یت اللہ العظمی حسین نوری ہمدانی نے موجودہ حساس حالات کے پیش نظر ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا ہر قول یا عمل جو داخلی محاذ کو کمزور کرے، درحقیقت دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔ انہوں نے تمام محب وطن افراد پر زور دیا کہ وہ اتحاد کو برقرار رکھیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائے۔
آیت اللہ العظمی حسین نوری ہمدانی نے موجودہ حساس حالات کے پیش نظر ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا ہر قول یا عمل جو داخلی محاذ کو کمزور کرے، درحقیقت دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔ انہوں نے تمام محب وطن افراد پر زور دیا کہ وہ اتحاد کو برقرار رکھیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائے۔
آیتاللہ نوری ہمدانی نے کہا کہ اس وقت ملک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور دشمن طاقتیں، بالخصوص امریکہ اور صیہونی حکومت، اپنے تمام وسائل کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سرگرم ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ ایسے حالات میں دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ قومی اتحاد، قیادت کے محور پر یکجہتی، بیداری اور دفاع، انتظامیہ و سفارتکاری کے میدان میں سرگرم افراد پر اعتماد ہے۔
مرجع تقلید نے مزید کہا کہ عوام کی باشعور اور بصیرت پر مبنی موجودگی دشمن کو مایوس کرے گی، اور یہ سلسلہ ان شاء اللہ فتنہ کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلح افواج اور حکومتی ذمہ داران ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے خاص طور پر مذاکرات کاروں کے خلاف منفی بیانات سے اجتناب کی تلقین کی اور کہا کہ یہ ذمہ داران، بالخصوص ڈاکٹر قالیباف، مکمل آگاہی کے ساتھ دشمن کی چالوں اور عوامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے بانیٔ انقلاب امام خمینی (رہ)، رہبر شہید، اور موجودہ رہبر آیتاللہ مجتبیٰ خامنہای کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے اتحاد، ہم آہنگی اور اختلاف سے پرہیز کی اہمیت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ ایران اس مشکل مرحلے سے بھی عزت و سربلندی کے ساتھ عبور کرے گا












