دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر ، حجت الاسلام والمسلمین آغا باقر الحسینی امریکی صیہونی اور ایران جنگ بندی پر ردعمل، پاکستان کے کردار،
گزشتہ کئی سالوں میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں علماء، ڈاکٹر ز،پروفیسراور انجینئرز شہید کیے گئے ایسی صورتحال کے اندر سکیورٹی نہ دینا امن و امان کو خراب کرنے کی سازش ہو سکتی ہے
حضرت حمزہ علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہمارے پاس فلسطین اور اسلام کے دیگر مقامات پر حضرت حمزہ سلام اللہ علیہاجیسا لیڈر ہوتا تو ہم امت مسلمہ کی موجودہ ذلت کا کبھی مشاہدہ نہ کرتے۔
معروف معلمِ اخلاق و خطیب توانا مرحوم حجت الاسلام و المسلمین سید عبداللہ فاطمی نیا کی تشییعِ جنازہ کل بروز منگل صبح 9 بجے تہران یونیورسٹی سے ولیعصر (عج) چوک کی طرف ادا کی جائے گی۔
آپ نے تقریبا ۳۰ سال اس عظیم استاد کی ظاهری و باطنی تربیت کے سایہ میں گزارے۔ لہذا آپ کو ایک واسطہ کے ساتھ حضرت آیت اللہ قاضی کے شاگردوں شمار کیا جا سکتا ہے اس لیے کہ آپ کےتقریبا تمام اساتذہ حضرت آیت اللہ قاضی کے شاگردوں میں سے تھے۔
اسلام کے پاس نظا م خمس و ز کوٰة کی شکل میں بہترین معاشی نظام موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عوام کو شرعی تقاضوں کے مطابق اپنی مالی واجبات کو ادا کرنے پر آمادہ کریں
گزشتہ روز کراچی کے علاقے صدر میں ہونے والے دھماکے کی سخت مزمت کرتے ہیں، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کے خلاف فوری اور موثر کاروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے
محمد ابراہیم صابری نے مزید کہا کہ الجزیرہ ٹی وی کی صحافی کی شہادت سے فلسطینیوں کی آواز کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط اور مستحکم ہوگی۔
احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی نے کہا کہ مسلمان جب ائمہ معصومن یا اولیاء کی قبور پر حاضری دیتے ہیں تو عبادت، ھدایت اور درس کے لیے ہے نہ کہ انکی پرستش کے لیے۔ کیونکہ ان ہستیوں نے اپنی جان، مال، اولاد اور سب کچھ راہ خدا میں انفاق کیا تو ہم ان کے راستے پر چلنے کے لیے، ان سے ہدایت لینے کی غرض سے انکے پاس حاضری دیتے ہیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے جو فکر دی، آج اس پر عمل پیرا ہونیوالے سست روی کا شکار ہو چکے ہیں، ڈاکٹر محمد علی نقوی تنالیس برس کی عمر میں شہید ہو گئے، مگر ان کے منصوبوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے فرد واحد ہو کر اتنے بڑے بڑے منصوبے چلا رہے تھے۔