پاکستانی فیلڈ مارشل کی ایرانی حکام سے ملاقات، اگلے مذاکراتی دور کا فیصلہ کریں گے، ایران
























گلزار اعظمی نے کہا کہ یو پی پولس نے معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے اور مزید لوگوں کو پولس حراساں کررہی ہے جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے نیز لکھنؤ ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائے گی کیونکہ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہےکہ بالغ لڑکے لڑکی کو اپنی پسند کی شادی اور مذہب اختیار کرنے کا آئینی حق ہے اس کے باوجود لو جہادکے نام پر یوپی سرکار مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنا کر حراساں کررہی ہے۔