شہر قم، جو کبھا ایران کا ایک گمنام اور ویران شہر تھا۔ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی تشریف آوری کے بعد تاریخ کے دھارے کو بدل دیا۔ آپ کی آمد نے اس شہر کو روحانی عظمت اور معنوی برکتوں سے نوازا۔ یوں قم علم و اجتہاد اور فضیلت کا مرکز بن گیا۔
صدیوں سے یہ شہر دینی علوم کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔ یہاں کے علماء اور مجتہدین نے اسلام کی بہت زیادہ خدمت کی۔
لیکن زمانہ بدلا اور بیسویں صدی کا عظیم انسان بت شکن زمان ، حضرت سید روح اللہ الموسوی الخمینی، معروف امام خمینی رح نے اسی مقدس شہر سے اسلامی بیداری کی تحریک کا آغاز کیا۔
آپ نے قم المقدس کی روحانی فضاء میں پرورش پائی اور یہیں سے طاغوتی نظام کے خلاف آواز بلند کی۔
اور دینی تہذیب و ثقافت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کی تحریک کی بنیاد رکھی۔
امام خمینی رح کی رہبری میں یہ تحریک پوری دنیا میں پھیلی اور خاموش پڑی ہوئی امت اسلامی میں بیداری اور شعور کی نئی لہر دوڑا دی۔
بالآخر، یہ عظیم انقلاب اسلامی 1979ء کو کامیاب ہوا اور ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کے طاغوتی نجس سایے کا خاتمہ ہوا ۔
اس کے نتیجے میں قرآنی نظام امامت و ولایت قائم کیا ۔
جو آج بھی دنیا بھر کے مستضعفین کے لیے امید کی کرن ہے۔
23 ربیع الاوّل امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی عظیم بیٹی، شہر مدینہ سے اپنے بردار ارجمند امام رضا علیہ السّلام کی فراق کو برداشت نہ کرسکتے ہویے اپنے بھائی سے ملنے ملنے خراسان کی طرف تشریف لے جاتی ہی اور شہر مقدس قم میں پہنچتی ہیں اور وہیں پڑوا ڈالتی ہے اس قلیل مدت کی سکونت سے گوشہ وکنار سے علماء ،دانشور ،حکماء فقھاء اور مجھتدین اس شہر کی طرف رخ کرتے ہیں یوں شہر مقدس قم ایک ویران بیابان سے بدل کر ایک آباد علمی فکری نظریاتی محاذ میں بدل جاتا ہے۔
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی برکت اور امام خمینی رح کی قیادت میں قم نے تاریخ ساز کردار ادا کیا* ۔ باشعور انسانی نسل تاریخ کے اس اہم موڑ کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔












