دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























قوم نے تقریباً چالیس روزہ مقدس مزاحمت اور استقامت کے دوران تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، اور اب کامیابی کے ثمرات حاصل کرنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
حجت الاسلام مہدویان نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ سعادت و خوشبختی اور عاقبت بخیر ہونا فقط اہلبیت علیہم السلام کی پیروی سے ممکن ہے کہا کہ قرآن کریم اور اہلبیت (ع) در حقیقت انسانوں کی ہدایت کے دو راستے ہیں اس لئے ہمیں ایسی راہ پر چلنا ہوگا جس سے سیرت اہلبیت (ع) ہماری زندگیوں میں مجسم ہوسکے ۔
انہوں نے کہا کہ سدپارہ قوم کے عظیم، بہادر اور نڈر سپوت تھے جو کوہ پیمائی کی دنیا میں وطن عزیز کے نام کو روشن کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے دیدہ دلیری کے ساتھ کےمنزل کے متلاشی رہے۔اس طرح کی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔
انکا مزید کہنا تھا ایسے قومی ہیروز صدیوں بعد جنم لیتے ہیں انکی اھلبیتؑ سے خصوصا محافظ شریعت حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی مثال آپ تھی انہوں نے امام کے فرمان پہ عمل کیا وطن سے محبت کا عملی نمونہ پیش کیا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے5رجب المرجب کو دسویں امام حضرت علی نقی ؑ کے یوم ولادت کے موقع پر کہاہے کہ حضرت علی نقی الہادی ؑ نے انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں دین اسلام کی حفاظت اورترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ جہاں انفرادی اور ذاتی زندگی میں انسانوں کی رہنمائی فرمائی وہاں اجتماعی طرز زندگی اور نظام حکومت جیسے معاملات میں بھی لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔
وفاق والمدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ افضل حیدری نے قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کو محمد علی سدپارہ کی غیرمعمولی کارکردگی پر فخر ہے، انکی ملک کیلئے کامیابیوں کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائیگا۔
امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ امین شہیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ مرحوم محمدعلی سدپارہ بین الاقوامی شہرت یافتہ کوہ پیماہونےکےساتھ ساتھ ایک محبِ وطن انسان تھے۔امیدکرتاہوں کہ اپنےعلاقہ کی ترقی کاجوخواب انہوں نےدیکھاتھاوہ ان کی خدمات کےصلہ کےطورپرحکومت ضرورپوراکرےگی۔
پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی میں مصروف تھے اور اس مہم جوئی میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے ساجد سدپارہ سمیت غیر ملکی کوہ پیما بھی تھے۔
وفاق ٹائمز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر جلال الدین رحمت اتحادبین المسلمین کے بہت بڑے حامی تھے اور انڈینیشیا میں مذہبی ہم آہنگی کوبرقراررکھنے میں لازوال کرداراداکیا۔ اور مرحوم وسیع القلب ، باہمت اور ایک پروقار شخصیت کے مالک تھے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے انڈونیشیا میں شیعیت کی بنیاد رکھنے والے اور انجمن اہلبیت ؑ انڈینیشیا کے سربراہ ڈاکٹر جلال الدین رحمت کے انتقال پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ انڈونیشیا میں مکتب اہل بیت کے لیے بے پناہ خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر جلال الدین رحمت کی خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بہترین طر زعمل سے اسلام کے حقیقی اور روشن چہرے کو روشناس کرایا۔