ترکیہ کے ایک معروف اخبار نے لکھا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو جس طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے بعد یہ ممالک اب سکیورٹی کے میدان میں امریکہ پر مکمل انحصار جاری رکھنے کے لیے تیار نہیں رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی ساکھ کمزور ہوئی ہے اور اصل نقصان صہیونی حکومت کو اس وقت محسوس ہوگا جب امریکہ خطے میں اپنا اعتماد اور اثر و رسوخ کھو دے گا۔
شام سے نکلنے کے بعد امریکہ اب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دلدل سے بھی پیچھے ہٹنے کی کوشش کرے گا، کیونکہ گزشتہ ایک ماہ سے یہ جنگ واشنگٹن کے لیے ایک پیچیدہ بحران بن چکی ہے۔ یہ محض خواہش نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کا دباؤ اب بھی ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر موجود ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب اکیلے اس قابل نہیں کہ امریکہ کو نیتن یاہو کے دباؤ اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کے مطابق مکمل طور پر جھکا سکے۔
اخبار نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ جواب میں اخبار نے کہا کہ اس کا اشارہ خلیج فارس کے ممالک میں نظر آتا ہے، جو اب آہستہ آہستہ اور محتاط انداز میں اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔












