67

دین شناسی اور طبقات

  • News cod : 3601
  • 02 نوامبر 2020 - 15:53
دین شناسی اور طبقات
حوزه ٹائمز | معاشرے میں دین شناس و عالم و روحانی کے طور پر متعارف ہوتے ہیں۔ معاشرہ اس عالم کو دینی امور میں حجت سمجھتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ لہذا یہ طبقہ معاشرے کا راہنما شمار ہوتا ہے

دین شناسی سے مراد فہم دین اور دین کی معرفت حاصل کرنا ہے۔
تمام انسانوں پر ایک اہم واجب عمل یہ ہے وہ اسلام و دین کی صحیح تعلیمات سے آشنا ہوں
جہاں و تشکیل جہان اور جہان بعد از ممات کی شناخت دینی معارف کی بنیاد پر حاصل کرے۔ نہ صرف ان معارف کو حافظے میں محفوظ رکھے بلکہ ان کو معرفت سے آگے ایمان کے درجے تک لے جائے۔ جب انسان معرفت و ایمان کے درجے پر پہنچتا ہے تو یہ انسان ایک درجہ انسانی یعنی مرتبہ ایمان پر فائز ہوجاتا ہے۔
لہذا دین کے ان معارف کی شناخت ضروری ہے کہ جن سے انسان کا تعلق اس دنیا کے ساتھ آخرت و خالق جہان کے ساتھ برقرار ہوں
شناخت کا دوسرا اہم باب جو تمام انسانوں پر واجب ہے وہ دین کے بعد عملی و باب نظام کی شناخت ہے۔
بُعد صفات و ہدایات اجتماعی و انفرادی وغیرہ۔
اس کا واجب ہونا دینی نص سے زیادہ عقل سے معلوم ہوتا ہے۔
کیونکہ عقل کے فتوی کے مطابق دین انسان کیلئے ضروری ہے۔ لہذا دیندار ہوئے بغیر انسان کو سعادت نصیب نہیں ہوتی۔
لہذا سعادت و تکامل کیلئے اسے دین میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔
دین پر عمل کرنے کا مقدمہ شناخت دین ہے۔
لہذا شناخت دین ایک واجب عمل ہے۔
یہاں سے ایک طبقہ خود کو دین شناسی کیلئے وقف کرتا ہے۔ جو مراکز دین شناسی میں وارد ہوجاتے ہیں اور دین شناسی کو اپنا ہدف بناتا ہے۔
یہ طبقے معاشرے میں دین شناس و عالم و روحانی کے طور پر متعارف ہوتے ہیں۔ معاشرہ اس عالم کو دینی امور میں حجت سمجھتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ لہذا یہ طبقہ معاشرے کا راہنما شمار ہوتا ہے۔
عوام ان کے اتباع کرتے ہیں۔
آفات روحانیت
چونکہ اس طبقے کا عوام سے سروکار ہوتا ہے اور عوام میں اس طبقے کو بہت اہمیت حاصل ہوتا ہے۔
لہذا یہاں سے اس طبقے کی امتحان شروع ہوجاتی ہے۔
1۔ شہرت طلبی
اگر ہم انسانی نفسیات کا مطالعہ کرے تو یہاں انسانی امور کو ادارہ کرنے کیلئے پورا ایک نظام نظر آتا ہے۔ وہ اہم ترین نظام جو انسانی امور کو ادارہ کرتے ہیں وہ محرکات درونی و انگیزہ ہیں۔
ہر انسان کے اندر متعدد محرکات موجود ہوتے ہیں کہ جو انسانی عمل کو ادارہ کرتا ہے۔
جنسی محرک۔ غذائی محرک۔ تشنگی کے محرک وغیرہ۔
ان کے عمل کا میکینزم کچھ یوں ہے۔
انسان کے اندر موجود یہ تمام قوتیں اور محرکات عام حالت میں خوابیدہ ہوتے ہیں۔
لیکن یہ بعض مناظر و بعض خیالات و بعض واقعات کو دیکھ کر بیدار ہوجاتا ہے۔
جیسے ایک انسان کسی جنس ابھارنے والے منظر کو دیکھ کر یا کسی خیال کو سوچ کر اپنی جنسی قوت کو بیدار کرتا ہے۔
جب یہ قوت بیدار ہوجاتی ہے تو پھر یہ قوت انسان کے پورے بدن پر احاطہ کر جاتا ہے۔
شہوت ران انسان کی نگاہیں، سماعت و لامسہ سب سے شہوت بروز کرتا ہے۔
حتی اس کے دل میں بھی شہوت گھیر لیتا ہے۔
یہ جو بعض لوگ عشق مجازی کی بات کرتے ہیں یہ روانشناسی کے تحقیقات کے مطابق وہی جنسی تمایل ہے کہ جو ان کے وجود میں بیدار ہوچکی ہے۔
بہرحال یہ جنس مخالف کی طرف تمائل پیدا کرنا یا ہم جنس کی طرف تمایل پیدا کرنا اور اسے عشق قرار دینا درحقیقت وہی جنسی تمایل ہے کہ جو انسان کے دل میں ایک تمایل شدید کی صورت بیدار ہو جاتا ہے۔
اسی طرح دیگر قوات و انگیزے بھی عمل کرتے ہیں۔
غصہ بھی ایک قوت و محرک ہے کہ جو انسان کے اندر خوابیدہ حالت میں موجود ہے لیکن جب اس انسان سے وابستہ کسی چیز کو خطرے میں دیکھتا ہے۔
یا اس کی اہانت ہوتی ہے تو یہ قوت بیدار ہوجاتی ہے اور انسان کے تمام اعمال کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
اور یہ انسان جو بزدل تھے اب غصہ کی بیداری کی وجہ سے یہ انسان بھی بہادر ترین انسان بن جاتا ہے۔ یہی انسان اب شدید غصے کی حالت میں وہ کام کر جاتے ہیں کہ جو شاید اس کے بیداری سے پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
بہرحال انسانی محرکات کے عمل کا میکنزم یہی ہے۔
خوابیدہ ہوتے ہیں لیکن اسے بیدار کرنے کیلئے الفاظ یا مناظر یا خیالات کردار ادا کرتے ہیں۔
ہر انسان کے اندر ایک اہم محرک شہرت طلبی ہے۔ ہر انسان میں یہ خوابیدہ ہوتے ہیں۔ ہوتے سب میں ہیں لیکن بیدار بعض میں ہوتے ہیں۔
کیونکہ اس کو بیدار ہونے کیلئے بھی اسی روش کی ضرورت ہے۔
ہر انسان میں یہ بیدار نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض حالات و بعض اعمال وبعض خیالات انسان کے اس محرک کو بیدار کرتے ہیں۔
جب یہ محرک بیدار ہوجاتا ہے تو انسان ہر کام کرگزرنا چاہتا ہے کہ جس سے اسے شہرت ملے۔
شہرت یعنی ہر انسان اسے جانتا ہو۔ ہر انسان اس کے بااستعداد ہونے کو جانتا ہو۔ جہاں جائے تو لوگ اس کی شناخت رکھتے ہوں۔
وہ اعمال یا حالات جو ایک انسان کو شہرت طلب بناتا ہے وہ درج ذیل ہیں۔
جب کسی انسان کو کہیں پر زیادہ توجہ دی جائے۔ زیادہ احترام کیا جائے اور کسی معاشرے میں اسے زیادہ اہمیت دی جائے لوگ اس کی طرف رجوع کرے تو اس انسان میں خوابیدہ شہرت طلبی کی حس بیدار ہوجاتی ہے۔
اور اس انسان کو شہرت طلب بناتا ہے۔
لہذا یہ انسان ہر کام کرتا ہے کہ مشہور ہوجائے۔
ہر طرف جاتا ہے۔ مختلف خطوں میں جاتا ہے مختلف لوگوں سے ملاقات کرتا ہے۔ مختلف امور انجام دیتے ہیں کہ لوگوں میں مقبول ہوں۔
اس کا ہدف ہی تشہیر بن جاتا ہے۔
عوام میں دو طبقے میں یہ حس شہرت طلبی زیادہ بڑھنے کا امکان رہتا ہے وہ سیاست دان اور علماء ہوتے ہیں۔
کیونکہ یہ دونوں طبقہ عوام کے امور سے سروکار رکھتے ہیں۔
دونوں عوامی اجتماعات کا مرکز ہوتا ہے۔ دونوں مرجع عوام ہوتے ہیں۔
لہذا ان دونوں طبقات میں حس شہرت طلبی ایک آگ کی طرح بیدار ہوتے ہیں۔ جسے بجھانے اور تسکین کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ صرف عوامی مقبولیت سے ہی تسکین پاتے ہیں۔
لہذا عوامی مقبولیت کیلئے یہ دونوں طبقات ہر کام کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔
شہرت طلبی ایک آگ کی طرح ہے کہ جو انسان میں لگ جائے تو تسکین کیلئے انسان سے مختلف امور انجام دلواتے ہیں۔
حتی طبقہ روحانیت میں بعض طلاب کا ہدف دین تشہیر ہوجاتا ہے۔
بعض صرف اس لئے دین پڑھتے ہیں کہ عالم کے طور پر مشہور ہوجائے۔
ان کی شہرت عالم کے طور پر ہوں۔
لہذا یہ شہرت کیلئے ہر کام کرجاتے ہیں۔
لیکن بعض علماء ان افات کا شکار نہیں ہوتے۔ بلکہ علم سے قبل تزکیہ کا عمل انجام دیتا ہے۔ یہ علما علم کے ساتھ بصیرت بھی رکھتے ہیں لہذا خود کو ان آفات سے نجات دیتے ہیں
لہذا یہاں سے علماء کا دو طبقہ بن جاتا ہے۔
الف۔ علمائے ربانی۔
ب۔ علمائے دنیایی
علمائے ربانی وہ طبقہ ہے کہ جن کا ہدف خدا ہے۔ جو علم دین کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جو دین کی تبلیغ اس وجہ سے کرتے ہیں کہ دین خدا و نظام خدا کا زمین پر غلبہ ہوں۔ وہ ایک مبارز ہوتے ہیں۔ جو سبیل خدا میں جہاد کرتے ہیں اور غلبہ سبیل خدا کیلئے کوشاں ہوتے ہیں۔ اس کی تبلیغ کا ہدف جہاد اور نابودی ادیان باطل ہوتا ہے۔ علمائے ربانی کا ھم و غم غلبہ اسلام ہوتا ہے۔
لہذا جب یہ علماء کسی دوسرے عالم کو بھی تبلیغ دین کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو خوشحال ہوجاتا ہے کہ اب دین تنہا نہیں ہے بلکہ دین کے ناصر موجود ہیں۔ جب معاشرے میں دین کا غلبہ دیکھتا ہے تو یہ خوشحال ہوجاتا ہے۔ اسے سکون اس بات ہر ملتی ہے کہ دین کا غلبہ ہورہا ہے۔ خواہ اس کے ہاتھوں ہوں یا دوسرے کے ہاتھوں۔
علمائے دنیایی یہ وہ طبقہ ہے کہ جن کا ھم و غم شہرت اور مشہور ہونا ہے۔ یہ طبقہ دین کو اپنی شہرت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں دینی تعلیمات ان کی شہرت کیلئے ایک ابزار ہیں۔ ایسے انسانوں کے لئے دین کی حیثیت ابزاری ہے۔ ابزار شہرت۔ ابزار قیادت۔ ابزار ریاست۔
یہ طبقہ عوام میں صرف اپنا نام چاہتا ہے۔ ان کا ہدف یہ ہوتا ہے۔
لہذا طالبعلمی کے زمانے سے ہی ان کا یہ ہدف متعین ہوتا ہے کہ ہم نے مشہور ہونا ہے اور عوامی مقبولیت حاصل کرنا ہے۔
لہذا یہ جب کسی کو تبلیغ کے عمل میں مشغول دیکھ کر ناراض ہوتے ہیں اور ان کی شخصیت کشی کرتے ہیں تاکہ لوگوں میں وہ شخص مشہور نہ ہو۔ کیونکہ ان کے مطابق عوام میں مقبولیت صرف ان کا حق ہے۔ لہذا وہ دوسرے مبلغین کے عمل تبلیغ سے ناخوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مطابق شہرت انہیں مل رہا ہے۔ پذیرائی انہیں مل رہی ہے۔
جبکہ پذیرائی ان کا ہدف تھا۔
اس طبقے کا ہدف دینی تبلیغ نہیں بلکہ اپنی شہرت ہے۔
اگر ان کا ہدف غلبہ دین ہوتا تو کبھی بھی دوسرے علماء کی تبلیغ سے ناخوش نہ ہوتے۔ بلکہ ان کی تبلیغ سے خوشحال ہوتے۔ جبکہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ اس تبلیغ پر ناخوش ہوتے ہیں۔ اس عالم کی بدگوئی کرتے ہیں۔ اسے برا بھلا کہتے ہیں۔
امام خمینی رح فرماتے ہیں۔ بعض لوگ دین کے عوض دنیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امام صادق ع فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن خدا اہل ریا کے سامنے ان کے اعمال رکھیں گے اور ان سے کہیں گے کہ یہ اعمال میرے لئے انجام نہیں دیا ہے لہذا مجھ سے اجر کی توقع مت رکھو۔ ان لوگوں سے اجر لینے جاو جن کیلئے انجام دیا تھا۔
یعنی عوام ۔ لیکن عوام خود اپنے ماں باپ سے فرار کررہے ہوتے ہیں۔ یوم یفر المر۔۔۔
لہذا وہاں گرفتار ہوجاتا ہے۔
2۔ حسادت۔
جب انسان خود غرض و شہوت پرست بن جاتا ہے تو انسان دوسرے انسان کو خود سے اگے نہیں دیکھ پاتے۔ جبکہ خود میں دوسرے سے آگے جانے کی استطاعت و قدرت نہیں ہوتی لہذا وہ انسان حسادت شروع کرتا ہے۔
حسادت کی علامت یہ ہے کہ کسی دوسرے کو کسی نعمت یا فضلیت و برتری میں دیکھ کر انسان کو درد محسوس ہوں۔
لہذا حسود اس درد کو کم کرنے گناہ کا راستہ اپنا لیتا ہے لہذا اس محسود کی غیبت، اس پر تہمت اور اس کی تحقیر کرتے ہیں۔ اسے لوگوں کے سامنے طعنے دیتے ہیں۔
اگر ان امور کی نفسیاتی بنیادوں پر تحلیل کرے تو اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ انسان ایک خطرات و موذی و دردناک نفسیاتی بیماری کا شکار ہے یعنی حسادت کی بیماری نے اسے اذیت میں مبتلا رکھا ہے۔
لہذا حسود ہمیشہ اس انسان کے خلاف بولتے نظر آئیں گے کہ جو کسی جہت سے اس سے آگے ہوں۔
حسود کو کسی کی تعریف اچھا نہیں لگتا۔ کسی کی تعریف سن کر اس کی بیماری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ درد میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
لہذا کسی کی تعریف سن کر وہ فورا اپنی کوئی برتری والا قصہ سنائیں گے کہ میں بھی کچھ کم نہیں ہوں۔
بہرحال اس مقالے کا مقصد حسود کی شناخت و حسود کی رسوائی نہیں ہے۔ بلکہ بعنوان ایک آفت ذکر ہوا ہے۔
کہ ایک ہمہ گیر بیماری ہے اور مخصوصا طبقہ روحانیت اس میں زیادہ خطرے میں نظر آتا ہے۔
حسادت ختم کرنے کا آسان ترین نفسیاتی علاج یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں کسی کی برتری و فضیلت کو ذہئے پھر بادل ناخواستہ ہی سہی اس کی تعریف کرنے کی کوشش کرے۔
اپنے ہم کلاسیوں کی خصوصیات برتری کو قبول کرنے اور دوسروں کے سامنے اس ہمکلاسی کہ جو شاید عمر سے اس سے کمتر ہوں کی تعریف کرنے کی کوشش کرے۔ یہ امور انسان کو دو جہت سے فائدہ دیتا ہے۔
ایک تو حسادت کی بیماری کو ختم کرتا ہے۔
جبکہ دوسرا اس میں تواضع و فروتنی اور خود ستائی سے نجات دیتا ہے۔
حسادت ایک خطرناک بیماری ہے جو انسان اس بیماری میں ہوں اس کا ایمان خطرے میں ہوتا ہے۔ الحسد یاکل الایمان کما یاکل النار الحطب۔
بہرحال یہ وہ آفات ہیں جو کسی کو بھی دائرہ ایمان سے خارج کرسکتا ہے۔

تحریر :محمد روح اللہ صالحی

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=3601