2

آداب بندگی و دعا اور سیرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا

  • News cod : 41076
  • 07 دسامبر 2022 - 10:05
آداب بندگی و دعا اور سیرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا
عبادت کے مخصوص اوقات: جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں عبادت و دعا کے لئے کچھ مخصوص اوقات خاص اہمیت کے حامل تھے۔ چنانچہ شب جمعہ، عصر جمعہ اور جمعے کے دن غروب آفتاب کا وقت جناب سیدہ کی عبادت و دعا کے خاص اوقات میں شامل تھے۔اسی طرح سحر خیزی اور شب قدر کے ایام میں بھی دعا و مناجات کا خصوصی اہتمام فرماتی تھیں اور اپنے گھر والوں کو بھی ان اوقات میں عبادت کے لئے آمادہ کرتی تھیں۔

مولانا محمد شریف نفیس( پی ایچ ڈی سکالر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد)
چکیدہ
اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے سامنے اپنی مکمل ذلت فقر کا اظہار بندگی کہلاتا ہے۔ کلام معصومین علیہم السلام کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کو مالک و مختار کل ماننا، اس کی ذات پر مکمل توکل اور سر تسلیم خم ہونا اور اس کی مرضی کے مطابق چلنا ہی بندگی کا مفہوم ہے۔ جناب زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اعلیٰ مثال پیش کی ہے جسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے بھی حیرت زدہ ہوتے ہیں۔ جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی بندگی دیکھ کر اللہ تعالیٰ بھی اپنے مقرب بندوں پر فخر و مباہات کرتا ہے۔ عبادت و بندگی کے لحاظ سے جناب زہراء سلام اللہ علیہا اس کائنات میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں۔آپ جب محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو آپ کا جسم خشیت الٰہی سے لرزتا تھا لیکن آپ کا پورا وجود خدا کے عشق سے لبریز ہوتا تھا۔ عبادت و دعا سے بڑھ کر جناب زہرا سلام اللہ علیہاکے ہاں کوئی چیز محبوب نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بندگی پورے اہتمام کے ساتھ کی۔ عبادت و دعا کے خاص اوقات کا خیال رکھتی تھیں اور زمان و مکان عبادت کے ساتھ اذکار کی خاص تعدادکی پابندی بھی آپ کی عبادت کا خاصہ تھا۔
کلیدی کلمات: بندگی، دعا، سیرت، فاطمہؑ
مقدمہ:
انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کر کے بلندی کا سفر کرنا چاہے تو اتنا بلند ہوسکتا ہے کہ جتنا اللہ کو مطلوب ہے اوراگر بندگی چھوڑ کرمخالف سمت میں جانا چاہے تو ـاولٰئک کالانعام بل ھم اضل۔ کی پستی تک بھی گر سکتا ہے۔بلندی اور پستی دونوں کی آخری منزلیں اور راستے بھی اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو بتائے تاکہ ساری صورتحال اس کے سامنے ہو اور کسی قسم کا عذر باقی نہ رہے۔ چنانچہ سورہ مبارکہ الدھر میں ارشاد فرمایا: اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا (1) (ہم نے اسے راستے کی ہدایت کر دی خواہ شکر گزار بنے اور خواہ ناشکرا۔) انسان کے اندر یہ ساری صلاحیتیں ودیعت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان سے چاہا کہ فقط اسی کی بندگی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اس میں ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کرکے پستی کی طرف جانے کے بجائے انہیں درست اور بجا استعمال کر کے بلندی کا سفر کرے اور زمین کے اوپر خود کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ کہلانے کا مستحق ٹھہرے۔یہی درحقیقت راز بندگی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی چاہت کے مطابق زندگی بسرکرے اور خود کو اللہ تعالی سے قریب رکھے۔ چنانچہ اس روئے زمین پر بھیجے گئے پہلے انسان کو ہی ہادی برحق بنا کر بھیجا تاکہ بعد میں آنے والے انسانوں میں سے کسی کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اسی لئے ہر زمانے میں انسان کا بلندی کی طرف سفر کرنے کا سارا اہتمام بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے کیا۔ ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی واضح نشانیوں کے ساتھ آسمانی کتابیں، صحیفے اور انبیاء و رسل بھی انسانی ہدایت کے لئے اس زمین پر آتے رہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے جانے والے انبیاء اور یہ ساری ہدایت کی نشانیاں انسان کو زندگی اور بندگی کے آداب بتانے کے لئے اسی الٰہی اہتمام کا حصہ تھیں۔ معصومین علیہم السلام کی سیرتِ طیبہ انسان کے لئے عروج کی طرف سفر کرنےکے آداب سے بھرپور ہے۔ یہ قابل توجہ بات ہے کہ ظاہری طور پر بھی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو معراج کے سفر پہ بلایا تو اپنا عبد قرار دیتے ہوئے فرمایا: ـ سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَاـ (2)( پاک ہے وہ جو ایک رات میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے اس مسجد اقصیٰ تک لے گیا) پس بندگی ہی وہ نکتہ ہے جو انسان کو عروج کی طرف لے جاتا ہے۔ البتہ انسان کو بندگی کی منزل تک پہنچنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا خاص رابطہ بنانا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ منزل تنہا انسان کی کاوش سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خاص توجہ حاصل ہو تواسے کمال بندگی تک لے جا سکتی ہے۔اسی توجہ کو حاصل کرنے کے لئے انسان دعا کا سہارا لیتا ہے۔
بندگی و دعاء کا مفہوم
بندگی فارسی زبان کا لفظ ہے جو عبودیت کے معنی بیان کرتا ہے۔ جب ہم اس کے مفہوم و معنی کے بارے میں جاننا چاہیں تو لازم ہے کہ لغت عرب میں اس کا اصلی معنی دیکھیں۔ چنانچہ راغب اصفہانی مفردات قرآن میں لکھتے ہیں : ’’اَلعُبُودِیَّۃُ: اِظھَارُ التَّذَلُّلِ، وَالعِبَادَۃُ اَبلَغُ مِنھَا لِاَنَّھا غَایَۃُ التَّذَلُّلِ۔‘‘(3) عبودیت انکساری اور خاکساری ہے اور عبادت اس سے بھی بلیغ لفظ ہے کیونکہ یہ تواضع و انکساری کی آخری حد کا نام ہے۔
دینی اصطلاح میں عبودیت و بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خود کو الٰہی کمالات سے مزین و آراستہ کرے اور اپنے کردار کو منشاء پروردگار کے مطابق بنائے۔چنانچہ حقیقت عبادت کے بارے میں صادق آل محمد علیہم السلام سے عنوان بصری نے پوچھا: قُلْتُ یَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا حَقِیقَةُ الْعُبُودِیَّةِ قَالَ :ثَلاَثَةُ أَشْیاءٍ: أَنْ لا یَرَی الْعَبْدُ لِنَفْسِهِ فِیما خَوَّلَهُ اللهُ مِلْکاً، لأنَّ الْعَبِیدَ لا یَکُونُ لَهُمْ مِلْکٌ، یَرَوْنَ الْمالَ مالَ اللهِ، یَضَعُونَهُ حَیْثُ أَمَرَهُمُ اللهُ بِهِ؛ وَ لاَ یُدَبِّرُ الْعَبْدُ لِنَفْسِهِ تَدْبِیراً؛ وَ جُمْلَةُ اشْتِغالِهِ فِیما أَمَرَهُ تَعالی بِهِ وَ نَهاهُ عَنْهُ.(4) کہ یا اباعبداللہ بندگی کی حقیقت کیا ہے؟ فرمایا: تین چیزیں ہیں: اول :بندے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دیا ہے اسے وہ اپنی ملکیت نہ سمجھے۔ کیونکہ بندے کے لئے کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔وہ مال کو اللہ کا مال سمجھتے ہیں اسے وہیں رکھتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے رکھنے کا کہا ہے۔ دوم :یہ کہ انسان اپنے لئے خود سے کوئی تدبیر نہ کرے۔سوم: یہ کہ جس کام کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اسے انجام دے اور جس کام سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اس سے بچا رہے۔
عبودیت کی یہ تعریف جناب بی بی فاطمہ زہراء علیہا السلام کی ایک دعاء سے مکمل طور پر ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی ایک دعاء کے یہ جملے نہایت قابل غور ہیں۔ آپ فرماتی ہیں: اَللَّهُمَّ ذَلِّلْ نَفْسِي فِي نَفْسِي وَ عَظِّمْ شَأْنَكَ فِي نَفْسِي وَ أَلْهِمْنِي طَاعَتَكَ وَ اَلْعَمَلَ بِمَا يُرْضِيكَ وَ اَلتَّجَنُّبَ لِمَا يُسْخِطُكَ يَا أَرْحَمَ اَلرَّاحِمِينَ۔ (5) اے میرے اللہ، مجھ میں میرےنفس کو حقیر بنادے اور اپنی شان کو مجھ میں عظیم بنادے، مجھے اپنی اطاعت اور ہر اس عمل کا الہام کردے جس سے تو راضی ہوتا ہے اور جن کاموں میں تیری ناراضی ہے اس سے بچا، اے ارحم الراحمین۔
ان دعائیہ کلمات میں بندگی کی اعلیٰ مثال اور دعا کا سلیقہ بیان ہوا ہے۔ ہرچیز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت تلاش کرنا اور اپنے نفس کو ذلیل و پست سمجھنا ہی کمال بندگی کی آخری منزل ہے۔ بی بی دو عالم سلام اللہ علیہا خود اگرچہ عصمت و طہارت کے بلند ترین مقام پر فائز تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب حجتوں پر بھی حجت تھیں۔ ان سب کے باوجود جب مقام بندگی پر آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس قدر تواضع و انکساری سے پیش آتی ہیں کہ اپنے نفس کی ذلت و پستی کے لئے دعائیں مانگتی ہیں۔
جب انسان بندگی کے رموز کو جان لیتا ہے تو خود کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر سمجھتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہم و غم ہی بارگاہ ایزدی میں قربت کا حصول ہوتا ہے۔ بندگی کا لازمہ دعا و مناجات ہے۔ اللہ تعالیٰ سے رابطہ برقرار رکھنے کا ایک اہم ترین ذریعہ دعاء ومناجات ہے۔انسان دعاء و مناجات ہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی توجہ کو اپنی طرف جلب کر سکتا ہے۔ کثرت دعا و مناجات کے ذریعے ہی انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں قربت کا مقام پا سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ایک مقام پر فرماتا ہے: ’’ قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْۚ‘‘(6) اگر تمہاری یہ دعائیں نہ ہوتیں تو اللہ تعالیٰ تمہاری پرواہ ہی نہ کرتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ انسان کی طرف سے دعا و مناجات کو بہت پسند کرتا ہے۔ دعا اور مناجات کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس کی تاکید کرتا ہے۔
’’ وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونِی أَسْتَجِبْ لَکُمْ ‘‘(7) تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ إِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُونَ ‘‘(8) اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو (کہدیں کہ) میں (ان سے) قریب ہوں، دعا کرنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں، پس انہیں بھی چاہیے کہ وہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہ راست پر رہیں۔لہذا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا اور اس پر ایمان لانا ہی دعا کی اہم ترین بنیاد ہے۔ اس لحاظ سے اہلبیت عصمت وطہارت (علیہم السلام) میں سے ہر ایک کے ہاں دعا و مناجات کے بارے میں بہت رغبت دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ خود بھی دعا و مناجات سے عشق کی حد تک رغبت رکھتے تھے اور اپنے شیعوں کو بھی اس کی بہت تاکید فرماتے ہیں۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا جو کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بعد مکتب نبوت و رسالت کی سب سے بلند ترین پروردہ ہیں۔ آپ دعا و مناجات کا اس قدر اہتمام فرماتی تھیں کہ اپنے زمانے میں سب سے زیادہ دعا اور مناجات میں مشغول رہنے والی شخصیت کے طور پر معروف تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری اور دعا و عبادت کا یہ عالم تھا کہ پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی عبادت کرتی تھیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ عبادت گزار خاتون قرار پائیں۔ آپ محراب عبادت میں اس حد تک قیام فرماتی تھیں کہ آپ کے پیروں میں ورم آجاتے تھے۔ چنانچہ حسن بصری کہتے ہیں: ’’ما کان فى الدنیا اعبد من فاطمة. کانت تقوم حتى تتورم قدماها‘‘(9) دنیا میں فاطمہ سے زیادہ کوئی عبادت گزار نہ تھا، آپ اپنے پاؤں پر ورم آنے تک قیام کی حالت میں رہتی تھیں۔
کمیت کے لحاظ سے جناب زہراؑ کی عبادت:
جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی عبادت کی کمیت کے اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ عبادت الٰہی میں گزرا۔ آپ کی ہر سانس، ہر نظر، ہر گفتار یعنی روز مرہ کی حسب معمول زندگی ہی عبادت پروردگار سے لبریز تھی۔ چنانچہ روایت میں نقل ہوا ہے کہ کسی دن حضرت رسول خدا ﷺ نے حضرت سلمان فارسی کو کسی کام سے جناب زہرا ؑ کے بیت الشرف کی طرف بھیجا۔ حضرت سلمان فرماتے ہیں : میں در زہرا پر پہنچ کر رک گیا تو مجھے اندر سے جناب زہراؑ کی تلاوت قرآن کرتے ہوئے آواز سنائی دی اور ساتھ جناب زہرا کے پاس کسی مانوس ہستی کی موجودگی کا بھی احساس ہوا جو جناب زہراؑ کی چکی چلا رہا ہو۔ جب یہ قصہ رسول اکرم ﷺ سے بیان کیا تو رسول اکرمﷺ مسکرا کر فرمانے لگے: ’’يا سلمان إن ابنتي فاطمة ملا الله قلبها وجوارحها إيمانا إلى مشاشها تفرغت لطاعة الله فبعث الله ملكا اسمه زوقابيل وفي خبر آخر جبرئيل فأدار لها الرحى وكفاها الله مؤنة الدنيا مع مؤنة الآخرة۔‘‘(10) اے سلمان، یقیناً میری بیٹی فاطمہ کے دل اور جسم کے سارے اعضاء کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے لبریز کیا ہے۔ پس جب بھی میری بیٹی اللہ کی اطاعت و بندگی میں مشغول ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے زوقابیل کہتے ہیں۔(ایک اور روایت کے مطابق وہ جبرئیلؑ ہیں) جو جناب زہراؑ کی چکی چلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب فاطمہ ؑ کی توشہ آخرت کی طرح دنیاوی ضروریات کی بھی کفالت کی ہے۔
کیفیت کے لحاظ سے جناب زہراء ؑ کی عبادت:
اگر بات جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت کی کیفیت کے حوالے سے ہو تو ہمارے دل و دماغ میں وہ کیفیت بالا صفات کا آنا ممکن ہی نہیں۔ ہم جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت میں پائی جانے والی روحانیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ہم فرش پر اپنی محدود نگاہ سے حضرت زہراؑ کی عظمت کا ادراک تو دور کی بات، اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ ہم صرف انہی ملکوتی ہستیوں کے فرمودات سن کر اور پڑھ کر ہی اس عظمت کی ایک جھلک محسوس کر سکتے ہیں۔ چنانچہ جب ہم روایات کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب زہراؑ کی عبادت پر اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے درمیان فخر و مباہات کرتے ہیں۔رسول گرامی اسلام ﷺ فرماتے ہیں: ’’اما ابنتى فاطمة… متى قامت فى محرابها بین یدى ربها جل جلاله زهرا نورها لملائکة السماء کما یزهر نور الکواکب لأهل الأرض و یقول الله عز و جل لملائکته: یا ملائکتى! انظروا الى امتى فاطمة، سیدة امائى، قائمه بین یدى یرتعد فرائضها من خیفتى و قد اقبلت بقلبها على عبادتى. اشهدکم انى قد آمنت شیعتها من النار ‘‘(11) میری بیٹی فاطمہ جب بھی اپنی محراب عبادت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو آسمان کے فرشتوں کے لئے آپ کا نور بالکل ویسے چمکتا ہے جیسے زمین والوں کے لئے ستاروں کی روشنی چمکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتاہے: اے میرے فرشتو! میری کنیز فاطمہ کی طرف دیکھو، میری کنیزوں کی سردار، جو میری بارگاہ میں حاضر ہوکر میری خشیت سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ میں نےبھی ان کی دل سے کی ہوئی عبادت کو قبول کیا ہے۔میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فاطمہ کے چاہنے والوں کو جہنم کی آگ سےامان دی ہے۔
جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی عبادت کی ظاہری کیفیت یہ تھی کہ جب بھی آپ عبادت میں مشغول ہوتی تھیں تو اللہ تعالیٰ کا خوف آپ کے جسم پر آشکار ہوتااور خشیت الٰہی سے آپ کا جسم لرزتا تھا۔ تمام اعضاء و جوارح سے خشیت الٰہی کے آثار نمودار ہوتے تھے۔جبکہ آپ کی عبادت کی معنوی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ جب آپ عبادت میں مشغول ہوتیں تو اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حیرت زدہ ہوجاتے اور معنویت سے بھرپور آپ کی عبادت کو دیکھ کر مسرور ہوتے تھے۔ رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:’’ انها لتقوم فى محرابها فیسلم علیها سبعون الف ملک من الملائکه المقربین و ینادونها بما نادت به الملائکه مریم فیقولون: یا فاطمه! اِنَّ اللّـٰهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعَالَمِيْنَ ‘‘ (12)۔ جب بی بی دوعالم محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو اللہ تعالیٰ کے ستر ہزار مقرب فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں اور جس طرح حضرت مریمؑ کو فرشتوں نے نداء دی تھی وہی نداء جناب زہراءؑ کو بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں: یا فاطمہ! بے شک اللہ نے آپکو پسند کیا ہے اور آپکو پاک کیا ہے اور آپکو سب جہان کی عورتوں میں پسند کیا ہے۔(13) جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت کی معنوی کیفیت کے بارے میں ایسی ہی ایک روایت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔ جب آپ سے سوال ہوا :’’ لِمَ سُمِّيَتِ اَلزَّهْرَاءَ؟ فَقَالَ: لِأَنَّهَا كَانَتْ إِذَا قَامَتْ فِي مِحْرَابِهَا زَهَرَ نُورُهَا لِأَهْلِ اَلسَّمَاءِ كَمَا تَزْهَرُ نُورُ اَلْكَوَاكِبِ لِأَهْلِ اَلْأَرْضِ‘‘(14) جناب فاطمہ کا زہراء نام کیوں رکھا؟ آپؑ نے فرمایا: جب آپ محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو آپ کانور آسمان والوں کے لئے ایسے چمکتا تھا جیسے زمین والوں کے لئے ستاروں کا نور چمکتا ہے۔
قرآن کریم میں جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی بندگی کا اعتراف:
ساتویں صدی ہجری کے شیعہ عالم علی بن عیسیٰ اربلی اپنی کتاب کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ میں نقل کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ ہجرت کے دوران رسول اکرمﷺ پہلے ہی ہجرت فرما چکے تھے۔ جناب بی بی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا دیگر خواتین بنی ہاشم کے ساتھ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی معیت میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہی تھیں۔ قریش مکہ کو رسول اکرمﷺ کی ہجرت کے بعد آپ کے گھر والوں کی ہجرت کا علم ہوا تو انہیں روکنے کے لئے قافلے کا پیچھا کیا اور اس قافلے کو روکنا چاہا چنانچہ امیرالمؤمنینؑ کی جوانمردی کے سامنے پسپا ہوکر واپس لوٹ گئے۔ اس سفر میں ہر وقت دشمن کا خطرہ تھا لیکن جب رسول اکرمﷺ کے پاس یہ قافلہ پہنچا تو آپﷺ نے امیرالمؤمنین ؑ کو گلے لگایا اور فرمایا کہ آپ لوگوں کے اس سفر کے لمحہ لمحہ کی خبرمجھےجبریل ؑ نے دی ہے۔ اس سفر کے دوران آپ لوگوں کی تہجد گزاری، دعا مناجات و بندگی اور کائنات کے اسرار و رموز کے بارے میں غور کرنے کے اعتراف میں قرآن کی آیت نازل کی ہے: ’’ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘(15) ـ جو اٹھتے بیٹھتے اور اپنی کروٹوں پر لیٹتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی خلقت میں غور و فکر کرتے ہیں، (اور کہتے ہیں:) ہمارے رب! یہ سب کچھ تو نے بے حکمت نہیں بنایا، تیری ذات (ہر عبث سے) پاک ہے، پس ہمیں عذاب جہنم سے بچا لے۔(16)
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی بندگی و دعا کی کچھ امتیازی خصوصیات:
بندگی و دعا اگرچہ تمام انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کا خاصہ ہے۔ہمارے معصومین علیہم السلام میں سے ہر معصوم اطاعت و بندگی کے اس مقام پر فائز ہے کہ خود اللہ تعالیٰ بھی ان کی بندگی پر ناز کرتا ہے۔ ان کی کثرت قیام و رکوع و سجود دیکھ کر کہیں ’’ يا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ‘‘(17) کہہ کر اپنی بے پناہ محبت دکھاتا ہے۔ کہیں ’’ الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ ‘‘(18) جیسی آیات نازل کر کے ولایت کا اعلان کرتا ہے۔ کہیں آیہ تطہیر بھیج کر اس پورے گھرانے کی عصمت و طہارت کی گواہی دیتا ہے۔ المختصر ہر معصوم کے انداز بندگی میں الگ الگ خصوصیت اور امتیاز ہے۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بندگی و دعا کے انداز میں بھی یقینا کچھ خصوصیات ہیں۔ ذیل میں ان خصوصیات میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
دعا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی پسند:
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ہاں دعا کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ آپ دنیا کی کسی بھی چیز کے مقابلے میں دعا کو چھوڑ نہیں سکتی تھیں۔ اس حوالے سے ایک روایت ملتی ہے کہ ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا میں آپ کو ایسی دعا تعلیم کروں کہ جو بھی یہ دعا مانگے اس کی حاجت پوری ہوگی۔ آنحضرتﷺ کے جواب میں آپ نے فرمایا: ’’ یَا أَبَتِ لَهَذَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا‘‘، بابا جان!ایسی دعا مجھے اس دنیا و ما فیھا سے زیادہ عزیز اور پسندیدہ ہے۔ (19)
عبادت کے لئے مخصوص جگہ
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے گھر میں عبادت کے لئے ایک خاص محراب ترتیب دی ہوئی تھی۔ عام طور پر آپ جب بھی عبادت میں مشغول ہونا چاہتی تھیں تو اسی محراب عبادت میں چلی جاتی تھیں۔ اور اسی مخصوص جگہ پر اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرتی ہوئی خوف و خشیت الٰہی سے گریہ و زاری کرتی تھیں۔یہ ایک نیک سیرت اور سنت ہے۔ خاص کر خواتین کے لئے اپنے گھر میں عبادت کے لئے گھر کے کسی حصے کو معین کرنا ایک قابل قدر بات ہے۔یہی سنت جناب بی بی فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی سیرت میں بھی نظر آتی ہے۔ چنانچہ قم میں موجود بیت النور میں آج بھی بی بی فاطمہ معصومہ قم کی محراب عبادت زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔
عبادت کے مخصوص اوقات:
جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں عبادت و دعا کے لئے کچھ مخصوص اوقات خاص اہمیت کے حامل تھے۔ چنانچہ شب جمعہ، عصر جمعہ اور جمعے کے دن غروب آفتاب کا وقت جناب سیدہ کی عبادت و دعا کے خاص اوقات میں شامل تھے۔اسی طرح سحر خیزی اور شب قدر کے ایام میں بھی دعا و مناجات کا خصوصی اہتمام فرماتی تھیں اور اپنے گھر والوں کو بھی ان اوقات میں عبادت کے لئے آمادہ کرتی تھیں۔
خاص اوقات دعاء کی پابندی:
جناب سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت میں ملتا ہے کہ آپ دعا و عبادات کے لئے خاص اوقات کا خیال رکھتی تھیں۔ چنانچہ بعنوان مثال آپ علیہا السلام نے جمعہ کے دن کی دعا کے حوالے سے ایک روایت اپنے بابا رسول اکرمﷺ سے نقل فرمائی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ـ ’’إِنَّ فِی الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا یُوَافِقُهَا رَجُلٌ‏ مُسْلِمٌ یَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فِیهَا خَیْراً إِلَّا أَعْطَاهُ إِیَّاهُ ‘‘ ـ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان شخص اللہ تعالیٰ سے کوئی نیک حاجت نہیں مانگتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی وہ حاجت پوری فرماتا ہے۔ جناب زہرا فرماتی ہیں: میں نے پوچھا : یا رسول اللہ وہ کونسی ساعت ہے؟ فرمایا: جب سورج کا آدھا حصہ افق میں پنہاں ہوجائے۔ اس کے بعد جناب زہرا سلام اللہ علیہا ہمیشہ جمعہ کے دن اسی ساعت غروب میں مسلمانوں کے لئے خیرخواہی کی دعا میں گزارتی تھیں اور کسی کو بتا کر رکھتی تھیں کہ وہ سورج ڈوب جانے کی اطلاع دے۔ (20)
تسبیح زہراء سلام اللہ علیہا:
جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اذکار کو خاص تعداد میں پڑھنا بھی آپ کی بندگی کا خاصہ تھا۔ ان اذکار میں سب سے معروف ذکر تسبیح زہراء ہے۔ روایات میں ملتا ہے کہ جب آپؑ نے بابا سے گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے لئے ایک خادمہ کی درخواست کی تو رسول اکرمﷺ نے ایک ذکر تعلیم فرمایا جو دنیا ومافیھا سے بہتر تھا۔(21) جناب زہرا سلام اللہ علیہا نے بھی بابا کی طرف سے عطا ہونے والے اس ذکر کو بخوشی قبول فرمایا اور زندگی بھر اس کی ایسی پابندی کی کہ یہ ذکر تسبیح زہرا کے نام سے معروف ہوا۔امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد تسبیح زہرا سلام اللہ علیہا پڑھنا ایک ہزار نوافل سے بہتر ہے۔آپؑ ہی کا فرمان ہے کہ ہم اہل بیت اپنے بچوں کوجس طرح نماز کا حکم دیتے ہیں اسی طرح تسبیح زہرا کا حکم بھی دیتے ہیں۔پس اس ذکر کو پابندی سے جاری رکھو، کیونکہ جو بندہ اس ذکر کی تلاوت کرے گا کبھی بھی بدبخت نہ ہوگا۔ (22)
دعا کرنے میں خود سے زیادہ دوسروں کا خیال: سیرت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا میں ایک اہم نکتہ دعا میں خود پر دوسروں کو مقدم رکھنا ہے۔ چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت امام حسن علیہ السلام سے نقل کیا ہے: امام حسن فرماتے ہیں: ’’رَأَیْتُ أُمِّی فَاطِمَةَ ع قَامَتْ فِی مِحْرَابِهَا لَیْلَةَ جُمُعَتِهَا فَلَمْ تَزَلْ رَاکِعَةً سَاجِدَةً حَتَّى اتَّضَحَ عَمُودُ الصُّبْحِ وَ سَمِعْتُهَا تَدْعُو لِلْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ تُسَمِّیهِمْ وَ تُکْثِرُ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَ لَا تَدْعُو لِنَفْسِهَا بِشَیْ‏ءٍ فَقُلْتُ لَهَا یَا أُمَّاهْ لِمَ لَا تَدْعِینَ لِنَفْسِکِ کَمَا تَدْعِینَ لِغَیْرِکِ فَقَالَتْ یَا بُنَیَّ الْجَارَ ثُمَّ الدَّارَ‘‘
ایک شبِ جمعہ میں نے اپنی مادر گرامی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو محراب عبادت میں کھڑے ہوکر مسلسل رکوع سجود کی حالت میں دیکھا۔ اس رات صبح کی سفیدی طلوع ہونے تک آپ دعا و عبادت میں مشغول رہیں۔ اس پوری مدت میں میں نے سنا کہ تمام مؤمنین و مؤمنات کے لئے آپ نے دعا فرمائی لیکن اپنے لئے کوئی بھی دعا نہ کی۔ میں نے پوچھا اماں! جس طرح آپ دوسروں کے لئے دعا فرما رہی ہیں اپنے لئے بھی ایسے کوئی دعا کیوں نہیں کرتیں؟ فرمایا: میرے بیٹے! پہلے ہمسائے پھر گھر والے۔ (23)
اسی طرح بی بی سلام اللہ علیہا مختلف اوقات میں اپنے چاہنے والوں کے لئے بھی دعا فرماتی تھیں۔ آپؑ کا یہی معمول عمر کے آخری دنوں تک خصوصیت کے ساتھ جاری رہا۔ حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی زوجہ اسماء نقل کرتی ہیں کہ جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی زندگی کے آخری ایام میں ایک دن ان کی خدمت میں تھی۔آپؑ نے غسل کیا، لباس تبدیل کیا اور اپنے مصلے پر اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز میں میں مشغول ہوگئیں۔ میں نزدیک گئی تو جناب زہرا ؑ کو دیکھا کہ رو بہ قبلہ تشریف فرما ہیں اور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے ہیں اور اس طرح دعا کر رہی تھیں:’’ اِلهی وَ سَیدی اَسْئَلُکَ بِالذَّینَ اصْطَفَیتَهُمْ وَ بِبُکاءِ وَلَدَی فی مُفارَقَتِی اَنْ تَغْفِرَ لِعُصَاةِ شیعَتِی وَ شیعَةِ ذُرِّیتِی‘‘۔ خداوندا! تجھے واسطہ ہے ان تمام پیغمبران برحق کا جنہیں تو نے منتخب کیا ہے اور میری جدائی میں میرے بیٹوں کی گریہ و زاری کا واسطہ میرے گناہگار شیعوں کو اور میری ذریت کے چاہنے والوں کو بخش دے۔ (24)
خلاصہ

مذکورہ بالا بیانات اور دلائل کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے سامنے اپنی مکمل ذلت و فقر کا اظہار بندگی کہلاتا ہے۔ کلام معصومین علیہم السلام کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کو مالک و مختار کل ماننا، اس کی ذات پر مکمل توکل اور سر تسلیم خم کرنا اور اس کی مرضی کے مطابق چلنا ہی بندگی کا مفہوم ہے۔ جناب زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی اعلیٰ مثال پیش کی ہے۔

حوالہ جات:

(1) سورہ الدھر: آیت 3۔
(2) سورہ الاسراء، آیت1.
(3) راغب اصفہانی، حسين بن محمد بن مفضل(متوفی 502ھ) المفردات فی غریب القرآن، جلد 1، ط 2، دفتر نشر الکتاب، قم،(سن 1404ھ)،ص319.
(4) مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار،ج۱، مؤسسۃ الوفاء، بیروت، (سن ۱۴۰۴ھ)،ص۲۲۴
(5) سید ابن طاؤوس، علی بن موسیٰ(م۶۶۴ھ) مُهجُ الدعوات و منهج العبادات،ذكر ما نختاره من الدعوات عن سيدتنا و أمنا المعظمة فاطمة سيدة نساء العالمين بنت سيد المرسلين صلوات الله عليهما و على عترتهما الطاهرين ،جلد۱،دار الذخائر للمطبوعات، قم،(سن ندارد)،ص۱۴۱، حدیث:۱۰۸۔
(6) سورہ الفرقان، آیت 77.
(7) سورہ غافر:۶۰
(8) سورہ بقرہ: ۱۸۶
(9) مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار،ج۴۳، مؤسسۃ الوفاء، بیروت، (سن ۱۴۰۴ھ)، ص ۷۵، روایت ۶۲
(10) مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار،ج۴۳، مؤسسۃ الوفاء، بیروت، (سن ۱۴۰۴ھ)، ص۴۶
(11) بحارالانوار: ج 28، ص 38،
(12) سورہ آل عمران، آیت ۴۲
(13) بحارالانوار: ج 37، ص 84، روایت 52
(14)ابن بابویہ،محمد بن علی، علل الشرائع، باب العلة التي من أجلها سميت فاطمة الزهراء عليها السلام زهراء, ج ۱،مکتبہ داوری، قم،(سن ندارد)ص ۱۸۱۔
(15) آل عمران : 191
(16) بھاؤالدین الاربلی، ابی الحسن علی بن عیسیٰ بن ابی الفتح، (م)، کشف الغمة فى معرفة الائمة ط ثانی، دارالاضواء للطباعۃ والنشر والتوزیع، بیروت، (سن۱۹۸۵ء)ص 539
(17) سورہ مزمل: آیت ۱-۳
(18) سورہ مائدہ: آیت ۵۵
(19)(ابن طاؤوس، علی بن موسیٰ، م 664ھ، مهج الدعوات و منهج العبادات، منشورات مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ط اولیٰ المصححہ، (سن1994)،ص140۔
(20) (الطبری، محمد بن جریر، دلائل الامامۃ، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ط ثانی،(سن 1988ء)، ص71.
(21) شیخ صدوق،ابوجعفر محمد بن علی حسین،(م۳۸۱ھ)،من لا یحضرہ الفقیہ،ج۱، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بیروت،(سن ندارد)ص۳۲۰
(22) شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویہ(م۳۸۱ھ)، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،دار الشریف الرضی للنشر، قم،(سن ۱۴۰۶ھ)،ص۳۱۵۔
(23) (شیخ صدوق، محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی، (م381ھ) علل‌الشرایع، المکتبہ الحیدریہ،نجف، (سن 1385ھ) ج1، ص182
(24) المازندرانی، محمد مہدی الحائری، کوکب الدری فی احوال النبی والبتول والوصی، مرکز تحقیقات حوزہ علمیہ ، اصفہان،ج اول، ص 254

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=41076