1

اگر حاملہ اور بچے کو دودھ پلانی والی خواتین روزہ نہیں رکھ سکتیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

  • News cod : 16418
  • 29 آوریل 2021 - 17:00
اگر حاملہ اور بچے کو دودھ پلانی والی خواتین روزہ نہیں رکھ سکتیں تو ان کا کیا حکم ہے؟
فقہی احکام کے ماہر حجۃ الاسلام و المسلمین جناب وحید پور نے روزے کے کچھ احکام کی جانب ان الفاظ میں اشارہ کیا کہ جو خواتین حاملہ ہونے یا بچوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں، انہیں چاہئے کہ ماہ رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کریں، اگرچہ رمضان کے فورا بعد ہی کیوں نہ ہو۔ واضح رہے کہ ان خواتین کو روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ روزے کی تلافی کا کفارہ (ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام جو 750 گرام ہوتا ہے) بھی دینا ہوگا ۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، فقہی احکام کے ماہر حجۃ الاسلام و المسلمین جناب وحید پور نے روزے کے کچھ احکام کی جانب ان الفاظ میں اشارہ کیا کہ جو خواتین حاملہ ہونے یا بچوں کو دودھ پلانے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں، انہیں چاہئے کہ ماہ رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کریں، اگرچہ رمضان کے فورا بعد ہی کیوں نہ ہو۔ واضح رہے کہ ان خواتین کو روزے کی قضا کے ساتھ ساتھ روزے کی تلافی کا کفارہ (ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام جو 750 گرام ہوتا ہے) بھی دینا ہوگا ۔

جو عورت ماہ رمضان میں حاملہ ہونے کی وجہ سے روزہ نہ رکھے، پھر ماہ رمضان کے بعد بچے کو جنم دینے اور اسے دودھ پلانے کی وجہ سے آئندہ رمضان تک ان روزوں کی قضا بھی بجا نہ لا سکے تو وہ “مریض سال” کے حکم میں نہیں آئے گی؛کیونکہ “مریض سال” پر کوئی قضا واجب نہیں، جبکہ اس عورت پر قضا بھی واجب ہے اور کفارہ (ایک مد طعام) بھی ۔

بوڑھے مرد اور خواتین

بوڑھے مرد اور خواتین کی دو صورتیں ہیں: ۱) کچھ ایسے ہیں کہ روزے نہیں رکھ سکتے یعنی ان کے لیے روزے رکھنا مشکل ہیں۔ اس صورت میں وہ روزے نہ رکھیں تو ان پر روزوں کی قضا نہیں ہے لیکن وہ کم قیمت کفارہ (فدیہ) ادا کریں گے۔

۲) دوسری صورت یہ ہے کہ یہ بوڑھے مرد اور خواتین اصلا روزہ نہیں رکھ سکتے تو اس صورت میں نہ ان پر قضا ہے اور نہ کفارہ۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ سحر کے وقت اذان صبح سے پہلے کھانا پینا بند کر دینا چاہئے یعنی اذان سے ایک یا دو منٹ پہلے کھانا پینا بند کر دینا چاہئے اور کلی کر لینی چاہئے تاکہ اطمینان ہو جائے کہ اذان صبح کے وقت کوئی ایسا کام نہیں کیا جو روزے کو باطل کر دیتا ہے۔

اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ جب صبح کی اذان ہو جائے تو بلافاصلہ نماز فجر نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ فجر صادق کی تشخیص ذرا مشکل کام ہے اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر مراجع تقلید کہتے ہیں کہ اول اذان صبح سے ۱۰منٹ احتیاط کریں اور اس کے بعد نماز صبح پڑھیں۔ افطار کے وقت بھی انسان کو یقین ہونا چاہیے کہ اذان مغرب ہوگئی ہے۔ جو شخص ۱۵ یا ۱۶ گھنٹہ روزہ رکھنے کی زحمت برداشت کر رہا ہے اسے دو یا تین منٹ کے لیے اپنا روزہ خراب نہیں کرنا چاہئے یعنی روزہ افطار کرتے وقت انسان کو یقین ہونا چاہیے کہ اذان مغرب ہوگی ہے کیونکہ غروب اور مغرب کے درمیان فرق ہے۔

غروب کا مطلب

غروب کا مطلب یہ ہے کہ سورج ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے لیکن سورج غروب ہونے کے تقریبا 12، 13 منٹ بعد مغرب ہوتی ہے یعنی جب اندھیرا چھا جائے تو اذان مغرب کا وقت ہوتا ہے اور یقین کر لینا چاہیے کہ مغرب ہوگئی ہے۔ پھر اس کے بعد روزہ افطار کیا جائے۔

ریڈیو اور ٹی وی پر نشر ہونے والی اذان دقیق ہوتی ہے (البتہ ایران میں)۔پس جب اذان شروع ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب ہوگئی ہے لہذا اول اذان میں بھی روزہ افطار کر سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ تھوڑا صبر کیا جائے اور اذان کے بعد روزہ افطار کیا جائے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=16418