قالَ امام علی (علیه السلام):
اَلْعِلْمُ وِراثَةٌ کَریمَةٌ، وَ الاْدَبُ حُلَلٌ حِسانٌ، وَ الْفِکْرَةُ مِرآةٌ صافِیَةٌ، وَالاْعْتِذارُ مُنْذِرٌ ناصِحٌ، وَ کَفى بِکَ أَدَباً تَرْکُکَ ما کَرِهْتَهُ مِنْ غَیْرِکَ.
امام علی علیہ السلام نے فرمایا :
علم ایک بیش قیمت اور اچھی میراث ہے ‘ادب بہترین زیور ہے ‘غور وفکر ایک صاف آئینہ ہے ‘معذرت خواہی ایک ڈرانے والا ناصح ہے تمھارے باادب ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جسے تم دوسروں سے ناپسند کرتے ہو اسے خودبھی ترک کردو .
أمالى طوسى : ج 1، ص 114 ح 29، بحارالأنوار: ج 1، ص 169، ح 20.












