26

نظریہ مقاومت و نظریہ دھرنا

  • News cod : 7224
  • 06 ژانویه 2021 - 10:39
نظریہ مقاومت و نظریہ دھرنا
وفاق ٹائمز | ہر عاقل و عقل کا فریضہ ہے کہ اگر لوگ راہ اصلی پر نہ چلے یعنی لوگ راہ شریعت پر کاربند نہ ہوں اور راہ شریعت کو سننے کیلئے تیار نہ ہوں تو وہاں پر ان سے مکمل لاتعلق ہونا منطقی عمل نہیں ہے

ہدایت ہمیشہ دو مرحلہ کے ہیں۔
ہدایت اصلی و ہدایت فرعی۔
جب لوگ ہدایت اصلی قبول نہ کرے تو ہدایت فرعی کا مرحلہ اتا ہے۔
کیونکہ ہدایت اصلی جس پر اگر لوگ عمل کرے تو اس سے لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں نجات ہے۔
جبکہ ہدایت فرعی وہ کام ہے جو لوگوں کے صرف دنیاوی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے عمل میں منطقیت لے آتا ہے۔
لہذا الہی نمائندے دونوں قسم کی ہدایت دینے میں مشغول رہے ہیں۔
اصل ہدایت۔
چونکہ اصل ہدایت کو قبول نہیں کیا۔
پھر بھی ہدایت فرعی دیتے تھے یعنی لوگ جس راہ پر خود نکلے ہیں ان میں عقلی و منطقی ہدایت دینا کہ کم از کم اسی میں ہی نتیجہ منطقی نکلے۔
جس طرح اصل ولایت امام علی ع کا تھا لیکن جب آپ ع کے حق کو غصب کیا گیا تو امام ع لوگوں کو دو قسم کی ہدایت کرتے تھے۔
ہدایت اصلی۔۔ یعنی لوگوں کو اصل راہ دین پر لانا۔
چونکہ لوگ اس ہدایت پر نہیں چل رہے تھے۔
ہدایت فرعی: جس پر چل رہے ہوں اسی میں منطقی راہنمائی کرنا۔
کیونکہ جہاں پر ائمہ منبع وحی ہیں۔ وہیں پر عقل کامل بھی ہیں۔
مثلا جب امام علی ع دیکھتے کہ خلفاء لالچ میں آکر تو حکومت پر قابض ہوگئے لیکن اس کی تدبیر و سوج بوجھ نہیں رکھتے۔
تو اس وقت امام ع انہیں ہدایت فرعی دیتے تھے تاکہ ان کے احمقانہ عمل کا نتیجہ امت پر نہ پڑے۔
اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ وہ عقلی حکمتیں سب پر کھولیں تاکہ ایک معاشرہ و اجتماع احمق حکمرانوں کی وجہ سے تباہ نہ ہوں۔
لہذا ہر امام ع نے اپنے مخالفین کو بھی عقلی مشورہ دیتے تھے تاکہ امور دنیاوی میں کم از کم اجتماع کو نقصان نہ پہنچے۔
مثلا امام علی ع کا ایک اہم اجتماعی مشورہ جو فقط امام ع دے سکتا تھا وہ یہ ہے کہ جب خلیفہ دوم نے ایران فتح کیا اس وقت لشکر واپس لانا چاہا۔
امام ع نے عمر کو تعلیم دیا کہ اس فوج کو مدینہ واپس مت لاو۔ بلکہ اسے ایران کے گردا گرد کسی حصے پر اباد رکھو تاکہ ایران میں بغاوت کی صورت میں لشکر اسانی کے ساتھ اس بغاوت کو کچل سکے۔
وگرنہ جب تک مدینہ سے حرکت کرے اس وقت تک بغاوت مسلمانوں کو شکست دے چکی ہوگی۔
اس کام کا تجزیہ کرے کہ امام ع اج کے کوفہ کا مغز متفکر قرار پایا!
کیونکہ جنگ کا آغاز تو عمر نے کیا تھا لیکن امام نہیں چاہتے تھے کہ کوئی بھی کام بے ثمر رہے۔
اگر حماقت پر مبنی رہے تو ایرانی اتش پرست دوبارہ منظم ہوجاتے اور اس بار بھرپور حملہ کرتے ممکن تھا کہ مدینہ تک کچل دیتے۔
لیکن کوفہ کو اسٹراٹیجک نقطے کے طور پر چننا اور ایک مستقل خطرے کے طور پر ایرانیوں کے سر پر رکھوانا درحقیقت ایک متفکرانہ و عاقلانہ عمل تھا۔
جو صرف امام علی ع سے ہی ممکن تھا۔
اگرچہ تاریخ میں اس کام کے پیچھے امام علی کی فکر کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
اس کے پیچھے بھی ہدف ہے کیونکہ ایرانی شیعہ نہیں چاہتے کہ ایران کے خلاف چڑھائی میں کسی بھی امام ع کو دکھائے تاکہ ایران پرستی کے جذبے میں آئمہ ع تک کو چھوڑ نہ جائے۔
لیکن تاریخ سے ہٹ کر بھی اگر شواہد و قرائن جمع کرے تو یہ فکر امام ع کا ہی معلوم ہوتا ہے۔
کیونکہ خود جنگ ایران سے پہلے خلیفہ دوم خود جنگ میں شریک ہورہے تھے لیکن امام ع نے اسے روکا۔
یہ روکنا بھی ایک اسٹراٹیجی تھا امام نے اس حکمت عملی کو بھی بیان فرمایا ہے۔ کہ اگر تم خود جنگ مین شریک ہوجاو گے تو دشمن کو یہ یقین ہوگا کہ اسلام کا کل لشکر یہی ہے۔ لہذا اپنی زور و توانائی لگائے گا تاکہ اسی لشکر کو ختم کرے۔
لیکن جب خلیفہ خود مدینہ میں رہے تو اس سے دشمن پر یہ اثر پڑے گا کہ یہ لشکر ختم ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اصل لشکر تو پیچھے ہے۔
لہذا امام ع کے اس حکیمانہ عمل نے مسلمانوں کو جلد فتح سے ہمکنار کیا۔
دوسرا شاہد خود امام ع کے دوران حکومت میں بھی امام نے یہی اسٹراٹیجک قدم اٹھایا ہے۔
امام جب جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو امام نے دارالحکومت تبدیل کیا مدینہ کے بجائے کوفہ کو انتخاب کیا۔
اس کی دو اصلئ وجہ تھا۔
ایک تو کوفہ لشکر اسلام کا شہر تھا۔ فوج تھا۔ جنگ کیلئے فوج یہیں سے فراہم ہوتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ کوفہ مدینہ کی نسبت شام سے قریب تر تھا۔
امام ع کا ایک اصلی کام معاویہ کی بغاوت کو کچلنا تھا۔
جس کیلئے کئی چیز درکار تھی فوج اور قربت زمینی۔ تیسری چیز دشمن کے گرد فوجی حضور
امام کے اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کوفہ کی تشکیل کا مغز متفکر خود امام تھے۔ وگرنہ وہ انسان جو جنگ کے ابتداء میں ہی خطا کے مرتکب ہوئے تھے کہ خود جنگ میں حاضر ہورہے تھے، اس میں کیسے یہ فکر آئے ہیں کہ ایران کے گرد فوجی محاصرہ برقرار رکھنا۔
بہرحال ائمہ ع کے یہ اقدامات و اس طرح کے عقلی ارشادات ہر زمانے میں ملتے رہے ہیں۔ اس کا ہدف لوگوں کو اجتماعی امور میں خطا سے بچانا ہے تاکہ اجتماعی امور میں ضرر نہ ہوں۔
یہ ہر عاقل و عقل کا فریضہ ہے کہ اگر لوگ راہ اصلی پر نہ چلے یعنی لوگ راہ شریعت پر کاربند نہ ہوں اور راہ شریعت کو سننے کیلئے تیار نہ ہوں تو وہاں پر ان سے مکمل لاتعلق ہونا منطقی عمل نہیں ہے۔
وہاں پر دو کام ہوں۔
ایک ہدایت اصلی کرتے رہے۔
دوم ہدایت عقلی و فرعی بھی کرتے رہے۔
کیونکہ آپ اس سوسائٹی کا حصہ ہے۔ اگر حکمران احمقانہ عمل انجام دے تو اس کا نتیجہ پورے معاشرے پر پڑے گا۔
لہذا ہدایت شرعی کے ساتھ ہدایت عقلی دینا بھی ضروری ہے تاکہ حماقت نہ ہوں۔
اس مقدمے کے بعد یہ بھی علم ولایت کے علمبردار سید جواد نقوی پر لگے جانے والے الزامات بھی حل ہوجاتے ہیں۔ کہ انہیں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ خود کیوں حکومتوں کو مشورہ دے رہے ہیں۔
کیونکہ وہ تبدیل ہوگئے ہیں۔
جبکہ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بلکہ یہ ہر عاقل دیندار کا کام ہے کہ ہدایت اصلی کے تحقق سے پہلے بھی ہدایت عقلی و ارشاد عقلی دیتے رہے تاکہ یہ باطل نظام کی حماقتوں سے جامعہ انسانی محفوظ رہے۔
حماقت نہ ہوں۔ اگر کوئی حماقت کررہا ہو تو اس کو عقلی ارشاد دینا ایک منطقی عمل ہے۔
اگر کسی گمراہ کو عقلی ارشاد دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے نظریہ امامت کو ترک کیا ہے۔
اسی طرح آج پاکستانی شیعہ کے سامنے جو مشکلات آگئی ہے اس کیلئے بھی اصل راستہ مقاومت کا ہے۔
لیکن بزدلی، خوف، کم ہمتی، ناتجربہ کاری اور صاحبان ہدایت کا ہدایت محور ہونا اور صرف انٹرنٹ سے لوگوں میں دین پھیلانا وغیرہ نے مقاومت تک لوگوں کو جانے نہیں دیا۔
دھرنا اور مطالبات کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔
یعنی اصل راستہ ترک کرکے ایک خاص راستہ اپنایا ہے۔
یہاں پر ہادی کا دو کام ہے۔
اصل راستہ بتانا
دوسرا اصل راستے پر نہ چلنے کی صورت میں ہدایت فرعی۔ یعنی یہ دیکھے کہ یہ کام کس حد تک ثمر آور ہے۔ اگر اس میں ثمر کا احتمال بھی ہو تو اسے تک لے جانے کی کوشش کرنا۔
مثلا دھرنا ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں حکومت کو عمل کروانے کیلئے زیادہ سے زیادہ فشار لگوانا ہوتا ہے۔
حکومت پر فشار اس وقت آتا ہے جب آپ حکومت کے قلمرو کو چلنے مت دے۔
ایک اہم ذریعہ آمد و رفت کے راہوں کو بند کرنا۔
مخصوصا وہ راہیں بند کروانا جو زیادہ سے زیادہ فشار کا باعث بنے۔
البتہ ذات دھرنا خود ایک قسم کا عوام کو اذیت دینا شمار ہوتا ہے۔
اگر کہیں قتل ہوا ہے تو ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
دھرنا منطقی عمل نہیں ہے۔
لیکن یہ ایک قسم کا فشار ہے یا ایک قسم کا بلیک میلنگ ہے۔
آپ لوگوں کے راستے بند کرتے ہیں۔ تاکہ لوگ تنگ ہوکر حکومت کے خلاف قیام کرے۔
دھرنا ایک قسم کی حکومت پر پریشر بڑھانے کیلئے بلیک میل راستہ بھی ہے۔
اپنے مطالبات منوانے کیلئے روڈ بند کرتے ہیں۔
جس سے دیگر افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔
پھر وہ بھی حکومت پر پریشر ڈالتے ہیں کہ جلد از جلد حکومت ان کے مطالبات مانے تاکہ دھرنا ختم ہوں اور زندگی معمول پر آجائے۔
دھرنے کا دوسرا نقصان ملکی معیشت اور انتظام زندگی میں خلل ہے۔
ہزاروں دکان بند ہوجاتے ہیں۔ ہزاروں گاڑیاں پھنس جاتے ہیں۔
ہسپتال بند ہوجاتے ہیں۔
چونکہ ہزاروں گاڑیوں کا جمگھٹا ہوتا ہے لہذا سینکڑوں مریض ایمبولینس میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
یعنی پندرہ قتل کے مقابلے میں ممکن ہے سینکڑوں انسانوں کی جان خطرے میں ڈالے۔
ہزاروں مزدور کہ جو روزانہ کماکر گھر چلاتے ہیں۔ جب فیکٹریاں بند ہوں اور دیگر کارخانے بند ہوں تو اس کا نتیجہ ان کے بھوک و افلاس تک۔۔
بہرحال دھرنا جتنا وسیع و ملک گیر ہوگا اتنا اس کے مضرت میں اضافہ ہوگا۔
لیکن اس کا ایک فائدہ ضرور ہے کہ یہ دو طرح سے حکومتوں پر دباو ڈالتے ہیں۔
ایک مستقیم اہل دھرنا کی طرف سے
دوسرا غیر مستقیم اور بلیک میلنگ کے ذریعے متاثرہ عوام کے ذریعے۔
لہذا حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ دھرنا اگر موثر مقامات پر ہوں تو اسے تحلیل کروانے کیلئے ان کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم ہوجاتے ہیں۔
جس طرح ماضی میں پوری ایک حکومت مستقیم اور غیر مستقیم دباو نے گرایا ہے۔
لہذا دھرنا ایک بے تاثیر عمل نہیں ہے۔ لیکن شراب کی طرح ہے قران میں شراب کو یوں متعارف کرایا ہے کہ جس کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہے۔
دھرنے کا فائدہ کم لیکن نقصان زیادہ ہے۔
دوسری بات وہ چیز دھرنا ہی شمار نہیں ہوتا کہ جس میں حکومت پر پریشر ہی نہ آئے۔
حکومت ہر پریشر تب آتا ہے کہ جب اقتصادی راہداریاں بند ہوں۔
لیکن گلی کوچوں میں لگائے گئے دھرنے کا ایک چرنا فائدہ نہیں ہوتا۔
کچھ شیعہ دھرنے موجود ہے کہ جو 40 دن بھی طولانی ہوا ہے لیکن بے ثمر نکلا ہے۔ خود دھرنے دینے والے تھک کر ختم ہوگئے ہیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دھرنا نے پریشر قائم نہیں کیا تھا۔
دھرنا پریشر اس وقت قائم کرتا ہے جب لوگوں اور سرمایہ داروں کو نقصان پہنچائے۔
فیکٹریاں بند ہوں۔
اقتصادی راہداریاں بند ہوں۔
جس سے وہ حکومت پر پریشر ڈالتے ہیں پھر مجبور ہوکر کچھ مانتے ہیں۔
پس دھرنا جب تک نقصان نہ پہنچائے مقبول ہی نہیں ہوتا۔
جبکہ شہادتوں کیلئے الہی راستہ راہ مقاومت ہے۔ کہ جہاں تشیع کو عزت و وقار ملتی ہے۔
تشیع مستحکمتر ہوتا جائے گا۔
تشیع کا خون بے قیمت نہیں رہے گا۔ کوئی تشیع کی طرف دیکھنے سے پہلے سوبار سوچے گا کہ کیا کروں۔
اب اگر قوم مقاومت کی جگہ دھرنا ہی دینا چاہے تو دھرنا میں مطالبات ہی کرنے ہوتے ہیں تو وہ مطالبات مقاومت کے ہمسنگ ہونا ضروری ہے۔
جو نتیجہ مقاومت سے چاہتے ہیں وہی نتیجہ مطالبات سے نکالے۔ مثلا سب تشیع کا مطالبہ یہ ہو کہ جب تک کوئٹہ کے گرد موجود دہشتگردوں کا خاتمہ نہیں کرتے اور انہیں پکڑ کر پھانسی نہیں دی جاتی تب تک کل پاکستان کے عوام اور اقتصاد کا بائیکاٹ کریں گے۔
کسی کو بھی کام کرنے نہیں دیں گے۔
اور پھر دھرنے کو اس وقت جاری رکھو جب تک پھانسی نہیں لگ جاتی۔
دھرنے کو موثر بناو نہ کہ اپنے محلے کی گلی بند کرکے مطالبہ کرے۔
بلکہ کل اسلام آباد بند کرے۔ کل لاہور بند ہوں۔
کل کراچی بند ہوں۔
پاک چین اقتصادی راہداری بند ہوں تاکہ ایک بڑا پریشر بنے
پھر جب تک پھانسی نہ ہوں وہاں سے نہ ہٹے۔
جس دن پھانسی ہوں اور قاتلوں کا سر جدا ہوں پھر دھرنا ختم۔
لیکن اگر لگتا ہے کہ قاتلوں کو پھانسی نہیں ہوسکتی۔ پھر کس چیز کا مطالبہ کررہے ہیں؟
کیا الیکشن کی تیاری کیلئے دھرنے دے رہے ہیں؟
بعض مذہبی سیاسی پارٹیاں چونکہ ان کا دھرنے کے علاوہ کوئی اظہار وجود نہیں ہوتے۔
ان کا کچھ بھی کام نہیں ہے۔ کہیں پر بھی نمود نہیں ہے۔ لہذا یہ طبقہ اپنی بقا کیلئے کسی بہانے کے منتظر ہوتے ہیں تاکہ ان کی سیاسی عمل جاری ہوسکے۔ ان کی ہوری سیاست دھرنے پر موقوف ہے لہذا یہ طبقہ اپنی سیاست کیلئے اور لوگوں میں اظہار وجود کیلئے اس طرح کے حوادث کے منتظر ہوتے ہیں۔ کہ کوئی حادثہ پیش آجائے پھر ہم دھرنا دے اور نتیجتا عوام ہمیں دوبارہ ووٹ دے۔
ہمیں مسیحا سمجھے۔
لہذا وہ ان چیزوں کو فورا دھرنوں تک لے جاتے ہیں۔
اس قسم کی پارٹی کی تنہا سیاسی عمل دھرنا ہے۔ اسے دھرنا سیاست کہتے ہیں۔
اس کا وجود دھرنے سے شروع ہوا ہے اس کی مقبولیت بھی دھرنے سے ہوا ہے اور اسکی بقا بھی دھرنے میں ہے۔
لہذا ایسی شہادتیں ان کیلئے عید کی مانند بھی ہوتی ہے کیونکہ ان کی سیاسی عمل شروع ہوجاتا ہے۔ لوگ ان کو مسیحا سمجھنے لگتے ہیں۔
بہرحال تشیع کو چاہئے کہ اول تو مقاومت کا قرانی راستہ اپنائے۔
لیکن ابھی واقعیت یہ ہے کہ نہیں اپنایا ہے۔
دھرنا کی طرف ائے ہین تو کم از کم دھرنے میں صرف ایک ہدف ہو کہ قاتلین کو پھانسی ہوں اور کوئٹہ شیعہ کو دہستگردوں کے محاصرے سے نجات دے جو تنہا اپریشن کے ذریعے سے ممکن ہے۔
اگر اس ہدف کے علاوہ کوئی اور ہدف مدنظر رکھے تو جان لو کہ وہ صرف سیاست بازی ہے۔

تحریر : محمد روح اللہ صالحی

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=7224