مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں صبح سویرے سے ہی نمازیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جو کہ ہفتوں کی بندش کے بعد نمازِ جمعہ کی ادائیگی کا دوسرا موقع تھا۔ مقبوضہ بیت المقدس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پچھہتر ہزار نمازیوں نے قبلہ اول کے در و دیوار میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔
مسجد کے تمام حصے نمازیوں سے کچھا کچھ بھرے ہوئے تھے، جن میں مرد، خواتین، بچے اور بوڑھے بڑی تعداد میں شامل تھے۔ یہ روح پرور منظر ایک طویل عرصے کے بعد مسجد کی طرف واپسی پر اہل فلسطین کے جوش و جذبے اور والہانہ محبت کی عکاسی کر رہا تھا۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے مسجدِ اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ قدم مقبوضہ بیت المقدس اور مسجدِ اقصیٰ میں یہودی آبادکاری اور اسے یہودی رنگ میں رنگنے کے مذموم منصوبوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے بااثر شخصیات اور مرابطین کو منبر و محراب سے دور رکھنے کی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔
شیخ صبری کے دفتر کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ قابض پولیس نے انہیں باب الاسباط کے مقام پر روکا اور نماز کی ادائیگی کی کوشش کے باوجود انہیں مسجد تک پہنچنے سے باز رکھا۔
شیخ صبری کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قابض فورسز نے نماز سے قبل باب الاسباط پر ان کا راستہ روکا، جبکہ ان کے ہمراہ موجود دفاعی ٹیم نے تصدیق کی کہ یہ روک ٹوک کسی بھی قانونی فیصلے کے بغیر کی گئی۔
واضح رہے کہ شیخ عکرمہ صبری مسجدِ اقصیٰ کے امام و خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامک کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔ بیان کے مطابق انہیں مسجد سے روکنے کا یہ واقعہ ان پر گذشتہ دو سال سے عائد نقل و حرکت کی پابندیوں اور سخت انتظامی فیصلوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
قابض اسرائیلی حکام نے مسجدِ اقصیٰ کو مسلسل چالیس دنوں تک بند رکھا تھا، جس کے دوران نمازیوں اور زائرین کو نمازِ جمعہ سمیت کسی بھی قسم کی عبادت سے محروم رکھا گیا۔ اس بندش کی وجہ سے پانچ مسلسل جمعہ یعنی 6، 13، 20 اور 27 مارچ اور 3 اپریل سنہ 2026ء کو مسجد ویران رہی، جس کے بعد 10 اپریل سنہ 2026ء کو چھٹے جمعہ کو اسے دوبارہ نمازیوں کے لیے کھولا گیا تھا۔
قابض افواج نے ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی جارحیت کے پیش نظر اجتماعات روکنے کے بہانے 28 فروری سے مسجدِ اقصیٰ اور کلیساۃ القیامہ کو بند کر رکھا تھا۔
اسی دوران سنہ 1967ء میں مقبوضہ بیت المقدس پر قبضے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ فلسطینیوں کو مسجدِ اقصیٰ میں نمازِ عید الفطر ادا کرنے سے بھی روک دیا گیا۔
مسجد کو دوبارہ کھولنا امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد ممکن ہوا ہے۔ یہ جنگ بندی واشنطن اور تل ابیب کی جانب سے 28 فروری سے بدھ تک جاری رہنے والی جارحیت کے بعد عمل میں آئی، جس کے دوران تہران نے بھی قابض اسرائیل پر جوابی حملے کیے تھے اور ان واقعات کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوئے تھے۔












