صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
























الازھر قرآنی مرکز کے ڈائریکٹر کمال بربری حسن اور وزارت اوقاف مصر کے سویز میں نمایندے کا اس بارے میں کہنا تھا: تقریب حوصلہ افزائی جشن میلاد النبی کے حوالے سے منعقد کی گیی جس میں ستر بچے اور بچیوں کی حوصلہ افزائی کی گیی۔
حملے میں شہید ہونے والی ایک بچی کی والدہ نے الجزیرہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بچی حال ہی میں مارشل آرٹس اور انگلش کی کلاسز میں شرکت کرنا شروع ہوئی تھی۔ ایک اور شہید ہونے والی بچی کی کاپی میں لکھا ہوا تھا کہ وہ ناول نگار بننے کا شوق رکھتی ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والی 17 سالہ بچی مریم فاروز کہتی ہے: "میں ریاضی کا ایک سوال حل کر رہی تھی کہ اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ ہم سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اتنے میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ ہم نے قلم اور کاپیاں چھوڑ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ ہم سب اپنی جان بچانے کی کوشش میں تھے کہ اتنے میں خودکش دھماکہ ہو گیا۔"
انہوں نے کہا کہ رہبر کبیر بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ہفتہ وحدت کا اعلان کر کے اسلام دشمن استکباری قوتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ جو "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی منحوس منصوبے کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے کیونکہ شیعہ اور سنی اسلام کے دو بازو ہیں جن کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے والا نا تو شیعہ ہے اور نا ہی سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیتا ہے، نبی (ص) سے عشق کا تقاضا ہے کہ نبی (ص) کے احکامات پر دل وجاں سے عمل کیا جائے، نبی (ص) کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے، اخوت و رواداری کا دامن اگر مضبوطی سے تھام لیا جائے تو عالم اسلام کے سر سے زوال کے بادل چھٹ سکتے ہیں۔
اس موقع کراچی ڈویژن کے صدر علامہ شیخ صادق جعفری، مولانا حیات عباس نجفی، مولانا نشان حیدر ساجدی، میر تقی ظفر سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح سرزمین پاکستان میں بھی شیعہ سنی متحد ہیں، کوئی فرقہ واریت نہیں چند مٹھی بھرتکفیری سوچ کے حامل افراد ملک کے امن کو غارت کرنا چاہتے ہیں جنہیں ہم اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیں گے۔
اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے بہترین دوستانہ و برادرانہ تعلقات کی بنا پر پاکستانی زائرین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کانفرنس تہران میں ہوگی جبکہ دنیا بھر سے مختلف افراد اور ماہرین ورچوئل طور پر بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔
ایک نفع بخش علم، حکمت اور عقلیت کے سائے میں حاصل ہوتا ہے اور فکر و تدبر کے زیر سایہ ہی ملتا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے:بِالعقلِ یستخرِجُ غور الحِکمه =عقل سے ہی حکمت کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔
افغانستان سمیت جن خطوں میں امن امان کا مسئلہ ہے وہاں فوری طور پر امن کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں