگوں کو اچھی باتیں کہو۔
لہذا مبلغ پر بھی لازم ہے کہ وہ باتیں بتائیں جس میں حسن ہو ۔

7۔دعوت بالحکمۃ
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخاطب ہو کر فرمایا : اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ٭
ترجمہ : (اے رسول) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں، یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
اس آیت مجیدہ میں اللہ نے تبلیغ کے عین اسالیب کو بیان کیاہے اور تبلیغ کے بنیادی تین اسلوب کو ذکر کیا ہے ۔جن میں سے ایک شروع میں فرمایا ” اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ ” یعنی حکمت کے ساتھ اللہ کی راستے کی طرف دعوت دو۔
حکمت کی تعریف
شیخ الجامعہ حکمت کے بارے میں فرماتے ہیں : حکمت یعنی حقائق کا صحیح ادراک۔ لہٰذا حکمت کے ساتھ دعوت دینے سے مراد دعوت کا وہ اسلوب ہو سکتا ہے جس سے مخاطب پر حقائق آشکار ہونے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ لہٰذا واقع بینی کی دعوت دینا حکیمانہ دعوت ہو گی۔
دعوت کو حکیمانہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مخاطب کی ذہنی و فکری صلاحیت، نفسیاتی حالت، اس کے عقائد و نظریات اور اس کے ماحول و عادات کو مدنظر رکھا جائے۔ موقع اور محل اور مقتضی حال کے مطابق بات کی جائے کہ مخاطب کو کون سی دلیل متاثر کر سکتی ہے۔ اس بات پر بھی توجہ ہو کہ ہر بات، ہر جگہ نہیں کہی جاتی بلکہ ہر حق کی بات ہر جگہ نہیں کہی جاتی۔ جیسا کہ ہر دوائی سے ہر مریض کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ ہر صحیح علاج بھی ہر مریض کے لیے مناسب نہیں ہوتا، اگر مریض کا معدہ اس دوائی کو ہضم کرنے کے قابل نہ ہو۔ جیسا کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغ اسلام میں تدریجی حکمت عملی اختیار فرمائی اور شروع میں
صرف پر اکتفا فرمایا چونکہ یہ حکیمانہ تقاضوں کا منافی تھا کہ شریعت کے تمام احکام بیک وقت تبلیغ اور نافذ کیے جائیں۔
حکمت‘ انسانیت پر بہت بڑی نعمت ِ خداوندی ہے۔ یہ حکمت کسے اور کتنی دینی ہے؟ اور اس سے کیا نتائج اخذ کرنے ہیں؟ یہ حکیمِ کبیر، علیم و خبیر اور عزیز و رحیم کی اپنی صوابدید ہےمگر یہ حقیقت ظاہر و کائنات پر غالب ہے اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے :
یُّؤۡتِی الۡحِکۡمَۃَ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
ترجمہ: وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جسے حکمت دی جائے گویا اسے خیر کثیر دیا گیا ہے اور صاحبان عقل ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔
جسے ’حکمت‘ جب، جتنی اور جس مقصد کے لئے عطا کی گئی، دراصل اُسے دنیا جہان کی سب سے بہتر، قیمتی، مفید،مؤثر، فیصلہ کن نتائج، بھلائیوں، کامرانیوں اور عظمتوں کی کنجی عطا کردی گئی۔
اللہ رب العزت نے اپنی حکمت و مشیت کے تحت اولاً اپنے انبیاء ؑ و رسلؑ کو ’حکمت ‘ عطا کی۔ یہ اپنے اپنے عہد کے خیرالخلائق،پاکیزہ، خدا کے مقرب ترین اور تاابد انسانیت کے لئے مقتدی ا و ررہنما ہیں۔ اسی طرح کچھ دیگر نیک اور پارسا لوگوں کو بھی حکمت کی دستارِ فضیلت سے نوازتا گیا اور ان کے اقوالِ حکمت اور طریق حکمت کو کتابِ حکمت ’قرآن حکیم‘ میں ذکر کرکے انہیں امر کردیا گیا۔
8۔ دعوت بالموعظۃ الحسنہ
اس کے بارے میں پہلے بھی بیان کیا ہے یہاں چونکہ مذکورہ آیۃ مجیدہ میں ذکر آیا ہے اس لئے اس پر مذکورہ آیۃ مجیدہ کی روشنی میں اس مزید وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں جیسا کہ پہلے بیان کیا موعظہ حسنہ یعنی لوگون کو اچھی باتوں کے ساتھ وعظ و نصیحت کرنا ۔ عمدہ نصیحت سے مراد یہ ہے کہ جو بات آپ کہیں میٹھے اور دلنشیں انداز میں کہیں جو مخاطب کے دل میں اتر جائے۔ عقلی دلیل کے ساتھ ترغیب و ترہیب اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائیں آپ کے دل میں اس کے لیے تڑپ ہونی چاہیے۔ حتیٰ کہ مخاطب یہ سمجھے کہ آپ فی الواقع اس کے ہمدرد ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ مخاطب پر اپنی علمی برتری جتلانے اور اسے مرعوب کرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔
شیخ الجامعہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں : موعظہ حسنہ۔ موعظہ کے ساتھ حسنہ کی قید سے معلوم ہوا کہ موعظہ غیر حسنہ بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس دعوت میں ہر قسم کا موعظہ درکار نہیں ہے۔ مثلاً وہ موعظہ جس میں واعظ اپنی بڑائی دکھانا چاہتا ہے اور مخاطب کو حقیر سمجھتا ہے یا صرف سرزنش پر اکتفا کرتا ہے۔
موعظہ حسنہ کے لیے سب سے پہلے خود واعظ کے لیے اس موعظہ کا پابند ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا موعظہ حسنہ اور مؤثر نہ ہو گا بلکہ ایسا کرنا قابل سرزنش ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوا : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴿﴾ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ
ترجمہ :اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں ہو۔
موعظہ حسنہ ہونے کے لیے دوسری شرط یہ ہے کہ یہ موعظہ دل سوزی، خیر خواہی کے ساتھ ہو اور مخاطب اس بات کو محسوس کرے کہ ناصح کے دل میں اس کے لیے ہمدردی ہے۔ وہ اس کی مخلصانہ اصلاح چاہتا ہے۔
9۔ دعوت بالمجادلہ
اللہ تعالیٰ نے سورہ نحل کی مذکورہ آیت مجیدہ میں ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا کہ حکمت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دو پھر حکم دیا موعظہ حسنہ سے حکم دو اور آخر میں فرمایا بہترین طریقے سے مجادلہ کرو ۔مجادلہ عربی میں باب مفاعلہ کا مصدر ہے لہذا دو طرفہ کام کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یقینا بحث و مباحثہ بھی ایک طرف سے تو نہیں کیا جا سکتا یہ دو طرفہ ہوتا ہی ہے ۔اسی لئے اللہ نے مذکورہ آیت میں فرمایا پہلے حکمت اور عمدہ نصیحت سے دعوت دو پھر اگر طرف مقابل حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرے تو بہترین انداز میں ان سے بحث و مباحثہ کر کے ان کو قائل کریں ۔بحث و مباحثہ میں بھی ایک حد اعتدال رکھنے کا حکم دیا کہ ایک دوسرے پر سب و شتم کی نوبت نہ آئے کیونکہ یہ مقدسات اسلام کی توہین کا سبب بنتا ہے ۔قرآن مجید میں دوسروں پر سبّ و شتم کرنے کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے۔اللہ ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمۡ ۪ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمۡ مَّرۡجِعُہُمۡ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ٭
ترجمہ : گالی مت دو ان کو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں مبادا وہ عداوت اور نادانی میں اللہ کو برا کہنے لگیں، اس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے ان کے اپنے کردار کو دیدہ زیب بنایا ہے، پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پس وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔ یعنی اگر آپس میں دلائل سے بات کرنے کی نوبت آئے تو اس کی بات غور سے سنیں اور اپنی دلیل بھی شائستہ زبان میں پیش کریں اور اس کا مقصد افہام و تفہیم ہو۔ ایک دوسرے کو مات دینا مقصود نہ ہو۔ اور اگر کج بحثی تک نوبت پہنچ جائے تو پھر بحث کو بند کردیں۔ کیونکہ اس صورت میں عین ممکن ہے مخاطب ضد میں آکر پہلے سے بھی زیادہ گمراہی میں مبتلا ہوجائے۔
شیخ الجامعہ فرماتے ہیں : وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ھِیَ اَحۡسَنُ :
بہتر انداز میں مباحثہ و مناظرہ یہ ہے کہ اس بحث و مناظرے کا مقصد کج بحثی، حریف مقابل پر بالا دستی اور غلبہ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس مناظرے کا مقصد حریف مقابل کو راہ راست پر لانا ہو۔ مناظرے میں غالباً الزام تراشیاں ہوتی ہیں۔ حریف مقابل اور اس کے مقدسات کی توہین ہوا کرتی ہے۔ حریف مقابل اور اس کے مقدسات کی توہین ہوا کرتی ہے۔ نازیبا کلمات استعمال کرنے، بہتان تراشی اور کذب و افترا کی نوبت آتی ہے۔ اس لیے مناظرے کے لئے احسن کی شرط لگائی جب موعظہ کے لئے حسنہ کافی ہے۔
ہر انسان انانیت کا شکار رہتا ہے اور اپنی انانیت پر آنے والی ہر آنچ کا پوری قوت سے مقابلہ کرتا ہے۔ مناظرے میں اگر حریف مقابل شکست کا احساس کرے اور اپنی انا متاثر ہونے کا خطرہ محسوس کرے تو اس پر کوئی دلیل اثر نہیں کر سکتی لیکن اگر مناظرہ احسن طریقے پر ہو تو حریف مقابل کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہ ہو گا اور دلیل اس پر اثر کرے گی۔
اسی لئے قرآن بار بار مشرکین و کفار سے دلیل مانگتا ہے کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔ جیسے قرآن حکیم یہود کو کھلا چیلنج کرتا ہے۔:
قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡن
ترجمہ : (اے نبی ان سے) کہہ دو کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
10۔ استدلالی ہو
جیسا کہ بعد میں بیان کیا جائے گا معاشرے ایک طبقہ ایسا ہے جو تعلیم یافتہ اور باشعور شمارہوتا ہے۔ یہ طبقہ عام فہم باتوں کو پسند نہیں کرتا اور ان پر اثر بھی نہیں کرتا ۔ ان کے سامنے مبلغ کو چاہئے کہ اس کی باتیں استدالی ہو جو یہ طبقہ قبول کرسکتا ہو ۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس قسم کے طبقہ کو دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے ۔قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ
ترجمہ :آپ کہدیجئے: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔
ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے
اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ ۚ ہٰذَا ذِکۡرُ مَنۡ مَّعِیَ وَ ذِکۡرُ مَنۡ قَبۡلِیۡ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ۙ الۡحَقَّ فَہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ
ترجمہ : کیا انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا لیے ہیں؟ کہدیجئے: تم اپنی دلیل پیش کرو، یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے پہلے والوں کی کتاب ہے، (ان میں کسی غیر اللہ کا ذکر نہیں) بلکہ اکثر لوگ حق کو جانتے نہیں اس لیے (اس سے) منہ موڑ لیتے ہیں۔
ایک مقام پر فرماتا ہے
وَ نَزَعۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا فَقُلۡنَا ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ فَعَلِمُوۡۤا اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰہِ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ
ترجمہ : اور ہم ہر امت سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر ہم (مشرکین سے) کہیں گے: اپنی دلیل پیش کرو، (اس وقت) انہیں علم ہو جائے گا کہ حق بات اللہ کی تھی اور جو جھوٹ باندھتے تھے وہ سب ناپید ہو جائیں گے۔
اسی طرح ہمیں بھی مضبوط اور مدلل بات کرنے کا حکم دیا ہے جیسے ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا ٭
ترجمہ : اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی (مبنی برحق) باتیں کیا کرو۔
معاشرے میں تین طبقے
ہر دور اور ہر معاشرے میں آپ کو لوگوں کی تین سطحیں ملیں گی. ایک سب سے بلند سطح کے لوگ ہوتے ہیں یہ طبقہ اگرچہ قلیل ترین اقلیت میں ہوتا ہے لیکن معاشرے میں مؤثر ترین ہوتا ہے اور معاشرے کا رُخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. جیسے انسان کے جسم میں دماغ ہے جو وزن کے لحاظ سے کم و بیش آدھ سیر کا ہو گا‘ لیکن یہ اس کے پورے وجود اور پورے تن و توش کو کنٹرول کرتا ہے. ہاتھ پکڑ سکتا ہے‘ لیکن کس شے کو پکڑے‘ کس کو نہ پکڑے ‘اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا‘اس کا فیصلہ دماغ کرتا ہے. ٹانگیں اسے لے کر چل سکتی ہیں‘ لیکن کس سمت میں چلیں‘ کس میں نہ چلیں ‘اس کا فیصلہ دماغ کرتا ہے. اسی طرح معاشرے کا رُخ درحقیقت یہی ذہین اقلیت متعین کرتی ہے. اس کو جب تک دعوت دینے کا تقاضا دلیل کے ساتھ‘ برہان کے ساتھ پورا نہیں کیا جائے گا‘ یہ طبقہ کوئی اثر قبول نہیں کرے گا. اگر اس ذہین اقلیت کو اعلیٰ علمی و فکری سطح پر مدلل طور پر آپ دین کی دعوت پیش نہیں کریں گے اور اسے بائی پاس(by pass)کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ذہین اقلیت دین کے حق میں ہموار نہ ہو سکے گی . اگرچہ بائی پاس(by pass)دل کے آپریشن میں بہت مفید ہوتا ہے‘ لیکن اسلامی انقلابی عمل میں یہ طرزعمل بہت خطرناک ہوتا ہے. اگرعوامی سطح پر بات پھیلتی چلی جا رہی ہے لیکن ذہین اقلیت میں وہ بار نہیں پا رہی تو کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا‘ اجتماعی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔اگر سوسائٹی کی ذہین اقلیت کو اِس وقت اور اس دَور کی اعلیٰ علمی و فکری سطح پر دعوت پیش نہ کی جا سکے تو معاشرہ بحیثیت ِمجموعی کبھی متأثر نہیں ہو سکتا۔
دعوت کی دوسری سطح ’’عوامی‘‘ ہے . عوام کو دعوت عمدہ وعظ اور دل نشین نصیحت کے ذریعے دی جائے گی‘ کیونکہ انہیں کسی دلیل اور حجت کی ضرورت نہیں ہوتی. ان کے لیے ضرورت ہے موعظۂ حسنہ کی‘ وہی ان کے لیے کفایت کرے گی۔
اس سطح پریہ بات نہایت اہم ہے کہ سننے والے یہ محسوس کریں کہ جو وعظ کر رہا ہے وہ ہم پر اپنی دین داری‘ علمیت اور شخصیت کی دھونس نہیں جمانا چاہتا‘ بلکہ وہ مخلص ہے اورہماری خیرخواہی کے لیے بات کہہ رہا ہے. اسے کسی دُنیوی اجر اور صلہ کی ضرورت نہیں ہے. ساتھ ہی انہیں یہ اعتماد ہو کہ ” تَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَ تَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَکُم ۡ
” والا معاملہ نہیں ہے ‘بلکہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے اپنی ذاتی اور نجی زندگی میں اس پر خود بھی عمل پیرا ہے. یہ دو چیزیں جمع ہو جائیں‘ ایک موعظہ ٔحسنہ اور دوسرے واعظ کا اعلیٰ کردار تومعاملہ ہو گا۔
یہ ہے عوامی سطح پر دعوت و تبلیغ کہ اس دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کے ایک بڑے طبقے میں عام طور پر وعظ کو ایک گالی کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے. بڑے ہی استحقار کے انداز میں کہاجاتا ہے ’’اجی وعظ کہہ رہے ہیں‘‘۔ حالانکہ وعظ بڑی اور مؤثر شے ہے اور قرآنی اصطلاح ہے ‘لیکن اس کا ایک مقام اور محل ہے جہاں یہ تأثیر دکھاتا ہے. یہ عمل غیرموقع اور بے محل ہو گا تو غیرمؤثر رہے گا. ظلم کا مطلب ہی یہ ہے ” وَضْعُ الشَّیْئِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ ”
یعنی ’’کسی چیز کو اپنے اصل مقام کی بجائے کسی اور جگہ رکھنا‘‘. ان عوام کو آپ فلسفہ پڑھائیں گے تو حماقت ہو گی۔ اور دانشور و فطین لوگوں کو آپ وعظ پلائیں گے تو یہ کام بھی غیرمعقول ہو گا. ہر شے کو اپنی جگہ پر رکھنا ہی عدل ہے۔
تیسری سطح جو ہر معاشرے میں موجود ہوتی ہے‘ وہ ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو ہٹ دھرم ہوتے ہیں‘جو کبھی مان کر نہیں دیتے‘ جن کے اپنے مفادات ہوتے ہیں‘ جن کی امدادِ باہمی کی انجمنیں بنی ہوتی ہیں ‘جن کے مفادات باطل نظام سے وابستہ ہوتے ہیں اور وہ اپنے مفادات کی وجہ سے کور چشم ہو چکے ہوتے ہیں. بلکہ بسااوقات علیٰ وجہ البصیرت لوگوں کو گمراہ کررہے ہوتے ہیں . اگر ان لوگوں کے زہر کا تریاق فراہم نہ کیا جائے تو یہ عوام الناس کو گمراہ کرتے چلے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں مناظرہ کا فن وجود میں آیا.پھر اس نے باقاعدہ ایک خاص تکنیک اور تخصص کی شکل اختیار کی. موجودہ دور میں کچھ لوگوں نے اسے پیشہ ہی بنا لیاتو اس میں چند خرابیاں درآئیں. مثلاًمجمع عام ہے‘ داد مل رہی ہے‘ تحسین ہو رہی ہے‘ تالیاں بج رہی ہیں‘ نعرے لگ رہے ہیں. گویا اتنی بڑی جیوری ہے جس کے سامنے دو پہلوان عقلی کشتی لڑ رہے ہیں. یہ مناظرہ اور مجادلہ کا احسن انداز نہیں. قرآن مجید جسے مجادلہ کہتا ہے وہ احسن طریق پر محکم دلائل اور برہان کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
ظاہر بات ہے کہ ایک شخص ان تینوں سطحوں پر کام نہیں کر سکتا، ہر کام کے اپنے اپنے تقاضے ہیں۔ جو سب سے اونچا کام ہےاسکےلیے اس دور میں ’’علم کو مسلمان بنانے‘‘ کی ضرورت ہے.آج علم ملحد ہو چکا ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=26144