36

سندِ الشہادۃ العالمیہ کی اہمیت

  • News cod : 41613
  • 20 دسامبر 2022 - 8:34
سندِ الشہادۃ العالمیہ کی اہمیت
الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ و الاسلامیہ کے حامل فاضل طلباء و طالبات اس سند کے حصول کے بعد ناصرف امورِ شرعیہ بلکہ درجِ ذیل شعبہ جات سے بحیثیت شرعیہ اسکالر/عالمِ دین وابستہ ہو کر اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

سندِ الشہادۃ العالمیہ کی اہمیت

مولانا سیّد مظہر عباس زیدی

مقدّمہ:
درجِ زیل تحریر میں سندِ الشہادۃ العالمیہ کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس سند کے ذریعے حاصل ہونے والے مختلف شعبہ جاتِ زندگی میں دینی خدمت کے مواقعوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے تاکہ دینی مدارس کے طلّاب اس سند کو موثّر طور پر استعمال کریں تاکہ دینی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر استحکام حاصل کرسکیں۔
ابتدائیہ:
تعلیمی سند کسی بھی تعلیمی سفر کے کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کی علامت ہوا کرتی ہے اور اس سند ہی کی وجہ سے اس کے حامل کی تعلیمی حیثیت کو پہچانا جاتا ہے۔ جس طرح ایک ڈاکٹر، ایک وکیل کو اس کے تعلیمی سفر کے کامیاب اختتام پر حکومتی منظور شدہ اسناد ایم بی بی ایس، ایل ایل بی کی اسناد سے نوازا جاتا ہے اسہی طرح وطنِ عزیز پاکستان میں دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے دینی طلّاب کے لیے اس کامیابی کی علامت ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ سند الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ و الاسلامیہ ہے جو کہ بیک وقت دو مضامین اسلامیات اور عربی میں ماسٹرز (سولہ سالا تعلیم) کے مساوی ہے۔ اور فاضل طلبہ و طالبات کے لیے اس سند کے اجراء میں وفاق المدارس الشیعہ پاکستان انتہائی موثر، مفید اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ و الاسلامیہ کے حامل فاضل طلباء و طالبات اس سند کے حصول کے بعد ناصرف امورِ شرعیہ بلکہ درجِ ذیل شعبہ جات سے بحیثیت شرعیہ اسکالر/عالمِ دین وابستہ ہو کر اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ و الاسلامیہ کے فوائد:

1. شہادۃ العالمیہ اور تعلیمی میدان:
الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ و الاسلامیہ بیک وقت دو مضامین اسلامیات اور عربی میں ماسٹرز کے مساوی ہے اور اس سند کے حامل طلباء و طالبات ایچ ای سی سے بغیر کسی اضافی شفہی یا کتبی امتحان کے ماسٹرز ایکویلنس سرٹیفکٹ حاصل کرسکتے ہیں اور اسہی سند کی بنیاد کسی سرکاری یا نجی اسکولز، کالجز، اور یونیورسٹیز میں ان مضامین کے شعبہ تدریس و تحقیق سے وابستہ ہوسکتے ہیں نیز پاکستان بھر میں کسی بھی سرکاری یا نجی یونیورسٹی میں ایم فل عربی/اسلامیات میں داخلہ لے سکتے ہیں۔

2. شہادہ العالمیہ اور دیگر پیشہ وارانہ ادارے:
تقریبا ہر سال پاکستان نیوی میں نائب خطیب اور ریلیجیس موٹیویشنل آفیسرز کے عہدہ کے لیے مدارس کے فاضل طلباء و طالبات کو منتخب کیا جاتا ہے اور ان عہدوں کی مطوبہ تعلیم شہادۃ العالمیہ ہوتی ہے جسے عموما درس نظامی کہا جاتا ہے۔ اسہی طرح پاکستان ائیر فورس میں بھی ہر سال ریلیجیس ٹیچرز کو اسہی سند کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ دیگر حکومتی اور نجی اداروں میں بھی مثلا پاک آرمی، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں میں وقتا فوقتا دینی طلّاب کو بحیثیت پیش نماز، موذّن اور قاری الشہادۃ العالمیہ اور وفاق المدارس کی سندِ پیش نماز اور سندِ قرآت و تجوید کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔

3. شہادہ العالمیہ اور اسلامک فنانس انڈسٹری:
موجودہ روایتی مالیاتی نظام میں کئی حوالوں سے خرابیاں پائی جاتی ہیں مثلا سود، غرر، قمار اور دیگر مسائل جس کے پیشِ نظر علمائے اسلام نے اسلامی تعلیمات کے مطابق مالیاتی نظام کو پیش کرنے کی سعی کی ہے جس کو اسلامک فنانس یعنی اسلامی مالیاتی نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور الحمد للٰہ اب عالمی طور پر بھی مسلم و غیر مسلم ممالک میں اس نظام کو قبول کیا جارہا ہے اور یہ نظام تیزی سے ترقّی کر رہا ہے۔
اسلامک فنانس انڈسٹری کے ضمن میں کئی اسلامی مالیاتی ادارے جیسے:
اسلامک بینکنگ
اسلامک تکافل
اسلامک کیپیٹل مارکیٹ
ایکسٹرنل شریعہ آڈٹ اور
شریعہ ایڈوئزری سروسز شامل ہیں۔
اسلامی مالیاتی اداروں میں شرعی احکام کی پابندی اور شرعی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) اور سیکورٹی اینڈ ایکسچینگ کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے اسلامی مالیاتی اداروں کو بصورت شریعہ گورننس فریم ورک 2014 اور شریعہ ایڈوائزر ریگیولیشن ایکٹ 2017 کے تحت شرعیہ گورننس کو یقینی بنانے کے لیے کئی ہدایات جاری کی ہیں اور ان ہدایات کی رو سے اسلامی مالیاتی اداروں کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ تمام اسلامی مالیاتی اداروں میں ان ریگیولیشنز کے مطابق مطلوبہ تعلیم اور تجربہ رکھنے والے علماء پر مشتمل ایک مجلس شرعی ہونا ضروری ہے اور ناصرف مجلس شرعی بلکہ ان ہدایات کے ذریعے اسلامی مالیاتی اداروں کو ان کے مختلف ذیلی شعبہ جات مثلا شریعہ کمپلائنس، آڈٹ، پروڈکٹ ڈویلپمنٹ اور ٹریننگ ڈیپارٹمنٹز میں بھی شریعہ اسکالرز کو رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلامی مالیاتی اداروں سے بحیثیت شریعہ اسکالر وابستہ ہونے کی بنیادی تعلیمی شرط الشہادۃ العالمیہ اور اسلامک فنانس میں کوئی ڈپلومہ /سرٹیفیکٹ/ڈگری ہے۔ اس ہی ضرورت کے پیشِ نظر کئی سرکاری اور نجی یونیورسٹیز، مدارس اور تحقیقی ادارے اسلامک فنانس میں ڈپلومہ/سرٹیفیکٹ/ڈگری پروگرام کروا رہے ہیں جن میں انڈسٹری پروفیشنلز کے ساتھ ساتھ ان ادروں سے وابستہ شریعہ اسکالرز بھی بحیثییت محقق اور مدرس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لہذا مدارس کے طلباء طالبات اسلامی مالیاتی اداروں سے بحیثیت شریعہ اسکالر وابستہ ہو کر اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں اور تمام مواقعوں کے حصول کی بنیادی شرط الشہادۃ العالمیہ ہے۔

4. شہادہ العالمیہ اور حلال انڈسٹری:
آج اس ترقی یافتہ معاشرے میں جہاں انسانوں کی جگہ مشین نے لے لی ہے اور تقریبا ہر چیز چاہے وہ کھانے پینے کی ہو یا اوڑھنے پہننے کی یا پھر داخلی یا خارجی استعمال کی مثلا ادویات یا کاسمیٹکس سب ہی فیکٹری میں تیار کی جاتی ہیں اور ان میں اشیاء کی تیاری میں مختلف اجزائے ترکیبی کا استعمال کیا جاتا ہے اور ان اجزاء کو دنیا بھر کے مسلم و غیر مسلم ممالک سے درآمد کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان اشیاء کے استعمال میں حلال اور حرام، پاک و نجس کا شبہ بڑھ جاتا ہے لہذا اس ہی مشکل کے پیشِ نظر پاکستان میں بھی پاکستان حلال اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور حلال معیارات پی ایس 3733 کا اجراء کیا گیا ہے۔
ایسی تمام اشیاء میں حلال تصدیق کے لیے کئی مقامی اور عالمی حلال سرٹیفیکیشن بورڈیز اس حوالے سے اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان تمام سرٹیفیکیشن بورڈیز علماء کرام بحیثیت شرعیہ آڈیٹر، شرعیہ ایڈوائزر کے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
حلال انڈسٹری مندرجہ ذیل انڈسٹریز کو شامل رکھتی ہے:
*فوڈ اینڈ بیوریجس
*حلال کاسمیٹکس اینڈ پرسنل کئیر
*حلال میڈیسن
*حلال ٹورازم
*حلال آڈٹ، ایڈوئزری اینڈ سرٹیفیکیشن ۔
حلال انڈسٹری کی تیزی سے مقبولیت اور ترقی کی وجہ سے اب باقاعدہ اس نظام کو حلال اکانامی سے تعبیر کیا جاتا ۔ اس ہی ضرورت کے پیشِ نظر کئی سرکاری اور نجی یونیورسٹیز، مدارس اور تحقیقی ادارے فقہ الحلال میں ڈپلومہ/سرٹیفیکٹ/ڈگری پروگرام کروا رہے ہیں جن میں انڈسٹری پروفیشنلز کے ساتھ ساتھ ان ادروں سے وابستہ شریعہ اسکالرز بھی بحیثییت محقق اور مدرس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لہذا مدارس کے طلباء طالبات حلال آڈٹ، ایڈوئزری اینڈ سرٹیفیکیشن بورڈیز سے بحیثیت شریعہ آڈیٹر اور شرعیہ ایڈوائزر وابستہ ہو کر اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
ان اداروں سے بحیثیت شریعہ اسکالر وابستہ ہونے کی بنیادی تعلیمی شرط الشہادۃ العالمیہ اور فقہ الحلال میں کوئی ڈپلومہ /سرٹیفیکٹ/ڈگری ہے۔

5. شہادہ العالمیہ اور وفاقی شریعہ کورٹ:
اگر کوئی طالبِ علم الشہادۃ العالمیہ ، فقہ القضا ء میں تخصّص اور ایل ایل بی کر لے تو ایسا طالبِ علم وفاقی شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ – شریعہ ایپیلٹ بینچ میں بطورِ جج بھی اپنی خدمات انجام دے سکتا ہے۔

نوٹ: دینی مدارس کے طلّاب کے لیے ان مواقعوں کی جانب آگاہی اور ان کے حصول کے لیے فقہ جعفریہ کا واحد ادارہ الصادق انسٹیٹیوٹ آف اسلامک ایمرجنگ سائنسز فقہ الحلال، فقہ المعاملات المالیہ اور فقہ الاقضاء کے مختلف سرٹیفیکیشن اور اور ڈپلومہ کورسسز ، ٹریننگ سیشنز، کانفرنسز، سیمینارز اور ورکشاپرز کا وقتا فوقتا آن سائٹ اور آن لائن انعقاد کراتا ہے جس میں نا صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک سے بھی دینی طلّاب شرکت کرتے ہیں۔ وہ طلّاب جو الصادق انسٹیٹیوٹ آف اسلامک ایمرجنگ سائنسز میں داخلہ لینا چاہتے ہوں وہ الصادق کی ویب سائٹ کو وزٹ کر سکتے ہیں یا پھر مولانا سیّد مظہر عباس زیدی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=41613