دشمن کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرنا، ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ: آقا سید باقر الحسینی
























دشتِ بلا میں حسینؑ ابن علیؑ نے بسم اللہ کو بچانے کیلئے، یعنی اللہ کے نام کی تختی اور کتبے کو باقی رکھنے کیلئے اپنی ذات، اپنے نام، اپنی آل و اولاد، اپنے عزیز و اقارب، اپنا مال و متاع اور عزت و شرف سب کچھ اپنے ہاتھوں سے مٹا دیا اور قربان کر دیا۔
واقعۂ عاشورا کے بعد ہماری پوری تاریخ میں، شاید ہی کوئی ایسی تحریک، قیام یا خونین واقعہ تلاش کیا جا سکے جو انسانی اہداف و مقاصد اور آرمانوں کی تکمیل کے لیے برپا ہوا ہو اور اُس نے واقعۂ عاشورا کو اپنے لیے آئیڈیل اور نمونۂ عمل قرار نہ دیا ہو۔