*”یوم مسلح افواج” کے موقع پر رہبر معظم امام سید مجتبیٰ خامنہٰ ی دام ظلہ کا خصوصی پیغام*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*انَّ اللَّہَ يُحِبُّ الَّذينَ يُقاتِلونَ في سَبيلِہِ صَفًّا كَاَنَّھُم بُنيانٌ مَرصوصٌ* (سورۂ صف، آيت 4)
(ترجمہ: بے شک خدا ان (مجاہدوں) کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔)
29 فروردین (18 اپریل) کا دن اسلامی جمہوریۂ ایران کی فوج کے مبارک یوم پیدائش کی، جسے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی دانائی پر مبنی جدت عمل سے، یوم مسلح افواج کے نام سے موسوم کیا گيا، تمام فوجیوں اور ان کے معزز اہل خانہ اور عظیم ایرانی قوم کو مبارک پیش کرتا ہوں۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی، فوج کی زندگی کے دو حصوں کے درمیان ایک اہم فاصلہ شمار ہوتی ہے اور اسے اس کمزوری کے دور کا خاتمہ سمجھنا چاہیے جو اس سرزمین کے دشمنوں کے ہاتھوں اور اندرونی غداروں کے ذریعے ملک کی بہادر اور صداقت پسند فوج اور فوجیوں پر مسلط کی گئی تھی۔ اس کے بعد فوج اپنی صحیح جگہ پر کھڑی ہو گئی اور بجائے اس کے کہ وہ طاغوتی اور فاسد پہلوی نظام سے متعلق ہو، قوم کی مہر آگیں آغوش میں آ گئی کیونکہ حقیقت میں فوج قوم کی اولاد ہے اور عوام کے گھروں سے پیدا ہوتی ہے۔ فوج نے جلد ہی امریکا اور پہلوی طاغوت کی باقیات اور علیحدگی پسندوں کی سازشوں کے سامنے کھڑی ہو گئی جو ایک ٹکڑوں میں منقسم ایران چاہتے تھے اور پھر اس نے شجاعتوں کی داستانیں رقم کیں۔
اسلام کی فوج اب بھی، پچھلی دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح بہادری سے اپنی سرزمین اور اپنے اس پرچم کا دفاع کر رہی ہے جس سے وہ جڑی ہوئی ہے اور اپنے مضبوط الٰہی اور عوامی سہارے کے ساتھ، مضبوط صفوں میں، مسلح افواج کے دیگر مجاہدوں کے شانہ بشانہ، کفر اور سامراج کے دو لشکروں سے برسر پیکار ہے اور اس نے ان کی کمزوری اور رسوائی کو دنیا بھر کے لوگوں کی نظروں میں عیاں کر دیا ہے، جیسا کہ اس کے ڈرون بجلی کی طرح امریکی اور صہیونی مجرموں پر گرتے ہیں، اسی طرح اس کی بہادر بحری فوج بھی دشمنوں کو نئی شکستوں کی تلخی چکھانے کے لیے تیار ہے۔
دوسری طرف انتیس فروردین ہمارے عظیم الشان شہید رہبر کا یوم پیدائش بھی ہے؛ جنھوں نے انقلاب کے پہلے عشرے سے ہی فوج کو منحل کرنے کے راگ کے مقابلے میں فوج کی حفاظت کے لیے اور پھر مختلف پہلوؤں سے اس کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سب سے زیادہ کوشش کیں۔
بلاشبہ اس اصیل عوامی ادارے کی مختلف صلاحیتوں میں پیشرفت کو، جو ملک کے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کی حفاظت کرتا ہے، زیادہ شدت سے جاری رکھنا چاہیے اور ان شاء اللہ عنقریب ہی اس کے حصول کے لیے ضروری تدابیر جاری کر دی جائیں گی۔
اس راستے میں اُن ہیروز کی شخصیتوں پر توجہ ضروری ہے جنھوں نے پچھلے پانچ عشروں میں مختلف نسلوں پر محیط انتظامی دور میں فوج کی رہنمائی اور قیادت کی اور ان میں سے بہت سے شہیدوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ ان کے پروگرام اور اقدامات اور ساتھ ہی ان کا بزرگوارانہ اور خالصانہ طریقۂ کار، مسلح افواج کے تمام حصوں کے لیے سبق آموز ہوگا۔ ان عظیم ہستیوں میں قرنی، فلاحی، نامجو، فکوری، بابائی، ستاری، اردستانی، اور صیاد شیرازی جیسی شخصیات سے لے کر آخری نامور شہداء سید عبدالرحیم موسوی اور عزیز نصیرزادہ تک شامل ہیں۔
خدا کا درود و سلام ہو اسلامی جمہوریۂ ایران کی فوج کے تمام مجاہدوں پر، ان کے افسروں اور کمانڈروں سے لے کر اس کے خاموش اور گمنام عملے اور سپاہیوں تک اور اللہ تعالیٰ کا سلام اور خدا کا درود و سلام ہو جنگ میں حصہ لینے والے فوج کے تمام اہلکاروں اور اپنے اعضائے جسمانی کا نذرانہ پیش کرنے والے جاں بازوں پر اور خدا کی خصوصی رحمت اور سلام ہو عظیم ایرانی قوم کے خلاف لڑی گئی امریکا اور صہیونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ کے تمام شہیدوں کے معزز اہل خانہ پر۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
*سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای*
29 فروردین 1405 مطابق 18 اپریل 2026












