وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ممتاز عالم دین علامہ غلام عباس رئیسی نے شبِ اول محرم الحرام کی مناسبت سے مجمع سیدالشہداء العالمیہ قم میں منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ محرم کی آمد پر مؤمنین کے دل ماتم سرا بن گئے ہیں۔ ماہ محرم میں قتل حسین علیہ السلام کے لئے جو آگ مؤمنین کے قلوب میں لگی ہوئی ہے، اس میں بھڑکاوا آجاتا ہے۔ محرم ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ محرم ہمیں غم کے ساتھ عظمت روح و عظمت انسانیت کا احساس بھی دلاتا ہے۔ یعنی محرم معنوی بہار کا مہینہ بھی ہے۔ ہمیں کربلا والوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا چاہیئے یعنی مہدی فاطمہ کے لئے دنیا کو تیار کرنے کے لئے میدان میں نکلنا چاہیئے۔ کربلا میں اسلام نے اپنے رخ انور سے نقاب اٹھایا اور انسانیت کو اپنی زیارت کرائی۔ امام خمینی نے اپنے دین، مذہب اور قوم میں موجود صلاحیت کو درک کیا اور اس سے بہترین فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کو اکسٹھ ہجری اور عراق کے ایک زمینی ٹکڑے کی محدودیت سے باہر نکالا، ہم نے کربلا کے عاطفی پہلو کو محسوس کیا ہے اور اسی کو دنیا میں پھیلایا ہے. آج ساری دنیا میں کربلا اور امام حسین علیہ السلام کا ذکر پھیل گیا ہے؛ لیکن مظلومیت، مصیبت، غم اور آنسو کا پہلو کربلا کے مقصد اور ہدف کا پہلو یکسر نظر انداز ہو رہا ہے۔ ہدف اور مقصد کے لحاظ سے کربلا سے استفادہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ عراق کے اندر ہزار سال گزرے ہیں لیکن اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی ہے۔ لوگ حکومت کا نام سن کر ہی ناراض ہوجاتے ہیں اس لئے کہ دنیا کے سارے شیطان حکومت کے پیچھے ہیں. تاریخ میں بھی حکمران اچھے نہیں گزرے ہیں، یہ ظالم اور کمینہ لوگ ہوتے تھے۔ اس پس منظر میں جب علماء کہتے ہیں کہ اسلام حکومت چاہتا ہے تو لوگوں کا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔ لیکن حکومت کے بغیر اسلامی اہداف و مقاصد حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ حدود الہی کا اجرا حکومت الہی پر موقوف ہے۔ عدالت اور امر بالمعروف معاشرے میں نافذ نہیں ہوسکتے جب تک حکومت اسلامی قائم نہ ہو۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا اگر ظالموں سے مظلوموں کے حقوق نہ لینا ہوتا تو مجھے حکومت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
حوزہ علمیہ امام خمینیؒ کراچی کے پرنسپل نے مزید کہا کہ حضرت رسول خدا(ص) جب جنگوں میں شرکت کرتے تھے اور حضرت امام علی علیہ السلام اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمنوں سے جنگ لڑتے تھے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلامی حکومت کے لئے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے۔ قرآن نے کافروں کے مسلمانوں پر تسلط کو حرام قرار دیا ہے۔ حرام قرار دیا ہے کہ کفار مسلمانوں پر حکومت کریں۔ اس کا مطلب کیا ہے؛ کیا مسلمانوں کے پاس حکومت نہ ہو؟ مسلمانوں کے ہاتھ میں سیاسی غلبہ نہ ہو؟ آج خانہ کعبہ اور مدینہ منوره پر امریکہ کی حکومت ہے۔ جب آپ کافر سے مغلوب ہوتے ہیں تو کافر آپ کی ساری صلاحیتوں کا مالک ہوجاتے ہیں۔ آج سعودی عرب کے مال و دولت، علم و عمل، زبان و قلم حتی نماز اور عقیدہ توحید بھی امریکہ کے مفاد میں ہیں۔
آپ غور کریں سعودی عرب کا عقیدہ توحید امریکی مفاد میں ہے۔ حکومت بہت اہم چیز ہے۔ مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل کے درپے تھے لیکن جب ان کے ہاتھ میں کوئی منظم حکومت نہیں تھی؛ اس لئے وہ آپ کو شہید نہیں کرسکے جبکہ کربلا میں یزید کے پاس حکومت تھی تو امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا۔ حکومت بذاتہ مقصود اسلام نہیں ہے البتہ اسلام کے اہداف و مقاصد حکومت اسلامی پر موقوف ہیں۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کو اپنی شہادت نظر آ رہی تھی اور آپ شہید ہونے کے لئے جا رہے تھے تا کہ امت اسلامیہ کو ظلم سے مقابلے اور حکومت اسلامی کے قیام کی طرف متوجہ کرسکیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے امت اسلامیہ کو خواب غفلت سے جگایا اور انہیں حکومت اسلامی کی طرف دعوت دی۔ مگر ہم نے لبیک نہیں کہا اور کربلا کے بعد بھی آج تک ہر جگہ ظالموں کی حکومت برقرار ہے۔ بعض لوگ لوگوں انقلاب اسلامی کو انقلاب ایرانی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن خبردار یہ انقلاب کربلا کا اثر ہے۔ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ امت مسلمہ پر حجت ہیں۔ انہوں نے آج کے دَور میں لوگوں کو حکومت اسلامی کا رستہ دکھایا ہے اور حدود الہی کے نفاذ کی طرف دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر عوام اچھے جذبات رکھتے ہیں، شاید جذبات کے لحاظ سے پاکستانی قوم ساری دنیا کی قوموں میں نمایاں ہو، لیکن بصیرت کا فقدان ہے۔ بصیرت کے بغیر جذبات چوری ہوجاتے ہیں۔ بے بصیرت قوم کے جذبات سے دوسرے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان میں شیعوں کے درمیان اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اہل سنت سے اتحاد اچھا عمل ہے لیکن شیعوں کے درمیان اتحاد سب سے اہم ہے۔ سنی مولانوں کو بُلا کر اپنے جلسوں میں لاکر ان سے اتحاد کرنے کی بجائے آپ متحد ہوجائیں تا کہ
آپ کی قوت باقی رہے۔ اندرونی اختلافات سے قوم ٹوٹ جاتی ہے، طاقت ضائع ہوجاتی ہے۔ جب آپ کمزور ہوجائیں گے تو کوئی آپ سے اتحاد کرنے کے لئے نہیں آتا بلکہ آپ کو ایک ایک شخص کے پاس جا کر التماس کرنا پڑتا ہے کہ ہم سے اتحاد کریں۔ پاکستان میں اتحاد بین المؤمنین کی اشد ضرورت ہے۔












