6

یکساں نصاب کے نام پر مخصوص مسلکی سوچ کو قوم پر مسلط نہیں ہونے دیں گے، علامہ سبطین سبزواری

  • News cod : 28635
  • 30 ژانویه 2022 - 15:18
یکساں نصاب کے نام پر مخصوص مسلکی سوچ کو قوم پر مسلط نہیں ہونے دیں گے، علامہ سبطین سبزواری
 شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے یکساں نصاب کے نام پر متنازع مواد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نصاب مسلکی کہا جاسکتا ہے ،تمام مکاتب فکر کا متفقہ نہیں ہے۔تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاج کریں گے۔

وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماءکونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے یکساں نصاب کے نام پر متنازع مواد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نصاب مسلکی کہا جاسکتا ہے ،تمام مکاتب فکر کا متفقہ نہیں ہے۔تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاج کریں گے۔اس حوالے سے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی پالیسی کا اعلان کریں گے۔انہوںنے واضح کیا کہ یکساں نصاب کے نام پر مخصوص مسلکی سوچ کو قوم پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ مجوزہ نصاب آئین اور وحدت امت اسلامی کے خلاف ہے ۔ ریاست مدینہ کے دعویدار متنازع نصاب تعلیم کے نام پر قوم کو انتشار کا شکار کر رہے ہیں۔

میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک سازش کے تحت جنرل ضیاءالحق کے آمرانہ دور سے فرقہ وارانہ تفریق پیدا کی جارہی ہے ،تاکہ مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کو دیوار سے لگایا جائے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دشمن کوہمیشہ اپنے منہ کی کھانی پڑی۔ انہوں نے واضح کیا کہ’ متنازع بنیاد اسلام بل‘ کے مسلط کرنے میں ناکامی کے بعد درود ابراہیمی میں تبدیلی اور اب متنازع نصاب تعلیم سے ثابت ہوگیا کہ موجودہ حکومت ضیاءالحق کی فرقہ وارانہ پالیسی سے بھی آگے نکل گئی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ نصاب تعلیم میں سے اہل بیت اطہار کا تذکرہ نکال دیا گیا ہے۔ کربلا کا ذکرتک نہیں ہے، اور واضح کیا کہ کسی ایسے نصاب تعلیم کو تسلیم نہیں کرتے جو ذکر اہل بیت سے خالی ہو ۔ اہل بیت کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہو سکتا تو نصاب کیسے مکمل ہوگا ؟انہوں نے کہا کہ وفاق المدارس الشیعہ کی طرف سے واضح طور پر تحفظات سے آگاہ کردیاگیا تھا، نصاب کمیٹیوںمیں شیعہ ممبران نے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یکساں نصاب تعلیم کو متفقہ بنانے کی تجاویز دیں لیکن یقین دہانی کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ متنازع نصاب کو واپس لیا جائے۔ مکتب اہل بیت کے تحفظات کو دور کیا جائے ،ورنہ اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ امید کرتے ہیں کہ حکومت مکتب اہل بیت کے نقطہ نظر کو نصاب میں شامل کرے گی ،ورنہ قومی قیادت کے فیصلے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی.

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=28635