1

امام محمد باقر علیہ السلام اور علم کی شکوفایی

  • News cod : 43246
  • 24 ژانویه 2023 - 19:41
امام محمد باقر علیہ السلام اور علم کی شکوفایی
امام باقر علیہ السلام سے احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ منقول ہے ایک حدیث میں امام فرماتے ہیں تعلموا العلم فإن تعلمه حسنة و طلبه عبادة علم حاصل کریں کیونکہ علم حاصل کرنے پر جزائے نیک ہے اور اس کی جستجو عبادت ہے وہ امام جس نے اپنی پوری زندگی علم پر صرف کردی تو ان کا یہ جملہ ان کی اہمیت کو بیان کررہا ہے ایک اہل سنت کے عالم کا کہنا ہے کہ امام باقر علیہ السلام کی وجہ سے قیامت تک ان کی علمی حیثیت کی وجہ سے قریش پر ان کی برتری ثابت رہے گی

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق،مدرسہ امام المنتظر قم ایران میں جشن ولادت با سعادت امام محمد باقر علیہ السلام کی مناسبت سے جشن رکھا گیا اس جشن کے خطیب حجۃ الاسلام ڈاکٹر حسین نجفی نے کہا کہ آئمہ علیہم السلام کی ولادت و شہادت کے ایام ایام اللہ ہیں اور ایک ملت و قوم کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں ایران میں اس قدر آرامش کیوں پائی جاتی ہے حالانکہ دیگر ممالک خصوصاً پاکستان میں یہ آرامش نہیں پائی جاتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں میں دینداری اور اہل بیت علیہم السلام سے محبت پائی جاتی ہے لیکن باقی جگہوں پر لقلقہ لسانی ہے ایران میں انہی ایام ولادت و شہادت کے ذریعے لوگوں کو تربیت کیا گیا ہے اور یہاں ہر سرکاری ادارے میں ایک فرھنگی شعبہ ہوتا ہے جس کا کام انہی ایام ولادت و شہادت میں لوگوں کو اس دن کی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے لیکن دیگر ممالک میں خصوصاً پاکستان میں فرھنگی کام ناپید ہے ہمیں پاکستانی جوانوں پر کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام باقر علیہ السلام کو دینی و علمی لحاظ سے بانی کہنا غلط نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دین کی جزئیات بتانے کا وقت نہیں ملا اور بعد کے آئمہ علیہم السلام کے سیاسی حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ جزئیات کو بیان کرسکتے اس وجہ سے خلط پایا جاتا ہے کہ مذہب جعفری کہاں سے شروع ہوا امام باقر علیہ السلام کو باقر کا لقب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب جابر سے منقول شدہ حدیث میں دیا اور فرمایا کہ میری نسل سے ایسا بچہ پیدا ہوگا کہ جو علم کے ایسے ایسے دروازے کھولے گا کہ دنیا حیران ہوجائے گی امام علیہ السلام کے دور سے پہلے کے سیاسی حالات ایسے تھے کہ جن میں ایک طرف حدیث پر پابندی لگی ہوئی تھی اور دوسری طرف جنگیں اور فتوحات کا سلسلہ جاری تھا لیکن جب عمر بن عبد العزیز کے دور میں حدیث پر پابندی ختم ہوئی اور لوگوں نے دین کی رجوع کیا تو دیکھا کہ امام باقر علیہ السلام کے دروازے کے علاوہ کوئی ایسا دروازہ موجود نہیں ہے کہ جو قال رسول اللہ کہتا ہو اس وقت اہل سنت کے ایک عالم سے کسی نے پوچھا کہ آپ کیوں اس دروازے پر آتے ہیں تو اس نے کہا کہ کیسے نہ آؤں ان کے پاس رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول شدہ تیس ہزار احادیث مکتوب شکل میں موجود ہیں ہمارا افتخار ہے کہ خدا نے ہمیں ایسے رہبر عطا کئے کہ جو سچے اور سُچے ہیں گناہ تو دور ان سے کسی غلطی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے حتی دیگر مسالک کے لوگ بھی ان کے تقوی و علمی مقام کے معترف ہیں۔

امام باقر علیہ السلام سے احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ منقول ہے ایک حدیث میں امام فرماتے ہیں تعلموا العلم فإن تعلمه حسنة و طلبه عبادة علم حاصل کریں کیونکہ علم حاصل کرنے پر جزائے نیک ہے اور اس کی جستجو عبادت ہے وہ امام جس نے اپنی پوری زندگی علم پر صرف کردی تو ان کا یہ جملہ ان کی اہمیت کو بیان کررہا ہے ایک اہل سنت کے عالم کا کہنا ہے کہ امام باقر علیہ السلام کی وجہ سے قیامت تک ان کی علمی حیثیت کی وجہ سے قریش پر ان کی برتری ثابت رہے گی اہل سنت کے بہت سے بزرگان امام کی علمی حیثیت کے معترف ہیں اور اگر ان افراد کی ایک لسٹ بنائی جائے تو وہ کافی طولانی بنے گی بعض لوگ جناب زہرا سلام اللہ علیہا کے علمی مقام کے حوالے سے اشکال کرتے ہیں کہ صحیح بخاری میں ان سے منقول شدہ احادیث کی تعداد فقط تین ہے حالانکہ دیگر تاریخی شخصیات کی بے شمار احادیثیں منقول ہیں کہ جن میں فقہی مسائل کو بیان کیا گیا ہے تو شیعہ کے بزرگ عالم دین عقیل غروی اس بارے میں فرماتے ہیں کہ عام معمولی کتابیں ہر گلی اور ہر کتابخانہ میں ہمیں بے شمار نظر آتی ہیں کہ جن سے ہر عام و خاص استفادہ کرتا ہے لیکن اگر کوئی بزرگ شخصیت کتاب لکھے تو اس کی کتاب فقط خاص کتابخانوں میں نظر آتی ہیں اور فقط خواص ان سے استفادہ کرسکتے ہیں تو جناب زہرا سلام اللہ علیہا کا علمی مقام اس قدر بلند ہے کہ ان کے علم سے ہر کوئی استفادہ نہیں کرسکتا بلکہ فقط خواص ان سے استفادہ کرسکتے ہیں یعنی ان کی کتابیں مرجع ہیں اور امام باقر علیہ السلام و امام صادق علیہ السلام جیسی شخصیات سے جب پوچھا جاتا کہ یہ مسئلہ آپ کہاں سے بیان کررہے ہیں تو فرماتے ہم جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی کتاب سے استفادہ کرتے ہیں یعنی جناب زہرا سلام اللہ علیہا کا علمی مقام یہ ہے کہ فقط معصومین حضرات ہی ان کی کتابوں سے استفادہ کرسکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ ایک حدیث میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عالم و متعلم یعنی استاد و شاگرد دونوں کے لئے معنوی اجر و ثواب ہے لیکن معلم کا ثواب زیادہ ہے اور اگر معلم اپنا علم دوسروں کو دیتا رہے تو اس کے علم میں اضافہ ہوگا لیکن اگر وہ اپنا علم چھپائے تو اس کی مقام ومنزلت و علم سب کچھ اس سے چھین لیا جائے گا علم سے مراد ہمارے ذہنوں میں فزکس و سائنس و فقہ و دیگر علوم ہیں حالانکہ علم کا دائرہ وسیع ہے ہدایت بھی علم کے زمرے میں آتی ہے کہ جو ہدایت دینے اور لینے دونوں کے اجر ثواب کا باعث بنتی ہے

ایک روایت میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اقدار اور ویلیوز کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن ان پر عمل نظر نہیں آتا جیسے ایک روایت میں ہے کہ عالم خود جہنم میں ہوگا اور عام لوگ جنت میں چلے جائیں گے تو وہ لوگ پوچھیں گے کہ ایسا کیوں ہے تو جواب دے گا کہ میں اپنے علم پر عمل نہیں کرتا تھا لیکن تم سب میری بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرتے تھے
پس ہمیں لسانی مسلمان سے عقیدتی مسلمان بننے کی طرف منتقل ہونا ہوگا تاکہ حقیقی و سچے پیروکار بن سکیں

علم کی مانند جہالت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو جتنا بھی چھپایا جائے وہ اتنی زیادہ واضح ہوتی ہے اور چھپانے والے کو اتنا ہی زیادہ رسوا کرتی ہے اور پاکستان میں جو بل پیش ہوا ہے اسی کا ایک نمونہ ہے پس ہمیں علم کے ساتھ ساتھ تربیت کی بھی ضرورت ہے ورنہ امام خمینی کے بقول علم بغیر تذکیہ کے حجاب اکبر ہے

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=43246