وفاق ٹائمز، خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن نے کوچہ رسالدار خود کش دھماکہ کو سکیورٹی اداروں کی ناکامی قراردیتے ہوئے امن و امان کی بگڑتی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اپوزیشن نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر خودکش بمبار کیسے پاکستان داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟
وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں۔ اگر وزیر اعظم کو علم ہے تو پھر طاقتور سکیورٹی ادارے ان دہشت گردوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچاتے؟۔ خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خوشدل خان ایڈووکیٹ نے تحریک التوا پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہے 4 مارچ کو پشاور کے علاقہ کوچہ رسالدار قصہ خوانی میں خودکش حملہ اور ضلع باجوڑ میں بم دھماکہ امن و امان کے حوالے سے صوبہ کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قاعدہ 73 کے تحت تحریک التوا کو تفصیلی بحث کیلئے منظور کیا جائے تاکہ اس حساس مسئلہ کے وجوہات پر غور کر کے اس کا حل تلاش کیا جاسکے“۔ خوشدل خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ وزیراعظم ہر جگہ اعلانات کررہے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں۔ اگر وزیراعظم کو علم ہے تو پھر ہماری طاقتور سکیورٹی ادارے ان دہشت گردوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچاتے؟۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن نگہت اورکزئی نے سانحہ کوچہ رسالدار کو انتہائی اندوہناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ آخر خودکش بمبار کیسے پاکستان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں؟ حملہ میں جو شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں صوبائی حکومت نے تاحال ان کیلئے کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا جبکہ زخمیوں کو علاج معالجے میں بھی مشکلات درپیش ہیں، ایوان نے دہشت گردی واقعات اور امن و امان کی صورت حال کا معاملہ تفصیلی بحث کیلئے منظور کر لیا۔












