1

امام خمینیؒ بہت سارے فقہاء اور صاحبان نظر میں سے ایک کامل اور جامع شخصیت کے حامل انسان تھے، حجة الاسلام فدا علی حلیمی

  • News cod : 34966
  • 04 ژوئن 2022 - 13:03
امام خمینیؒ بہت سارے فقہاء اور صاحبان نظر میں سے ایک کامل اور جامع شخصیت کے حامل انسان تھے، حجة الاسلام فدا علی حلیمی
جامعۃ المصطفی العالمیہ کے استاد نے وفاق ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ معصومینؑ کے علاوہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوسکتا لیکن نسبی ہے. اس اعتبار سے امام خمینی ہماری نظر میں بہت سارے فقہاء اور صاحبان نظر سے ایک کامل اور جامع شخصیت کے حامل انسان تھے اور امام خمینی خاص طور پر دین شناسی کے اعتبار سے دین کو ایک ضابطہ حیات اور دستور حیات وہ بھی کامل اور جامع نظام زندگی کی نگاہ سے دین کو دیکھتے تهے.

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے استاد حجۃ الاسلام فدا علی حلیمی نے امام خمینی کی برسی کے حوالے سے وفاق ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ امام خمینی ؒ کی فردی زندگی کی چند خصوصیات میں سب سے نہایت ہی اہمیت کی حامل جو خصوصیت تھی وہ وقت شناسی اور امور میں نظم و ضبط ہے. یہ بات مشہور ہے کہ امام وقت کا بہت ہی پابندی سے خیال رکھتے تھے وقت کی اہمیت اور قدر کرتے تھے اور یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ لوگ امام خمینی کے آنے جانے کی روٹین سے اپنی زندگی کے اوقات کو منظم کرتے تھے۔ امام وقت کی مدیریت میں بہت ہی مہارت رکھتے تھے اور اسکو غنیمت بھی سمجھتے تھے اور اسکی رعایت بھی کرتے تھے۔دوسری چیزی جو ہمیں امام کی فردی زندگی میں نظر آتی ہے اور قابل توجہ بھی، وہ حسن خلق ہے. حتی گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ، اپنے بیوی کے ساتھ اور اپنے اقرباء کے ساتھ نہایت ہی حسن خلق کے ساتھ پیش آتے تھے۔ تیسری خصوصیت جو ہمیں امام میں نظر آتی ہے وہ سادہ زیستی ہے، زھد ہے اور نہایت ہی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اس زمانہ میں قابل نظر ایک اور خصوصیت جو ہمیں امام میں نظر آتی ہے، وہ ورزش کی پابندی ہے. ورزش و ریاضت نہایت ہی پابندی کے ساتھ انجام دیتے تھے. لہذا امام جسمانی اعتبار سے بھی صحت و سلامتی اور عافیت کے حامل تھے۔

امام امت خمینی کبیر رحمة اللہ علیہ کی زندگی بہت ہی بابرکت اور مختلف حوالے سے قابل بحث اور گفتگو ہے. ان کی فردی زندگی، اجتماعی زندگی، سیاسی زندگی، علمی، معنوی اور عرفانی زندگی یہ سب قابل بحث ہے. لیکن جیسا کہ آپ نے سوال میں کہا امام امت کی روحانی، معنوی اور عرفانی زندگی ہمارے لئے نہایت ہی قابل تقلید ہے اور نمونہ عمل ہے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: “کُونُوا دُعَاةً لِلنَّاسِ‌ بِغَیْرِ أَلْسِنَتِکُمْ” امام خمینی رحمة اللہ علیہ اس فرمان کے مکمل مصداق ہیں. امام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پہ بحث نہیں کرتے بلکہ صرف اخلاقی معنوی اور عرفانی گفتگو کی چند خصوصیات آپ کے خدمت میں عرض کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینی کی سب سے پہلی خصوصیت امام امت کی روحانی اور معنوی زندگی ہے. اس خصوصیت کی بنیادی وجہ خدا محوری ہے. امام امت کی تمام زندگی کے حرکات و سکنات اور تمام تر فعالیتوں کا مرکز و محور خداوند عالم کی ذات ہے. جیسا کہ خود امام اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں: “قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ” امام خمینی اس آیت کے بارز اور حقیقی مصداق ہیں۔اس کا خلاصہ کرتے ہوئے امام فرماتے ہیں: “عالم محضر خداست در محضر خدا معصیت نکنید” یعنی پوری کائنات خداوند متعال کی بارگاہ میں حاضر ہے، خدا کے حضور میں ہے؛ خدا کے سامنے گناه مت کریں.
امام خمینی اپنی زندگی کے تمام حرکات و سکنات میں خدا کے حضور کو عملا احساس کرتے تھے۔ امام خمینی کی معنوی زندگی میں جو دوسری خصوصیت ہمیں نظر آتی ہے، وہ حق پذیری ہے. ھر صورت میں آپ نے اپنی فکری، علمی اور سیاسی زندگی میں حق کو محور قرار دیا. حق کی حمایت، حق کا دفاع، حق کی تشہیر یہ امام خمینی کی معنوی زندگی کی دوسری خصوصیت ہے۔تیسری خصوصیت جو قابل غور ہے، وہ یہ ہے: خصوصا معنوی روحانی اور عرفانی دنیا میں ایک انسان کیلئے معنوی اور روحانی خصوصیات کا حامل ہونے کے لئے جس صفت کا ہونا ضروری ہے، وہ شرح صدر ہے. شرح صدر جس کے پاس نہ ہو وہ انسان کھبی بھی ایک روحانی اور عرفانی معنویت کے بلند و بالا مرتبہ کا حامل نہیں ہوسکتا. لہذا امام نہایت ہی شرح صدر کے مالک تھے. جیسا کہ حضرت موسیؑ نے دعا کی: “ربِّ اشْرَحْ لي صَدري و یَسِّرْ لی أمری”. امام خمینی اس آیت کے مصداق تھے. زندگی میں تمام فراز و نشیب اور تمام تر مشکلات اور مصیبتیں نہایت ہی شرح صدر کے ساتھ قبول کرتے تھے. جیسے خود امام کی زندگی میں آپ کے بیٹے آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی شہادت کا جو سانحہ رونما ہوا، وہاں ہم امام کی شرح صدر کو مشاھدہ کرسکتے ہیں۔

حجة الاسلام فدا علی حلیمی نے کہا کہ ایک اور خصوصیت جو امام کی معنوی زندگی میں پائی جاتی تهی، وہ نہایت ہی اطمینان اور آرامش ہے. وه اطمینان اور آرامش کے ساتھ خدا پہ توکل کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے؛ اس کی بارز ترین مثال خود امام اپنے وصیت نامہ میں لکھتے ہیں: “میں اطمینان قلب کے ساتھ پروردگار عالم کی بارگاہ میں پلٹ رہا ہوں۔”

جامعۃ المصطفی العالمیہ کے استاد نے کہا کہ معصومینؑ کے علاوہ کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوسکتا لیکن نسبی ہے. اس اعتبار سے امام خمینی ہماری نظر میں بہت سارے فقہاء اور صاحبان نظر سے ایک کامل اور جامع شخصیت کے حامل انسان تھے اور امام خمینی خاص طور پر دین شناسی کے اعتبار سے دین کو ایک ضابطہ حیات اور دستور حیات وہ بھی کامل اور جامع نظام زندگی کی نگاہ سے دین کو دیکھتے تهے. اس لئے امام کی جو دین فہمی ہے، وہ باقی مراجع کرام اور فقہاء کی نسبت ایک جامع دین فہمی ہے. ایسی دین فہمی جس کے سایہ میں آپ بآسانی زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں امام کے زمانہ میں دین نہایت ہی ناقص، بلکہ دنیا میں دو نظریے پائے جاتے تھے. پہلا یہ کہ دین، انسان کی فردی زندگی میں کار آمد ہوسکتا ہے۔
دوسرا تصور، دین انسان کے لئے اصلا نقصان دہ ہے.

ایک ایسا تصور جب دنیا میں حاکم تھا، اس وقت امام نے دین کو ایسے پیش کیا کہ دین ایک نظام زندگی، ایک ضابطہ حیات ہے، ایک طرز زندگی ہے. حتی اب بھی آپ دنیا میں مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ بے دین افراد بھی دین کا نعرہ لگا کر سیاست میں اترتے ہیں.
امام نے دین کو ایک نئی یا دین فہمی کو ایک نئی جہت دی اور نئی سطح پر پہنچا دیا. ان میں سے ایک ولایت فقیہ یا دوسری عبارت میں عصر غیبت میں دین کا سیاسی نظام اور سیاسی حکمت عملی جو امام خمینی نے پیش کی ہے، وہ کسی اور فقیہ کے پاس نظر نہیں آتی.

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=34966