2

قربانی کے احکام، دعا اور فلسفہ

  • News cod : 19768
  • 20 جولای 2021 - 15:06
قربانی کے احکام، دعا اور فلسفہ
قربانی خدا کی نشانیوں اور شعائر الہی میں سے ہے اور صاحب قربانی کیلئے خیر و برکت کا سبب ہے۔

فلسفہ قربانی
قربانی حج کے اعمال میں سے ایک واجب عمل ہے جس کی حقیقت اور اس کا فلسفہ مکمل طور  پر مشخص نہیں ہے لیکن احادیث  میں اس بارے جو چیز آئی ہے اس کے مطابق اس کے فلسفے کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے:
نیازمندوں کی مدد:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں: “خداوند عالم نے قربانی کو واجب قرار دیا تاکہ مساکین اس کے گوشت سے استفادہ کر سکیں”اسی بنا پر تاکید کی گئی ہے کہ قربانی کا حیوان موٹا  تازہ ہو اور اس کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کیلئے ،دوسرا حصہ فقراء اور نیاز مندوں کیلئے اور تیسرا حصہ صدقہ دیا جائے۔قرآن کریم میں بھی اس حوالے سے ارشاد ہے: فَکُلُواْ مِنْهَا وَ أَطْعِمُواْ الْقَانِع َ وَ الْمُعْتَرَّ  (ترجمہ: اس میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے سب غریبوں کو کھلاؤ)۔
گناہوں کی بخشش کا وسیلہ:ابوبصیر نےامام صادق علیہ السلام سے قربانی کی علت اور حکمت کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے فرمایا: “جب قربانی کے حیوان کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتاہے تو خدا قربانی کرنے والے کی تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور قربانی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ کون پرہیزگار اور متقی ہے۔” قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے: لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ (ترجمہ: خدا تک ان جانوروں کا گوشت جانے والا ہے اور نہ خون … اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقویٰ جاتا ہے اور اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارا تابع بنادیا ہے کہ خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو)
موجب خیر و برکت: قربانی خدا کی نشانیوں اور شعائر الہی میں سے ہے اور صاحب قربانی کیلئے خیر و برکت کا سبب ہے۔: وَ الْبُدْن َ جَعَلْنَـَهَا لَکُم مِّن شَعَائرِ اللَّه ِ لَکُم ْ فِیهَا خَیْرٌ  (ترجمہ: اور ہم نے قربانی کے اونٹ کو بھی اپنی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے اس میں تمہارے لئے خیر ہے)۔
تقرب خدا کا وسیلہ: قربانی خدا کے تقرب کا وسیلہ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ قربانی میں کیا کیا فوائد ہیں تو ہر سال قربانی کرتے اگرچہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑتا ۔

ذبح اور قربانی کے احکام(رھبر معظم حضرت آیت اﷲ العظمیٰ سید علی خامنہ ای  کے فتوی کے مطابق )
سوال ۱۰۸: اگر کسی نے قربانی کے لئے اپنا نائب بنایا ہے،  کیا وہ اپنے نائب کے قربانی سے واپس لوٹنے سے پہلے سو سکتا ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں
سوال ۱۰۹: موجودہ دور میں منیٰ میں قربانی کرنا ممکن نہیں ہے،  بلکہ اس کام کے لئے منیٰ کے نزدیک ایک دوسری جگہ کا تعین کیا گیا ہے،  دوسری طرف کہتے ہیں کہ قربانی کا گوشت جس کے لئے کافی پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اسے پھینک دیا جاتا ہے اور ضایع ہو جاتا ہے،  حالانکہ بہت سارے غریب ممالک کے عوام کو اسکی کافی ضرورت ہے۔ کیا حاجی اپنے ملک میں قربانی کر سکتا ہے اور عید قربان کے دن ٹیلیفون کے ذریعے کسی شخص کو اپنے ملک یا کسی بھی دوسری جگہ قربانی کرنے پر مامور کرے تاکہ وہ گوشت ضرورت مندوں کو دیا جاسکے؟ یا ذبح صرف اور صرف اسی قربانی کی جگہ انجام دیا جائے؟اور کیا اس مسئلے سے متعلق ان مراجع عظام کے فتوے پر عمل کیا جا سکتا ہے کہ جو اس عمل کو جائز سمجھتے ہیں،  جیسا کہ بعض علماء سے نقل ہوا ہے۔
جواب: یہ کام جائز نہیں ہے اور قربانی کو منیٰ میں ذبح کرنا ضروری ہے اور اگر منیٰ میں ذبح کرنے کا امکان نہ ہو تو اس جگہ ذبح کرے جو جگہ آج کل ذبح کرنے کے لئے بنائی گئی ہے تاکہ قربانی کرنے کا  جو کہ شعائر اللہ میں سے ہے اسکی رعایت کی جا سکے۔
سوال ۱۱۰: آج کل حج کے متولین نے منیٰ میں قربانی کرنے پر پابندی لگا دی ہے،  کیا حجاج حرم سے باہر جا کر قربانی کر سکتے ہیں؟ اور کیا مکہ مکرمہ میں قربانی کرنا کافی ہے؟
جواب: منیٰ سے باہر قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر منیٰ میں قربانی کرنے پر پابندی ہو تو اسے منیٰ کے نزدیک اس کام کے لئے جو جگہ مختص کی گی ہے وہاں پر انجام دیا جانا کافی ہے۔
سوال ۱۱۱: سعودی عرب میں ایسے فلاحی ادارے موجود ہیں کہ جو حاجی کی نیابت میں قربانی کو ذبح کر کے اسکا گوشت فقرا اور مساکین میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ولی امر مسلمین کی کیا نظر ہے اور آپ کے نزدیک اس کام کی کیا شرائط ہیں؟
جواب: قربانی کے لئے جو شرائط حج کے مناسک میں ذکر کی گئی ہیں  اسی طرح سے احراز ہونا  ضروری ہے۔
سوال ۱۱۲: آیا قربانی کو ذبح کرنے کے بعد فلاحی اداروں کے حوالے کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کا گوشت ضرورتمندوں میں تقسیم کر سکیں۔؟
جواب: کوئی حرج نہیں
سوال ۱۱۳: بعض افراد نے اپنی قربانی کو مکہ میں منیٰ کے نزدیک ذبح کیا ہے اور اب تذبذب کا شکار ہیں کہ کیا مکہ میں قربانی کرنا صحیح اور جائز تھا یا نہیں۔ یا ذی الحجہ کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے پہلے دوبارہ منیٰ یا معیصم جا کر قربانی انجام دیں؟
جواب: منیٰ میں  قربانی کرنا ممکن نہ ہو تو واجب ہے کہ احتیاط کے طور پر  ہر اس  مقام پر  ذبح کرے جو منیٰ سے نزدیکتر ہو؛ بنا بر ایں اگر کسی ایسے مقام پر قربانی کی ہے کہ جس کا فاصلہ معیصم کے منیٰ سے فاصلے کے برابر ہے یا اس سے کم ہے تو اسکی قربانی صحیح اور کافی ہے۔
سوال ۱۱۴: جب مکہ میں قربانی کرنا  کافی  نہ ہو تو،  اعمال مکہ یعنی حج کا طواف اسکی نماز،  سعی،  طواف نساء اور اسکی نماز کو جو انجام دیا ہےصحیح ہے یاان اعمال کو بھی دوبارہ انجام دینا ضروری ہے؟
جواب: علی الظاہر اگر قربانی مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی ہے تو اسکے اعمال صحیح ہیں گرچہ اس میں احتیاط کرنا بہتر ہے۔

مستحب  قربانی کے احکام (آیة اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی  کے قتوی کے مطابق )
سوال: مستحب قربانی کے بارے میں کیا احکام و مستحبات ہیں؟
جواب: ۱- جو افراد قربانی کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ان کے لیے اس مستحب کو انجام دینے کی تاکید ہے۔
۲- اگر کسی کے پاس قربانی کرنے کے پیسے ہوں لیکن جانور مہیا نہ کر سکتا ہو تو اس کی قیمت صدقہ میں دینا مستحب ہے-
۳- انسان اپنے اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے ایک جانور قربانی کر سکتا ہے-
۴- دو یا اس سے زیادہ افراد کا شریک ہو کر قربانی کرنا صحیح ہے، بالخصوص اگر جانور کم ہو اور اس کی قیمت زیادہ ہو-
۵- قربانی کا بہترین وقت عید قربان کے دن سورج نکلنے اور نماز عید کی مقدار وقت  گذرنے کے بعد ہوتا ہے-
۶- وہ افراد جو منی میں ہیں ان کے لے چار دن تک قربانی کرنا مستحب ہے، اور جو منی میں نہیں ہیں ان کے لیے تین دن تک مستحب ہے، گر چہ احتیاط مستحب ہے کہ عید قربان کے دن ہی قربانی کریں-
۷- قربانی کا جانور اونٹ، گاے یا بھیڑ ( بکرا) ہونا چاہیےاور احتیاط واجب کی بنا پر پانچ سال سے کم کا اونٹ، دو سال سے کم کی گاے اور بکرا، اور سات مہینے سے کم کی بھیڑ کافی نہیں ہے-
۸- مستحب قربانی میں وہ شرائط و صفات واجب نہیں ہیں جو واجب قربانی میں شرط ہیں ۔پس کانا، لنگڑا کان کٹا یا سینگ ٹوٹا،خصی،یا لاغر جانور کی قربانی دینا جایز ہے۔ اگرچہ احوط(احتیاط سے قریب تر) اور افضل یہ ہے کہ اسکے اجزاء سلامت ہوں اور موٹا ہو، اور مکروہ ہے اپنے پالتو جانور ہی کی قربانی کی جائے۔
۹- بیمار، کمزور اور عیب دار جانور کی قربانی میں کوئی حرج نہیں ہے-
۱۰- قربانی کے گوشت کا ایک حصہ خود کے لیے رکھے، اور ایک حصہ مسلمان کو دے اور احتیاط مستحب ہے تیسرا حصہ غریب مسلمانوں کو صدقہ دے-
۱۱- قربانی کی کھال صدقہ کے طور پر دینا مستحب ہے، قصاب کو اجرت کے طور پر دینا مکروہ ہے-
۱۲- قربانی کرنے والے شخص کا عقیقہ ساقط ہو جاتا ہے۔
۱۳- میت کے لیے رجاء کی نیت سے قربانی کر سکتے ہیں
۱۴- ایک جانور دو یا چند لوگوں کے لیے قربانی کر سکتے ہیں۔

دعائے قربانی
قربانی کو ذبح کرتے وقت بہتر ہے اس دعا کو پڑھی جائے: بِسمِ الله الرّحمن الرّحیم، یا قَومِ اِنّی بَریءٌ مِمّا تُشرِکون اِنّی وَجَّهتُ وَجهی لَلَّذی فَطَرَالسَّمواتِ وَالاَرضَ حَنیفاً مُسلِماً وَما اَنَا مِنَ المُشرِکینَ اِنَّ صَلاتی وَ نُسُکی وَ مَحیایَ وَ مَماتی لِلّه رَبِّ العالَمینَ لا شَریکَ لَهُ وَ بِذالِکَ اُمِرتُ وَ اَنا مِنَ المُسلِمینَ اَللّهمَّ مِنکَ وَلَکَ بِسمِ الله وَ بِاللهِ وَ اللهُ اَکبَرُ اللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
اس دعا کے بعد ذبح کرے اگر ذبح کرنے والا خود اپنی طرف سے قربانی کر رہا ہے تو یہ کہے: اَللّهُمَّ تَقَبَّل مِنّی
لیکن اگر کسی اور کی طرف سے قربانی کر رہا ہے تو کہے: اَللّهُمَّ تَقَبَّل مِن فُلانِ بنِ فُلان فلان بن فلان کی جگہ اس شخص کا نام لیا جائے جس کی طرف سے قربانی کی جا رہی ہے۔
البتہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی اور ذبح کر رہا ہے اور ممکن ہو تو صاحب قربانی ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اور مذکورہ دعا کو خود پڑھے۔

 

 

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=19768