26

کینہ، بغض اور ناراضگی دل میں رکھنے سے گھروں میں بری فضا قائم رہتی ہے، حجۃ الاسلام شمسی پور

  • News cod : 39062
  • 26 اکتبر 2022 - 14:43
کینہ، بغض اور ناراضگی دل میں رکھنے سے گھروں میں بری فضا قائم رہتی ہے، حجۃ الاسلام شمسی پور
مرکز امور خانوادہ جامعۃ المصطفی کے مسئول حجت الاسلام و المسلمین شمسی پور مدرسہ الامام المنتظر کے شعبہ فرہنگی کی دعوت پر درس اخلاق کی مناسبت سے مدرسہ میں تشریف لائے اور مدرسہ کے طلاب کیلئے درس اخلاق دیا۔

فاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، مرکز امور خانوادہ جامعۃ المصطفی کے مسئول حجت الاسلام و المسلمین شمسی پور مدرسہ الامام المنتظر کے شعبہ فرہنگی کی دعوت پر درس اخلاق کی مناسبت سے مدرسہ میں تشریف لائے اور مدرسہ کے طلاب کیلئے درس اخلاق دیا۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں طلاب کو جس اہم نکتے کی طرف متوجہ کیا، طلاب کا اپنی فیملی کے ساتھ حسن برخورد سے پیش آنے کے متعلق تھا۔ حجت الاسلام شمسی پور کا کہنا تھا کہ حسن اخلاق سے گھروں کا ماحول بہترین اور خوشگوار بن سکتا ہے جبکہ کینہ، بغض اور ناراضگی دل میں رکھنے سے گھروں میں بری فضا قائم رہتی ہے۔ لہذا طلاب کو چاہیئے اپنے حسن اخلاق، گذشت، رحم دلی اور زندگی میں بہت سی برائیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے گھروں کی فضا کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

طلاب کے مسائل اور مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں طلاب کی نجی زندگی کے مسائل کا علم ہے جیسا کہ مالی مسائل، کھانے پینے کے مسائل، لباس اور بچوں کی ضروریات کے متعلق مسائل و غیرہ اور اس سلسلہ میں ہم اپنے تئیں بہت کوششیں کر رہے ہیں کہ طلاب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مساعدت کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالب علمی کی زندگی مشکلات سے ہمکنار ہے اور ممکن ہی نہیں کہ اس راستے میں مشکلات نہ ہوں؛ لیکن امام زمانہ(عج) کی نگاہ طلاب پر ضرور ہے اور ان کے فیوضات اور سرپرستی سے طلاب بہرہ مند ہوتے رہتے ہیں؛ اس سلسلے میں انہوں نے چند ایک واقعات کا تذکرہ بھی کیا کہ طالب علم پریشان تھا اور اس کی مشکل غیبی امداد سے برطرف ہوگئی۔

حجت الاسلام و المسلمین شمسی پور نے اپنی گفتگو میں ایک حدیث کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنے بچوں کو تین چیزوں کی تعلیم ضرور دیں: 1۔محبت پیامبر(ص) 2۔محبت ائمہ اطہار(ع) اور 3۔ تواضع اور خشوع۔

انہوں نے کہا کہ محبت پیامبر(ص) اور ائمہ اطہار(ص) اگر صحیح معنوں میں انسان کے اندر ڈالی جائے تو بقیہ امور خود بخود اس کے بعد ٹھیک ہو جائیں گے یعنی عمل صالح اس کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ بعض افراد بنیادی شیعہ عقائد میں ضعیف ہیں اور دلی طور پر عقائد ان کے اندر مضبوط نہیں ہیں جس کی وجہ سے شبہات کے مقابلے میں بسا اوقات کمزور پڑ جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے دینی عقائد کو مطالعہ کے ذریعے حاصل نہیں کیا ہوتا۔ جبکہ اگر کوئی شخص دلی طور پر مضبوط عقائد رکھتا ہو تو کسی بھی عقیدتی آندھی اور طوفان سے اس کے پاؤں نہیں پھسل سکتے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=39062