تحریر: نذر حافی
یہ جنوری کا ہی مہینہ تھا۔ دہشت گرد بھاگ رہے تھے، بھلا ہماری ہوشیار سکیورٹی فورسز کی آنکھوں میں دھول جھونکنا کوئی آسان بات ہے! ہمارے بہادروں نے تعاقب کیا۔ پیچھے سے دہشت گردوں کی گاڑی کو تین مرتبہ گولیاں ماریں گئیں، گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی۔ وردی والوں نے گاڑی کو گھیر لیا، دہشت گردوں نے منتیں کرنی شروع کر دیں۔ جو مرضی ہے لے لو لیکن ہمیں قتل نہ کرو۔ تاہم شنوائی نہ ہوئی۔ ایک دہشت گرد اور اس کی بیوی نے اپنے بچوں کو اپنی ٹانگوں کے نیچے دبا لیا۔ فرض شناس سکیورٹی اہلکاروں نے ایک مرتبہ پھر گولیاں چلائیں۔ آناً فاناً دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا گیا۔ محب وطن سکیورٹی اہلکاروں نے فوراً ہی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ بھی کیا۔ وہ زخمی بچوں کو وہیں پھینک کر بھی جا سکتے تھے، لیکن وہ زخمی بچوں کو نزدیکی جنگل میں لے گئے۔ پھر انہیں وہاں جنگل کی تازہ ہوا کھانے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ایسے فرض شناس اور مہربان اہلکاروں کو اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا جانا چاہیئے۔ بعد ازاں ایک اور ملک دشمن اُدھر جنگل میں آدھمکا۔ اُس نے ان زخمی بچوں کو وہاں سے ایک پٹرول پمپ تک پہنچایا۔ اس مُلک دشمن کی وجہ سے بے چاری پولیس کو دوبارہ زحمت کرنی پڑی۔ یوں پولیس اہلکار ان بچوں کو مجبوراً تھانے میں لے گئے۔ اس کارروائی میں 2 خواتین سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ساری تفصیلات ایک بارہ سالہ دہشت گرد کی بیان کردہ ہیں۔ اس کا نام عمیر ہے۔ یہ سانحہ ساہیوال کا عینی شاہد ہے۔ آپ خود سوچئے کسی دہشت گرد کی شہادت کیسے قبول کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے آپریشن کو 100 فیصد درست قرار دیا تھا۔ سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کی تحویل سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں۔ وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ گاڑی کو چلانے والے ذیشان کا تعلق داعش سے تھا۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے لواحقین بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ چنانچہ وزیر قانون کے بیان پر لواحقین نے احتجاج تو کیا لیکن محب وطن عناصر نے ان کی آواز کو ابھرنے نہیں دیا۔ الحمد للہ! ملکی مفاد کے پیشِ نظر سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد بھی بہت کچھ ہوتا رہا، ذہنی معذور صلاح الدین کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہونگے۔ ایسے لوگ ملکی سلامتی کیلئے سخت خطرہ ہیں۔ ہمارے محب وطن اداروں نے اس کی عقل ٹھکانے لگانے کی پوری کوشش کی۔ اسی کوشش میں وہ پاگل خود بھی ٹھکانے لگ گیا۔ اب پاگلوں کی خاطر عقلمندوں کو تو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح یہاں بھی حب الوطنی کے فارمولے کےپیشِ نظر مقتول پر مٹی ڈال دی گئی۔ قاتلوں کو پھولوں کے ہار پہنا کر بری کر دیا گیا۔ آخر یہ پھول بہادر سپوتوں کے سینے پر ہی تو اچھے لگتے ہیں۔ اب تو اسلام آباد کی سڑکوں پر بھی سخت خطرہ ہے۔ خطرے کے پیشِ نظر سکیورٹی اداروں کے اختیارات اور مراعات میں بھاری اضافے کی ضرورت ہے۔ اسامہ ندیم ستی نے چند دِن پہلے جو کیا وہ سب کی نیندیں اُڑانے کیلئے کافی ہے۔ یہ اکیس سالہ دہشت گرد سکیورٹی اداروں کو چکمہ دینا چاہتا تھا۔ اس کی گاڑی کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنایا گیا۔ 6 گولیاں گاڑی کی ونڈ اسکرین پر لگیں۔ یعنی اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ یہ دہشت گرد کسی طور بھی زندہ نہ بچے۔ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی قدر ہی نہیں۔ اگر اور کوئی ملک ہوتا تو ایسے فرض شناس نشانہ بازوں کو ہیرے و جواہرات میں تول دیا جاتا۔ اب چلتے چلتے کچھ ذکر ملک دشمن مزدوروں کا بھی ہو جائے۔ ابھی دو دن پہلے ہی 11 مزدوروں کو مچھ میں موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ مچھ ضلع بولان کی تحصیل ہے۔ اب یہ چھوٹی سی بات ہے۔ پرانے کان کنوں کی جگہ نئے کان کُن مل جائیں گے۔ اب ہم اپنے سکیورٹی اداروں کو مزدوروں کی حفاظت پر تو نہیں لگا سکتے۔ جہاں تک ان کے بیوی بچوں کی کفالت کا تعلق ہے تو اس میں ہم نے گھبرانا نہیں ہے۔ بالکل بھی نہیں گھبرانا۔ آخر ریاستِ مدینہ میں گھبرانے کی کیابات ہے!؟ یاد رکھئے! ہر ملک دشمن کی سزا، اغوا اور قتل ہے۔ ملک دشمنی کے ثبوت کیلئے آپ کا ہزارہ کمیونٹی سے ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ کے اکاونٹ میں کچھ زیادہ رقم جمع ہوگئی ہے تو پھر بھی آپ ملکی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہیں۔ پیسے والے افراد کو اپنے اپنے اکاونٹس کا جائزہ لیتے رہنا چاہیئے۔ کہا جاتا ہے کہ سانحہ ساہیوال سمیت متعدد لاپتہ افراد اور مقتولین کی ایک اہم وجہ ان کے اکاونٹس بھی ہیں۔ اگر آپ پیسے جمع کرنے کے شوقین ہیں تو پھر آپ کا یہ شوق آپ کو زینبیون بریگیڈ کا اہلکار بھی ثابت کرسکتا ہے۔ ویسے بھی آپس میں تقسیم کرکے اور بانٹ کر کھانا اچھی بات ہے۔ اگر آپ اپنے رشتے داروں میں اپنے پیسے نہیں بانٹیں گے تو پھر جلد یا بدیر موت بانٹنے والے فرشتے آپ کو اٹھا لیں گے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ فرشتے وردی کے پابند نہیں ہوتے۔ کبھی وردی میں اور کبھی بغیر وردی کے بھی ہوسکتے ہیں۔
بس آج سے آپ یقین کر لیجئے کہ صدقہ موت کو ٹالتا ہے۔ چنانچہ ہزارہ برادری کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے حساب کتاب پر نظرِثانی کرے۔
ہزارہ کمیونٹی سے یہ خون کی قسطیں جو روزانہ وصول کی جاتی ہیں، شاید انہیں پیسوں کی نقد اقساط میں بدل کر کچھ لوگوں کو مزید زندہ رہنے کی مہلت دلائی جا سکے۔ بہرحال کوئی ہزارہ ہو یا غیر ہزارہ، اگر جانیں بچانی ہیں تو صدقہ تو دینا ہی پڑے گا۔












