1

ہمیں چاہیئے دشمنوں کے آگے تسلیم نہ ہونے میں امام حسین (ع) کے نقش قدم پر چلیں، سربراہ انصاراللہ یمن

  • News cod : 37112
  • 10 آگوست 2022 - 17:10
ہمیں چاہیئے دشمنوں کے آگے تسلیم نہ ہونے میں امام حسین (ع) کے نقش قدم پر چلیں، سربراہ انصاراللہ یمن
انصار اللہ یمن کے سربراہ سید بدر الدین عبد الملک الحوثی نے روز عاشورا کی مناسبت سے اپنے خطاب میں قیام امام حسین ﴿ع﴾ کے فلسفے کی وضاحت کی اور زور دیا کہ امریکہ اور غاصب اسرائیل کا رویہ اور طرز فکر امام حسین ﴿ع﴾ کے دشمنوں کے رویے اور طرز فکر کے تسلسل میں ہے۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سربراہ سید بدر الدین عبد الملک الحوثی نے روز عاشورا کی مناسبت سے اپنے خطاب میں قیام امام حسین ﴿ع﴾ کے فلسفے کی وضاحت کی اور زور دیا کہ امریکہ اور غاصب اسرائیل کا رویہ اور طرز فکر امام حسین ﴿ع﴾ کے دشمنوں کے رویے اور طرز فکر کے تسلسل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسین ﴿ع﴾ نے حقیقی اسلام اور رسول اللہ ﴿ص﴾ کے طول میں حرکت کی اور اسلامی امت کی نجات اور اسے دشمنوں کے شر سے نجات دینے کے لئے قیام کیا۔ یزید کی حکومت امت اسلامی کے لئے خطرہ تھی۔ اس نے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی حرمت کا پاس نہیں رکھا اور خانہ کعبہ پر آگ برسائی اور مسلمانوں کے مقدسات کی حرمت محفوظ نہیں رکھی۔

انصار اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم وہ امت ہیں جسے امام حسین ﴿ع﴾ کی طرح نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ اور اسرائیل یزید کے رویے اور طرز فکر کو جاری رکھنے والوں میں سے ہیں اور جو کوئی بھی ان کی صف میں شامل ہوگا اور ان کے مفادات کی راہ میں چلے گا اس کی حالت ابن زیاد اور شمر جیسی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دشمن ہمیں اپنا غلام بنانے اور ہم پر غلبہ پانے کے درپے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ امت اسلامی مستقل اور خود مختار نہ ہو اور ان کے پیچھے چلتی رہے۔ اسلام کے دشمن امت اسلامی کو اس کی راہ سے منحرف کر کے اپنا غلام اور مطیع بنانا چاہتے ہیں تا کہ ان کے آگے جھکی رہے۔

الحوثی نے کہا کہ آج کے یزیدیوں کے خطرے کا سرچشمہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے آلہ کار ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ظلم کے خلاف لڑنے اور دشمنوں کے آگے تسلیم نہ ہونے میں امام حسین ﴿ع﴾ کے نقش قدم پر چلیں۔ دشمن چاہتا ہے کہ شرارت آمیز منبروں اور گمراہ علما کے ذریعے دین کے نام پر انحراف کو ترویج دے اور دینی مفاہیم اور اقدار کو بدلنے کے درپے ہے تا کہ ان کے تسلط کے مقابلے میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی امت کے دشمن حق کو مٹانے اور اس کی جگہ باطل کو بٹھانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل امت اسلامی کو زندگی کے تمام شعبوں میں حق کے راستے سے موڑنے کے درپے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا رویہ اور طرز فکر شیطانی ہے جو انسانی معاشرے اور ان میں سب سے پہلے اسلامی معاشرے کو فساد کی طرف لے جائیں گے۔

الحوثی نے کہا کہ دشمنوں کے تسلط کو قبول کرنا دنیا و آخرت گنوانے کے مترادف ہے جبکہ ہمارا مسلمان ہونا تقاضا کرتا ہے کہ امام حسین ﴿ع﴾ کے برحق موقف پر چلنے والے بنیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام تر قوت کے ساتھ دشمن سے مقابلے کے اٹھ کھڑے ہوں۔ امت اسلامی کی بینش اور بصیرت جس قدر زیادہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں گے اور سنجیدگی اور مصمم ادارے کے ساتھ اقدام اٹھائیں گے اتنی ہی مقدار میں عظیم نتائج نکلیں گے جو دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں مزاحمت کی دیوار کھڑی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں اسرائیل سے دوستی اور محبت کا اظہار ممکن ہے لیکن فلسطینیوں کی حمایت جرم اور اس کی سزا جیل ہے۔ مکہ اور مدینے کو صہیونیوں کے لئے کھول دیا ہے لیکن یمن کے آسمان کو یمنی قوم پر بند کیا ہوا ہے۔ یہ سب ان کی صف بندی کو ظاہر کرتا ہے۔ سمجھوتہ کرنے اور تعلقات بحال کرنے والوں کو امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد آگے بڑھانے کے لئے ایک وسیلے کے طور دیکھتے ہیں۔ لازم ہے کہ امت اسلامی غاصب اسرائیل کے ساتھ دشمنی میں اور اسے فلسطین سے باہر نکالنے کے لئے اور فلسطینی قوم کی حمایت میں صحیح موقف اختیار کرے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=37112