23

مقبوضہ فلسطین کی عوام پر تشدد کاروئیوں، اقتصادی پابندیوں اور ہجرت پر مجبور ہیں، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی

  • News cod : 12601
  • 06 مارس 2021 - 14:44
مقبوضہ فلسطین کی عوام پر تشدد کاروئیوں، اقتصادی پابندیوں اور ہجرت پر مجبور ہیں، آیت اللہ العظمیٰ سیستانی
آج صبح حبر اعظم "پوپ فرانسیس" کیتھولیک کنیسہ کے پاپ اور ویٹیکن کے رئیس نے نجف الاشرف میں مرجع عالی قدر السید علی الحسینی السیستانی  سے ملاقات کی. اس موقع پر آیت اللہ سیستانی نےمشرق وسطی میں جنگ ، پر تشدد کاروئیوں، اقتصادی پابندیوں اور ھجرت پر مجبور ہونا وغیرہ جیسے مشکلات کا ذکر کیا گیا ۔مرجع عالی قدر نے اس سلسلے میں مقبوضہ فلسطین کے مظلوم لوگوں ذکر کیا ۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، آج صبح پوپ فرانسس عیسائی کیتھولیک مذہب اور ویٹیکن کے روحانی پیشوا نے نجف اشرف میں مرجع جہان تشیع حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی دامت برکاتہ سے ملاقات کی ۔
ملاقات میں دور حاضر کے عالم انسانیت کو درپیش بڑے مسائل اور ان مسائل اور بحرانوں پر قابو پانے کے لئے اللہ تعالی اور اس طرف سے آنے والے رسولوں پر ایمان اور عظیم اخلاقی اقدار پر عمل کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی۔

ملاقات کے دوران آیت اللہ سیستانی نے دنیا کے مختلف ممالک میں بہت سارے لوگوں پر ہونے والے ظلم و جبر ، فقر و تنگدستی اور دینی و فکری تشدد، بنیادی آزادیوں سے محرومی اور اجتماعی عدالت کی فقدان پر بات کی ۔
اسی طرح مشرق وسطی میں جنگ ، پر تشدد کاروائیوں ، اقتصادی پابندیوں اور ہجرت پر مجبور ہونا وغیرہ جیسے مشکلات کا ذکر کیا گیا ۔مرجع جہان تشیع نے اس سلسلے میں مقبوضہ فلسطین کے مظلوم لوگوں کا بھی ذکر کیا ۔

آیت اللہ سیستانی نے ان مشکلات و چیلجنز سے نبردآزما ہونے کے لئے دینی رہبروں اور روحانی پیشواؤں کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان شخصیات سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ان مشکلات کو حل کرنے کے لئے متعلقہ اشخاص اور اداروں پر زور دیں، خصوصاً بڑی طاقتوں پر زور دیں کہ وہ عقل ومنطق اور حکمت کو جنگ وجدال مقدم رکھیں ۔
اسی طرح وہ اپنے ذاتی مفادات کو دیگر اقوام کی باعزت اور آزادانہ زندگی کے حق کی قیمت پر مقدم کرتے ہوئے انہیں وسعت نہ دیں ۔
مرجع جہان تشیع نے پرامن بقائے باہمی اور انسانی ہمدردی کی اقدار کو معاشروں میں رائج کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب کچھ تب ہوگا جب مختلف ادیان مذاہب کے پیروکاراور مکاتب فکر کے ماننے والے آپس میں احترام کا رشتہ برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے۔

ملاقات میں آیت اللہ سیستانی نے عراق کی حیثیت اور اس کی عظیم تاریخ کے بارے میں بھی بات کی اور عراقی عوام کی مختلف ادیان و مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقوام کی خصوصیات کی جانب بھی اشارہ فرمایا۔
مرجع جہان تشیع نے اس امید کا اظہار بھی فرمایا کہ ان شاء اللہ عراق موجودہ مشکل حالات سے بہت جلد نکلے گا ۔ آپ نے اس بات کی تاکید کی کہ عراق کے مسیحی بھی دیگر تمام عراقیوں کی طرح امن وسلامتی اور تمام آئین و حقوق اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کو مرجعیت بہت اہمیت دیتی ہے ۔اس سلسلے میں گزشتہ سالوں میں ان ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کو داعش کے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے مرجعیت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ۔
خصوصاً جب عراق کے مخلتف صوبوں میں بہت بڑے حصے پر دہشت گردوں نے قبضہ کیا اور وہاں پرایسے ایسے مجرمانہ جرائم کا ارتکاب کیا کہ جن سے جبین انسانیت شرم سے جھک جاتی ہے ۔

مرجع عالی قدر آیت اللہ سیستانی نے عالمی عیسائی پیشوا اور کیتھولک فرقے کے ماننے والوں اور تمام عالم بشریت کو خیر سعادت کی تمنا کا اظہار کیا اور مرجعیت سے ملاقات کے لئے سفر کی تھکاوٹ برداشت کرتے ہوئے نجف تشریف لانے پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ۔

21/ رجب/ 1442هـ

دفتر آیت سیستانیـ نجف اشرف

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=12601

آپکی رائے

  1. #عورت_آزادی_مارچ
    میرے خیال میں شاید کوئی بھی پڑھا لکھا انسان جس میں احساس ہو یا انسانی حقوق کو سمجھتا ہو ایسا انسان کبھی بھی کسی حقوق کے خلاف نہیں ہو سکتا چاہے عورتوں کے حقوق ہوں یا مردوں کے حقوق ۔
    لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے ہم کسی بھی کام یا بات کو درست طریقے سے Present نہیں کرتے ہیں ۔اس وجہ سے جو اصل مقصد ہوتا ہے وہ غلط طریقے سے present کرکے معاشرے میں غلط تاثر پڑتا ہے ۔ مثلا“ 8 مارچ عورتوں کے آزادی اور حقوق کے حوالے سے منایا جاتاہے ۔ اس دن ذیادہ تر وہ انٹیاں حصہ لے رہے ہیں جن کو خود پتہ نہیں کہ عورت ہوتی کیا ہے، عورتوں کے اصل حقوق کیا ہے ۔ وہ تو صرف عورت کے نام پر پیسے کما رہے ہیں ۔
    اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ اسمارٹ نوجوان مرد جو اصل عورتوں کے حقوق کی بجائے عورت کی آزادی کے دعویدار عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں۔
    پس میرا کہنے کا مطلب یہی ہے کہ ہم ہر بات کو یعنی عورتوں کے حقوق کو اصل طریقے سے اور حقوق سمجھنے والے خواتین کے ذریعے present کرے تاکہ معاشرے میں صیحح تاثر پیدا ہو ۔
    اسلام نے عورتوں کو جتنا احترام دیا ہے کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا، عورت ماں ہے تو جنت اس کی قدموں میں ڈال دی ، بہن ہے تو بھائیوں کیلئے احترام کے قابل بنا دیا ، بیٹی ہے تو سیدہ النساء العالمین کی طرح رحمت قرار دیا ۔
    اسلیے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں!
    شکریہ،
    تحریر: بلال حسین طوری